کراچی پریس کلب پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کا احتجاج ، دفعہ 144 نافذ

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کی جانب سے کراچی پریس کلب ( کے پی سی ) پر احتجاج کے اعلان کے پیش نظر پیر کے روز پریس کلب کے اطراف سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کردی گئیں,عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کے لیے ٹریفک ہیلپ لائن 1915 پر کال کریں

06:23 AM, 24 Mar, 2025

نیوز ڈیسک

کراچی پریس کلب پر بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کے احتجاج کے اعلان کے بعد کلب کے اطراف کی سڑکیں بند کردی گئیں، شہر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جبکہ پریس کلب پر بی وائی سی کے خلاف بھی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

نیادور کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کی جانب سے کراچی پریس کلب ( کے پی سی ) پر احتجاج کے اعلان کے پیش نظر پیر کے روز پریس کلب کے اطراف سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کردی گئیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے کلیدی رہنماؤں کی ’غیر قانونی حراست‘ کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاج کا اعلان کیا تھا، جن میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں جنہیں ہفتے کے روز 16 دیگر کارکنوں کے ساتھ کوئٹہ میں ان کے احتجاجی کیمپ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے ایک دن قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس کے ایکشن کی وجہ سے تین مظاہرین ہلاک ہو گئے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کے حامی احتجاج کے لیے کراچی پریس کلب پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے تو انہیں فوارہ چوک پر پولیس نے روک لیا، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی مزاحمت کی۔

موقع سے موصول ہونے والی پولیس نے سمی دین بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے حامیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ٹریفک پولیس کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ ایکس ’ پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق دین محمد وفائی روڈ سے ایم آر کیانی چورنگی سے فوارہ چوک تک دونوں سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہیں، بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مقامی پولیس نے سکیورٹی کی وجہ سے سڑک بند کر دی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایم آر کیانی چورنگی سے کورٹ روڈ، تھانہ گلی سے سرور شہید روڈ اور فوارہ چوک سے زینب مارکیٹ تک متبادل ٹریفک راستے بنائے گئے ہیں۔

عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کے لیے ٹریفک ہیلپ لائن 1915 پر کال کریں۔

ایکس پر ایک پوسٹ کے مطابق، کراچی میں بی وائی سی کا احتجاج شام 4 بجے شیڈول ہے اور اسے سول سوسائٹی کے ممبران کے تعاون سے منظم کیا جا رہا ہے، جبکہ کوئٹہ میں احتجاج دوپہر 12 بجے شیڈول تھا۔

دوسری طرف، کے پی سی کے باہر ایک جوابی احتجاج کیا جا رہا ہے، جس میں شرکاء ایسے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے ہیں جن پر ’را سے تعلق: بی ایل اے اور بی وائی سی‘ لکھا ہوا ہے، جس میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ اور کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا حوالہ دیا گیا ہے۔

کراچی صدر کے علاقے زینب مارکیٹ کے قریب فوارہ چوک پر مسلح افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک اور مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے، احتجاج کی ویڈیوز میں مظاہرین کو بی وائی سی قیادت کے ساتھ ساتھ بی ایل اے کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

دریں اثنا بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی زون کے ترجمان نے کہا ہے کہ چند لمحوں میں ہمارا احتجاج ہونے والا ہے اور اس وقت سندھ پولیس کی ایک بہت بڑی نفری کراچی پریس کلب کے سامنے موجود ہے اور ہمارے جو دوست آ رہے ہیں ان کو گرفتار کر رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق اس حوالے سے ہم دوستوں کو کہنا چاہ رہے ہیں کہ وہ اکیلے یا دو تین ہوکر پریس کلب نہ جائیں ، ہم پہنچ کر اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

کراچی میں دفعہ 144 نافذ
حکومت سندھ نے کراچی ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہے، اس دوران جلسے جلوسوں، دھرنوں اور پانچ افراد سے زیادہ کے اجتماع پر پابندی ہوگی۔

نیادور کے مطابق کمشنر کراچی ڈویژن کے دستخط سے 24 مارچ کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی رینج کی درخواست پر کمشنر نے کراچی ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر 5 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔

اس دوران ہر قسم کے احتجاج، مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں اور پانچ افراد سے زیادہ کے اجتماع پر پابندی ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق 24 مارچ سے ہوگیا ہے اور یہ پابندی 28 مارچ تک نافذ رہے گی، نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اختیار متعلقہ تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر ( ایس ایچ او ) کو ہوگا۔

مزیدخبریں