Type to search

بلاگ تجزیہ تعلیم جمہوریت

میراثی کون؟

  • 326
    Shares

بھئی دو دن سے سوشل میڈیا پر ایک شور مچا ہوا ہے۔ تمام دوستوں نے ایک ہی ویڈیو کو اتنا لائک کیا ہے کہ وہ ہر جگہ نظر آ رہی ہے۔ فیض میلے میں پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو کی عروج اورنگزیب نے ہندوستانی شاعر بسمل عظیم آبادی کی نظم "سرفروشی کی تمنّا” کیا پڑھی، کراچی سے خیبر تک تھڑتلی مچا دی۔ ویڈیو آپ بھی دیکھ چکے ہیں اور اُس پر کئی کالم بھی لکھے جا چکے ہیں۔ ان ویڈیوز کے نیچے قوم کے سپوتوں نے جو کمنٹ دیے ہوئے ہیں وہ بھی پڑھ لیے ہوں گے، میں نے بھی پڑھے۔

اب مسئلہ یہ آجاتا ہے کہ ہم جیسوں سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ بھئی آپ اتنی دور بیٹھی ہوئی ہیں اور پھر بھی پاکستان کے اندرونی معاملات پر بات کرتی ہیں۔ آپ کو کیا دلچسپی ہے۔ آرام سے ٹم ہارٹن پیئں، نیاگرا فال جائیں، تصویریں لیں اپنا انسٹاگرام چلائیں، چِل کریں۔ تو بھئی بات یہ ہے کہ اپن ہے مہاجر، نسل در نسل مہاجر۔ اپن کو پنگے کا شوق وراثت میں ملا ہے۔ تو پنگا تو لیں گے۔

جب عید پر ہم آغا نور کا کرتا پہن کر تصویریں لگاتے ہیں، تو آپ خوش ہو جاتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ بھئی پاکستانی ملبوسات پاکستان سے ہی بن کر جاتے  ہیں۔ اُن کی تیاری پر پاکستان میں جو بھی رقم خرچ ہوتی ہے، ہم یہاں تین گناہ زیادہ رقم دے کر وہ لباس خریدتے ہیں۔ ہم شان کی مصالے سے کھانا پکاتے ہیں تو آپ خوب شاباش دیتے ہیں لیکن اگر ہم پاکستان میں ہونے والی ناانصافیوں کے بارے لکھتے ہیں تو آپ کو اعتراض ہوتا ہے۔

بات یہ ہے کہ بھئی ہم باہر رہنے والے ابھی بھی پاکستانی نائیکاپ پر سفر کر کے پاکستان آجاتے ہیں کیونکہ ہم پاکستانی شہری ہیں۔ پاکستان میں ہونے والا ایک ایک واقعہ ہم پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ہم سے ہر فارم میں پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی پیدائش کس مُلک کی ہے۔ تو ہم پاکستان ہی لکھتے ہیں۔ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا حق بھی رکھتے ہیں جو اس بار بدنصیبی سے نہیں دیا گیا۔ خیر لب لباب یہ ہے کہ بیرونِ مُلک پاکستانی کسی نہ کسی طرح پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔ اِس لیے اُنھیں بھی بات کرنے کا پورا حق ہے جتنا کہ پاکستان میں رہنے والوں کا۔

عروج اورنگزیب کی ویڈیو میں نے کئی بار دیکھی اور یقین کیجیے کہ علی سیٹھی بھی گلوں میں وہ رنگ نہیں بھر سکے تو اس دھان پان سی لڑکی نے فیض میلے میں اور ہماری زندگی میں بھر دیے۔

فیض کی روح بھی خوب خوش ہوئی ہوگی۔ ایک تو نظم بے پناہ طاقت لیے ہوئے ہے اور دوسرا جس طرح اُنھوں نے پڑھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ عروج کے ساتھ کھڑی ہوئی حجاب والی لڑکی پر کم تنقید ہوئی شاید اُس نے کسی طرح عورت ہونے کا فرض پورا کیا ہوا تھا جو بیچاری عروج نہ کر سکی۔ مُجھے عروج کو دیکھ کر آلا صلاح یاد آگئی جو ایک سوڈانی خاتون ہیں۔ اپریل 2019 میں اُن کی ایک ایسی ہی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ اس ویڈیو میں آلا سفید لباس میں ملبوس، سَر ڈھکے ہوئے ایک کنٹینر پر کھڑی تھیں اور ڈھول کی تھاپ پر اپنی زبان میں کُچھ گاتی جا رہی تھیں، جس کے جواب میں مجمع "ثورہ ثورہ” کہہ کر جواب دے رہا تھا۔ "ثورہ” عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "انقلاب”۔

آلا، خرتوم یونیورسٹی میں انجینئرنگ اور آرکیٹیکچر کی طالبہ ہیں، منثام نامی ایک تنظیم سے تعلق رکھتی ہیں جو کہ سوڈان میں عورتوں کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے۔ اپنی بے پناہ اثر رکھنے والی شخصیت ہونے کی وجہ سے ایک انقلابی مہم کی سربراہ ہیں جو کہ سوڈان میں رائج صدر عُمر البشیر کی تیس سالہ حکومت گرانے میں کامیاب ہوگئیں۔ آلا نے 29 اکتوبر کو اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں تقریر بھی کی جس میں اُنھوں نے سوڈانی حکومت سازی میں خواتین کی عدم شمولیت کا شکوہ کیا۔

مُجھے آلا اور عروج کی ویڈیو میں بہت سی باتیں مشترک لگیں۔ جیسے کہ ڈھول کی تھاپ پر انقلابی نظمیں پڑھنا۔ اب اس طریقے پر قوم نے عروج اور اُن کے ساتھیوں کو مراثی ہونے کا طعنہ دے مارا۔ میں ابھی محرم میں عراق سے ہو کر آئی ہوں۔ عراقی لوگ بڑے بڑے ڈھول بجا کو ماتم کرتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک نئی بات تھی کیونکہ پاکستان میں صرف نوحہ پڑھا جاتا ہے۔ البتہ پشتون اور کشمیری لوگ بھی ڈھول کی تھاپ پر ماتم کرتے ہیں۔ عروج کی ویڈیو دیکھ کر اور اُس پر ہونے والے کمنٹس پڑھ کر میرے دماغ میں ایک فلم چلنے لگی اور میں یہ لکھنے پر مجبور ہوگئی کہ پاکستانی عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم عقلِ کُل ہیں اور ہم نے جو دیکھا یا سُنا ہوا ہے اُس کے علاوہ اگر کوئی اور طریقہ کوئی اختیار کرے گا تو ہم اُسے تسلیم نہیں کریں گے بلکہ اُس کی تحقیر بھی کریں گے۔

یہ اور بات ہے کہ ماتم بھی ایک طرح کا احتجاج ہے، کالے کپڑے بھی احتجاج ہیں اور بی بی زینب کا دربارِ یزید میں خطبہ بھی ایک انقلاب ہے۔

اب اگر بات یہ ہے کہ ڈھول بجانے سے اگر کوئی میراثی ہو جاتا ہے، تو میں ذرا اُن شریف زادوں سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ بھائیوں پھر فوجی بینڈ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ہم 23 مارچ کی پریڈ کو فینسی ڈریس شو سمجھیں، جہاں ڈھول کی تھاپ پر ہماری افواج اسلحہ لہراتی ہوئی آتی ہے اور قسم لے لیں کہ یہی فوجی بینڈ والے آپ ہی کی باراتوں میں دیساں کا راجہ میرے بابل دا پیارا بجا رہے ہوتے ہیں اور میرے جیسوں کا خون تک دھمال ڈال رہا ہوتا ہے۔

اس کا مطلب تو وہی ہوا کہ آپ کا کُتا کُتا ہے اور ہمارا کُتا ٹامی ہے۔ تو بھئی ایسے نہیں چلے گا۔ اب بات بھی ہو گی، ڈھول کی تھاپ پر ہو گی، اور جب تک پُرامن ہو گی آپ کو سُننا پڑے گی۔ عروج اورنگزیب ہو، آلا صلاح ہو، یا سیماب زہرہ۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Up