Type to search

خبریں سیاست قومی

فیصل واوڈا اپنے بیانات کا خود دفاع کریں، پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی

  • 11
    Shares

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما صداقت علی عباسی کا کہنا ہے کہ شیخ رشید اور فیصل واوڈا اپنے بیانات کا خود دفاع کریں۔

نجی نیوز چینل اے آر وائے کے پروگرام الیونتھ آر میں میزبان وسیم بادامی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما صداقت علی عباسی نے کہا کہ شیخ رشید اور فیصل واوڈا اپنے بیانات کا خود دفاع کریں۔

صداقت علی عباسی کے اس جواب پر فیصل واوڈا نے جواب دیا کہ صداقت علی عباسی ہمارے بیانات کا دفاع کرنے کی زحمت نہ کریں، شیخ صاحب اور ہم کافی ہیں اپنے بیانات کا دفاع کرنے کے لئے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے اے آر وائے نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشریف کے کیس میں 22 کروڑ عوام کو الجھن میں رکھا گیا، عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے پتہ چل گیا کہ کیا کھیل کھیلا جارہا تھا، ہم کھلاڑی نہیں بنیں گے نہ بننا چاہتے ہیں، ہم وہ چینی پرزہ نہیں بنیں گے جو بنانے کی کوشش کی گئی۔

فیصل واوڈا نے یہ بھی کہا تھا کہ نوازشر یف کے جانے کا ایک فیس ٹو بھی ہے، مریم نواز کے لیے بھی ماحول بنایا جائے گا جو ہم نہیں ہونے دیں گے، امریکا میں نوازشریف اور پھر مریم نواز جائیں گی لیکن ہم انہیں جانے نہیں دیں گے۔ ایک سزا یافتہ مجرم کو ملک سے باہر جانے دیا گیا اور میڈیا نے بھی 22 کروڑ عوام کو نوازشریف کے معاملے میں مصروف رکھا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم چائنہ کا وہ پرزہ نہیں بننا چاہتے جو اقتدار کی سائیکل پر لگے تو وہ چل پڑے، گدھا گاڑی پر لگے تو وہ چل پڑے، گاڑی پر لگے تو وہ چل پڑے، ہم نظام کو بدلنے آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب تجربے بند ہونے چاہیں، نظام کے سارے بینیفشریز کو اپنی حدود میں رہنا ہوگا، اب شطرنج کی بازی میں ہم بھی اپنی چال چلیں گے۔ کرپشن کےسسٹم کے بینیفشریز سارے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم حکومت بھی چلائیں گے اور 5 سال بھی پورے کریں گے، ہمیں لگتا ہے کہ آئندہ 5 سال کی حکومت بھی ہماری ہی ہوگی، یہ 1992 کے ورلڈ کپ کی صورتحال ہے، لوگ پاکستان ٹیم کو کہہ رہے تھے نہیں جیتے گی اور دنیا نے دیکھا کہ پھر بھی ہم جیتے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *