Type to search

تجزیہ تعلیم فيچرڈ

طلبہ یکجہتی مارچ: امید کی کرن؟

  • 936
    Shares

تعلیمی اداروں میں بے چینی کی ایک لہر ہے اور طلبہ تحریک سے وابستہ تنظیمیں 29 نومبر کو ملک گیر احتجاج کے لیے اکھٹی ہو رہی ہیں۔ اس احتجاج کو ’طلبہ یکجہتی مارچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس تحریک کے بنیادی مطالبات میں پاکستان میں طلبہ یونینوں پر پابندی کا خاتمہ اور قومی سطح پر ان کے انتخابات ہیں۔ یہ تحریک تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف اور مفت تعلیم کے حق میں ہے۔

نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں سکیورٹی فورسز کی مداخلت بند کی جائے اور یونیورسٹیوں اور کالجوں میں قوم، زبان، صنف یا مذہب کی بنیاد پر تعصب اور نوجوانوں کو ہراساں کرنا بند کیا جائے۔

کیا ان میں سے کوئی ایک مطالبہ ایسا ہے کہ جس کی بنیاد پر کسی کی ملک سے وفاداری مشکوک ہو جائے، ہرگز نہیں۔

 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزاد عورت ہمارامسئلہ کیوں بن جاتا ہے۔ نعروں سے اختلاف سہی آپ رکھیں ۔ انداز سے بھی اختلاف رکھیں،بات تو سن لیں۔ طلبإ یہ کہہ رہے ہیں کہ یکساں نظام تعلیم ہونا چاہیے جو طبقاتی نظام کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ اس میں غلط کیا ہے؟ یہ تو ریاست کے کرنے کے کام ہیں۔ آپ نہیں کر رہے ۔آپ کا کام کوئی اور کرنا چاہتا ہے لیکن پھر بھی مسئلہ ہے۔

طلبإ کے سیاست میں آنے سے شعور ہی آئے گا نا۔ آپ سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیموں کو مہاہدین بھی توبناتے ہی رہے ہو یہ مسلح جدوجہد تو نہیں کرنے لگے پھر اتنے کیوں مضطرب ہو؟

سوشل سائنسز کا پروفیسر اگر اپنا سبجیکٹ ایماندری سے پڑھائے تو اسے نوکری سے فارغ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

آج متوسط طبقے کا نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔ وہ حالات کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور اس سارے نظام کو انصاف کے ترازوں میں تولنے کا خواہاں تاکہ اس کا کل آج سے بہتر ہو۔ یہ سوچ کوئی گناہ تو نہیں۔

یا کہہ دیں کہ کوئی مسئلہ نہیں۔ سب اچھا ہے اگر نہیں تو پھر مانیں کہ جہاں مسائل ہونگے ردعمل آنا فطری بات ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام مکمل طور پر استحصالی ہے، آج کوئی مڈل کلاس اپنے بچے کو اچھی تعلیم نہیں دلا سکتا، پیسے ہیں تو ڈاکٹر بن جائیں انجینئر بن جائیں۔ ایک طالبعلم کو اچھی کتاب خریدنے کے لیے پورے مہینے کا بجٹ ڈسٹرب کرنا پڑتا ہے۔

تعلیمی ادارے 20، 20 لاکھ میں ڈگریاں کرا رہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، استحصال طلبہ کا ہورہا تو احتجاج بھی انہوں نے ہی کرنا ہے۔ کیا طالبعلموں کے حقوق کے لیے رکشہ یونین یا ٹریڈ یونین نکلے گی۔ نجی تعلیمی ادارے چلانے والوں نے اتنا نوٹ کما لیا کہ آج چینلوں کے مالک ہے، کیا ان سے امید رکھی جائے گی کہ طلبہ کے حقوق کی بات کریں، وہ کیوں کرنے لگے۔

تعلیم سب کا حق ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے، تعلیم کوئی کاروبار نہیں۔

طلبإ تحریکوں کا ایک خاصہ رہا ہے کہ یہ عدم تشدد پر مبنی ہوتی ہیں۔ بس تھوڑی گنجاٸش دیں تبدیلی یہیں سے آٸے گی۔

 

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *