Type to search

تجزیہ حقوقِ نسواں خواتین معاشرہ

کاش! میں آپ کو والدین ہونے سے برخاست کر سکتی

جب سے ہوش سنبھالی لوگوں کو میرے سے بڑے شکوے رہے ہیں۔ بچپن میں امی کو لگتا تھا، میں چیزیں اچھے سے نہیں سمیٹی۔ ابا کی مرضی کے مطابق کبھی امتحان میں کامیابی نہ حاصل کر سکی۔ خود بھی اپنے آپ سے گلے ہی کرتی رہی ہوں کہ اتنا کیوں منفی سوچتی ہوں؟ اتنی بزدل کیوں ہوں؟ اور تو اور اپنا غصہ تک اچھے سے نکالنا نہیں آتا۔ جہاں سامنے والے کو چار سنانے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں بھی چھپ کے رونے کو کیوں بہتر سمجھتی ہوں؟

خیر ایک لامتناہی سلسلہ تھا لوگوں کے، اور میرے خود کے ساتھ گلوں شکوؤں کا۔

مگر جب ایک دن کسی کام سے اَبا کے دفتر جانا ہوا اور وہاں ان کو ایک صاحب کو نوکری سے یہ کہہ کر برخاست کرتے ہوئے دیکھا۔”نا تو تمہارے پاس مطلوبہ تعلیم تھی نہ تجربہ، میرا احسان تھا جو پھر بھی تمہیں یہ موقع دیا اور تم بجائے دن رات ایک کر کے خود کو اس کام کے لیے اہل ثابت کرتے، حد کر دی لاپرواہی کی۔ کون بھرے گا اب تمھاری غلطی سے ہونے والا نقصان؟  دس لوگوں میں شرمندہ کروا دیا، چلو حساب کرو اپنا اور چلتے بنو“

ابا تو یہ سب کہہ کر اپنے کمرے میں واپس چلے گئے مگر میں اس سوچ میں ڈوب گئی کہ میرا نقصان کون بھرے گا؟  میرے اندر موجود ڈر کون نکالے گا ؟میری تربیت کی کمی کون پوری کرے گا؟

اس دن ‘’رات کو پہلی بار میں نے خود کو نہیں اپنے والدین کو بلکہ ان کے والدین تک کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔‘ آپ کو میں بہت بدتمیز لگ رہی ہوں نا مگر ایک بار زرا ماضی میں جھانکیں تو سہی میرے ساتھ۔ پھر مجھے بےشک کٹہرے میں لے آئیں مگر ابھی نہیں، آج نہیں‘ آج ان کی باری ہے یہاں آنے کی۔

آج ان کی باری مجھے’میں ‘، بنانے میں اپنے حصے کی لاپرواہی، غلطی یا نااہلی پر اپنے حصے کی وضاحت دینے کی۔

آپ کو پتہ ہے میرے اس دنیا میں آنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ میرے والدین کو میں چاہیے تھی۔ ان کو والدین بننا تھا۔ میں تو اس لیے آئی اس دنیا میں کیوں کہ نانا ، نانی کو اپنی جوان ہوتی بیٹی کو کہیں ٹھکانے لگانا تھا ۔ جبکہ دادا ، دادی کو گھر سنبھالنے اور بیٹے کو بے راہروی سے بچانے کے لیے انہیں ایک خوش شکل اچھے خاندان اور سلجھی ہوئی عادت کی بہو چاہیے تھی۔

نہ تو ابا نے اپنے لیے ایک ایسی ساتھی ڈھونڈی جس کے ساتھ وہ اپنی ذات کا ہر حصہ بانٹنا چاہتے تھے۔ نہ ہی ابا کا وجود اماں کو ان کے ہونے کا احساس دلاتا تھا۔ تو ایک دوسرے کے ساتھ اپنی روحوں کو بانٹ کر، اپنے دل کی گہرائی سے ایک نئی جان کی تخلیق۔ یہ تو بات ہی بہت مشکل اور کتابی سی تھی ان کے لیے۔

سیدھا سادہ سا اپنے اپنے ماں باپ کو خوش کرنے اور جسمانی ضروریات کو عزت سے پورا کرنے کا معاہدہ تھا اور اس معاہدے کی ایک اضافی شق تھی میں۔

شادی ہوئی ہے تو اب بچے تو ہونے ہی چاہیے۔ یہ تھی میرے والدین کے بڑوں اور میرے معاشرے کی سوچ۔ آج تک کسی نے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ شادی کا مقصد کسی کے ساتھ کی خواہش بھی تو ہو سکتی ہے۔

اماں ابا نے بھی نہ سوچا کہ والدین بننا ایک ٹیم ورک ہے۔ کیا ہم دونوں مل کے چل سکتے ہیں یا نہیں۔ ہم ایک ساتھ اتنے خوش ہیں کہ ایک اچھا ماحول اپنے گھر میں آنے والی ننھی جان کو دے سکیں۔ اپنے بیچ بننے والے اس نئے رشتے کو سلجھائے بنا ہی مجھے اس رشتے میں لے آئے۔

یہ جانے بنا کہ وہ آپس کے رشتے کا بوجھ اٹھا بھی پائیں گے ۔ ایک دوسرے کو ساری عمر جھیل بھی پائیں گے صرف والدین کی خوشی اور معاشرے کے مروجہ نظام ( شادی کا مطلب بچے ) کی وجہ سے ‘مجھے اس دنیا میں لے آئے۔

اور پھر جانے والدین کے ساتھ یہ کیا مسئلہ ہے کہ کبھی ماننا نہیں کہ یہ کام ہمارے بس کا نہیں ہے۔ جب ہر انسان ہر کام نہیں کر سکتا تو ہر کوئی والدین کیسے بن سکتا ہے؟ کبھی اماں نے ہی سوچا ہوتا کہ دو منٹ کے لیے ایک ہنستے بچے کے گال کھینچنا اور بات ہے اور چوبیس گھنٹے اس کو سنبھالنا اور بات۔

کسی بھی رشتے دار کا بیمار، روتا بچہ دو گھنٹہ رکھ کر ایک تجربہ ہی کر لیا ہوتا۔ ایک رات جاگ کر ہی دیکھ لیا ہوتا۔

کتنی بار بچپن میں، انتہائی مناسب ماں ہونے کے باوجود امی نے جھنجھلا کر بلا وجہ میرے دو لگا دیں، کبھی کام، کبھی ابا، تو کبھی کسی بھی دوسرے انسان کا غصہ مجھ پر نکال دیا اور پھر یہ سوال کرنے کی بھی اجازت نہ دی کہ مجھے کیوں مارا ہے؟  اس سوال کے دو ہی جواب تھے، چپ کرو بدتمیز یا کوئی ایسی غلطی بتائی جاتی جو مجھے اور اماں دونوں کو علم ہوتا تھا کہ یہ غلطی تھپڑ لگانے کے بعد تخلیق کی گئی ہے۔

اس طرح آپ انجانے میں مجھے زیادتی کو چپ چاپ سہنا سکھاتی گئیں۔ اماں! آپ نے مجھے کیوں مارا کا جواب غصے بھری خاموشی سے دے کر اپ نے مجھ سے سوال کرنے کی ہمت چھین لی۔

ابا کو پتہ ہی نہیں کہ صرف اچھے رزلٹ پر ہی میرا بیٹا نہیں کہتے۔ جب کوئی غلطی ہو جائے تو بھی سینے سے لگاتے ہیں۔ ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ ہر بار ان کے غصے کی وجہ سے اپنے اندر کی بات اپنے اندر رکھتے، رکھتے میں بولنا بھول گئی۔

میں مانتی ہوں کہ”آپ صرف شادی کرنی ہے تو کر لو، کہہ کر اس رشتے میں بندھے اور اپنی اہلیت جانے بنا والدین بنے مگر جب ایک بار میں آپ کے گلے پڑ ہی گئی تھی تب تو والدین بننے کے لیے پوری کوشش کرنی تھی “

معاشرے کے اصولوں سے زیادہ میرے ساتھ اپنے رشتے کو نبھانا تھا۔ مجھے سر جھکانے کی بجائے سر اٹھا کے جینا سکھانا تھا۔ میرے اندر لوگوں کی رائے سے ڈرنے کی بجائے خود اعتمادی بھرنی تھی۔  مجھے پہلے اپنا پھر شوہر کا محتاج کرنے کی بجائے، اپنے حصے کا رزق اور احترام کمانا سکھانا تھا۔ مجھے گھر بسانے کے لیے گالی سہنے کی بجائے، ایسا گھر توڑنے کی سیکھ دینی تھی جس کی بنیاد میں میری عزت نفس دفن کی گئی ہو۔

مجھے لوگوں کیا کہیں گے کہ ڈرسے اپنے خول میں سمیٹنے کی بجائے اپنے آسمان میں اڑنا سکھانا تھا۔

آپ کو پتہ ہے اما، ابا آپ نے مجھے وہ بنا دیا ہے جس کی وجہ سے میں خود سے بھی شرمندہ ہوں- تعلیم ہونے کے باوجود اپنی عزت تک کے مفہوم سے ناآشنا، ہنر ہونے کے باوجود شوہر کی محتاج، شعور ہونے کے باوجود صیح کو صیح اور غلط کو غلط کہنے کی ہمت سے محرو ، چھوٹے چھوٹے کام کے لیے ہاتھ پاؤں ہوتے ہوئے بھی اولاد کی محتاج۔

ابا آپ لگتا ہے اپ کے زمانے میں ایسے ہوتا تھا تو اب بھی یہی جائز ہے اور اماں کو لگتا ہے کہ ان کی ماں نے ایسے زندگی گزاری تھی، اس لیے ان کو اور انکی بیٹیوں کو بھی ایسے ہی گزارنی چاہیے۔

کیا وقت نہیں بدلا اس کے تقاضے نہیں بدلے۔ جب آپ اپنی فیکٹری میں آج سے دس سال پہلے بننے والی چیز آج اسی حالت میں نہیں بنا رہے کہ اب اس میں تبدیلی ضروری ہے تو ہمیں کیوں سالوں پرانے سانچے پر بنانا اور انہی اصولوں پر چلانا چاہتے ہیں۔

اماں، ابا نہ تو والدین بننے کی اہلیت کو آپ نے پہلے جانچا نہ زندگی کے ناکام تجربوں کو دہرانے سے گریزاں ہیں۔ آج بھی آپا کو گزارا ہی کرنا ہے۔ بھائی کو کاروبار ہی سنبھالنا ہے اور مجھے اپنی ڈگری کو اونچی جگہ کسی صحیفے کی طرح سنبھال کر گول روٹی بنانے میں اپنا آپ ختم کرنا ہے۔ اور پھر ایک دن اپنی خود کی اہلیت جانچے بنا والدین بننا ہے۔ ایسا مت کیجیے۔ اور نہ ہمیں یہ کرنے پر مجبور کیجیے ورنہ ہم اس دور میں پرانی اور متروکہ دور کی یادگار لگیں گے۔

سنا ہے رشتے کاروبار نہیں ہوتے مگر، اگر کسی رشتے کو دل کی بجائے سماجی ضروریات کے لیے ہی بنانا ہے تو کچھ تو کاروبار سے سیکھیں۔ کچھ رشتے قدرت آپ کو دیتی ہے ان کو نبھانا ضروری ہے مگر ایک نیا بننے والا رشتہ تو کسی سوچے سمجھے طریقے سے ہی بننا چاہیے نا۔

اس رشتے کی ذمہ داریوں کو سامنے رکھ کر بچوں کی اس رشتے کو نبھا پانے کی اہلیت کو جانچنے کی کوشش کی جانی چاہیے ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آیا بچے یہ ذمہ داری اٹھانا بھی چاہتے ہیں یا نہیں ۔

شادی اور والدین بننا دو الگ الگ چیزیں ہیں، ان کو لازم وملزوم نہیں کیا جانا چاہیے۔ شادی کے بعد ان دونوں کو فیصلہ کرنے دیں کہ وہ اب اس رشتے میں ایک اور رشتہ شامل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہ ایک سوچ سمجھ کر کیا ہوا فیصلہ ہونا چاہیے نا کہ شادی کا ضروری جزو۔

والدین تب بنیں جب آپ کو والدین بننے کی خواہش ہو۔ شادی کے ساتھ مفت میں ملنے والی اضافی ذمہ داری نہ ہو یہ۔ اور وہی شخص اس ذمہ داری کو لے جو اس کو اٹھانے کا اہل ہو تاکہ کل کو بچے یہ نہ سوچیں کہ اب ہماری ذات کا نقصان کون پورا کرے گا۔ جانے انجانے میں روح پر لگے گھاؤ کون بھرے گا؟

جیسے آج میں سوچ رہی ہوں کہ کاش میں نے اپنے والدین کو وقت پر والدین بنے سے روک دیا ہوتا۔ ان کو وقت رہتے اس ملازمت سے برخاست کر دیا ہوتا۔  تاکہ آج میں، میں ہوتی۔ اپنی ماں کی اچھی تربیت کی بے زبان ٹرافی نہ ہوتی اور بھائی، بھائی ہوتا اَبا کا پینشن پلان نہ ہوتا۔

آج جب میں خود کو زندگی کو بوجھ کی طرح ڈھوتے دیکھتی ہوں  اور خود کو اس بوجھ کو پھر سے زندگی میں بدل پانے کی ہمت سے محروم پاتی ہوں۔ جب آپا کو سسک سسک کے مردہ لاش بنے دن گزارتے دیکھتی ہوں اور بھائی کو ایک کوہلو کے بیل کی طرح ان چاہے راستوں پر سفر کرتے پاتی ہوں تو بلکل ابا کی طرح میرا بھی چلا کر ان کو والدین ہونے سے برخاست کرنے کو دل کرتا ہے۔ ان سے سوال کرنے کو دل کرتا ہے کہ آپ کی نااہلی کا نقصان، یہ ادھوری سی ہم سب بہن بھائیوں کی ذات، یہ معاشرے کے بلا وجہ کے ڈر کون نکالے گا۔ کون پورا کرے گا یہ نقصان؟

اماں ابا آپ بھی نااہل تھے، اس ذمہ داری کے لیے اور پھر بھی جب قدرت نے آپ کو یہ سونپی تو آپ نے ذرا دل سے کوشش نہ کی اس کو نبھانے کی۔ آپ والدین نہیں بس اس معاشرے کے اچھے افراد بننے میں اپنی طاقت ضائع کرتے رہے اور ہمیں جانے کب کھو دیا۔

ابا آپ نے ہی نہیں بلکہ ہم سب بہن بھائیوں نے ہی خود کو کہیں کھو دیا۔ کچھ ہنستے مسکراتے چہرے کچھ کھلکھلاتی زندگیاں اپنی نااہلی سے بنجر کر کے اب سارا الزام قسمت پر مت دھریں۔ آج ہمیں بھی یہ حق دیں کہ اس کارکردگی پر، اس کبھی نہ پورا ہو پانے والے نقصان پر اور کچھ نہ سہی آپ کو والدین ہونے سے ہی برخاست کر سکیں۔ کہ شاید اس سے آپ سے کوئی اور نااہل والدین سبق سیکھ سکیں، کوئی اپنی کارکردگی کو بہتر بنا لے، کوئی اس ذمے داری کے لیے خود کو تیار کرنے کے بعد اس رشتے کو اپنائے کہ کسی بچے کو تو اس کا حق مل جائے۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *