Type to search

احتجاج جرم خبریں قومی

بغاوت کے الزام میں یونیورسٹی کے 17 طلبہ کے خلاف مقدمہ درج

  • 61
    Shares

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سندھ یونیورسٹی کے 17 طلبہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ طلبہ پر الزام ہے کہ وہ پاکستان مخالف نعرے لگا رہے تھے۔

ڈان نیوز سے حاصل معلومات کے مطابق جامشورو پولیس نے مبینہ طور پر پاکستان مخالف نعرہ لگانے اور ریاست کے خلاف وال چاکنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں سندھ یونیورسٹی کے 17 طلبہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا۔

یونیورسٹی کیمپس کے سکیورٹی سربراہ انسپکٹر غلام قادر پنھور کی شکایت پر طلبہ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120 اے (مجرمانہ سازش کی تعریف)، دفعہ 120 بی (مجرمانہ سازش کے لیے سزا)، دفعہ 123 اے (ریاست کے قیام کی مذمت اور اس کی خودمختاری کے خاتمے کی حمایت)، دفعہ 124 (کسی قانونی طاقت کو مجبور کرنے یا اسے روکنے کے مقصد سے صدر، گورنر وغیرہ پر حملہ کرنا) اور دفعہ 153 (فساد برپا کرنے کے مقصد سے اشتعال انگیزی کرنا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس کی جانب سے جن طلبہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، ان میں ایاز حسین کھوسو، فراز احمد چانڈیو، انصار علی بریرو، راشد علی زرداری، نادر علی لاکھیر، عمید علی شاہ، لکھمیر زرداری، سیف اللہ، سلامت زونر، یوسف جتوئی، دانش ناگراج، زیب جتوئی، ہالار اور 4 نامعلوم طلبہ شامل ہیں۔

شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ 31 اکتوبر کو ہاسٹل انچارج قمر لاشاری، نیاز بلید اور منتظم شاہاب احمد سومرو نے انہیں بتایا کہ جئے سندھ گروپ کے تقریباً 17 سے 18 طلبہ پاکستان مخالف نعرے لگا رہے تھے، ساتھ ہی وہ حکومت کے خلاف نعروں اور لڑکوں کے ہاسٹل کے مرکزی دروازے کے باہر وال چاکنگ میں بھی ملوث تھے۔

دوسری جانب طلبہ نے اپنے خلاف ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ ہاسٹل میں پانی کی قلت کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے، ساتھ ہی انہوں نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا کہ وہ جئے سندھ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور پاکستان مخالف نعرے یا ریاست کے خلاف وال چاکنگ کر رہے تھے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *