لاہور سمیت پنجاب بھر میں احمدیوں پر نئے مقدمات، انتظامیہ کی ملی بھگت، 8 عبادت گاہیں بھی سیل

گذشتہ ایک ماہ میں کم از کم 33 مقامات پر انتہا پسندوں نے احمدیوں کو جمعہ کی عبادت سے روکنے کی کوشش کی۔ انتہا پسند عناصر کی کوشش ہے کہ احمدی جمعہ کی عبادت نہ کر سکیں اور ان کی عبادت گاہوں کو سیل کر دیا جائے,گذشتہ کچھ عرصہ میں ایسے ہی مطالبات پر انتظامیہ نے 8 عبادت گاہوں کو تالہ لگایا ہے

05:46 AM, 24 Mar, 2025

نیوز ڈیسک

اسلام پورہ لاہور اور رائے ونڈ سٹی تھانہ لاہور میں درجنوں احمدیوں کے خلاف جمعہ کی عبادت کرنے کے الزام پر گذشتہ روز 21 مارچ کو دو مقدمات درج کر لیے گئے۔ دوسری جانب پنجاب کےمختلف علاقوں سے انتہا پسند عناصر احمدیوں کی عبادتگاہوں کا گھیراؤ کر کے مسلسل اشتعال انگیزی کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ گذشتہ روز امین پور بازار فیصل آباد میں جمعہ کی عبادت کے لئے آنے والے ایک احمدی کو انتہا پسندوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ نیز کرتار پور فیصل آباد، نصیرہ ضلع گجرات، پیرو چک ضلع سیالکوٹ اور دیگر مقامات پر احمدی عبادت گاہوں کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی گئی۔

گذشتہ ایک ماہ میں کم از کم 33 مقامات پر انتہا پسندوں نے احمدیوں کو جمعہ کی عبادت سے روکنے کی کوشش کی۔ انتہا پسند عناصر کی کوشش ہے کہ احمدی جمعہ کی عبادت نہ کر سکیں اور ان کی عبادت گاہوں کو سیل کر دیا جائے۔

گذشتہ کچھ عرصہ میں ایسے ہی مطالبات پر انتظامیہ نے 8 عبادت گاہوں کو تالہ لگایا ہے۔ قبل ازیں 28 فروری کو ڈسکہ اور بھاگٹانوالہ ضلع سرگودھا اور 7 مارچ کو سرجانی ٹاون کراچی میں 75 سے زائد احمدیوں کے خلاف جمعہ کو عبادت کرنے پر مقدمات درج کرائے جا چکے ہیں، جن میں 28 احمدیوں کو گرفتار کیا گیا۔

ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان عامر محمود نے جمعہ کی عبادت کرنے کے الزام پر احمدیوں کے خلاف گذشتہ روز لاہور کے دو تھانوں میں مقدمات درج ہونے پر کہا ہے کہ احمدیوں کو اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے سے روکنے کے لئے انتہا پسندوں کی اشتعال انگیز کارروائیاں قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 20 ہر پاکستانی شہری کو اپنے عقیدہ کے مطابق اس پر عمل کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پر امن اور محب وطن احمدیوں کو عبادت کرنے سے روکنے کے لئے شر پسند عناصر کی کارروائیوں سے وطن عزیز کے مثبت تاثر کو مسلسل ٹھیس پہنچ رہی ہے۔

ترجمان نے اہل وطن اور ذمہ دار ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ انتہا پسندوں کی متعصبانہ سوچ کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی احمدیوں کے انسانی حقوق کو یقینی بنایا جائے اور ایسے مقدمات کو میرٹ پر خارج کرتے ہوئے بے گناہ احمدیوں کو فوری رہا کیا جائے۔

مزیدخبریں