Type to search

عوام کی آواز معاشرہ

اسلام آباد کے ’ٹوٹے‘

  • 33
    Shares

بڑوں سے یہی سنتے سنتے بڑے ہوئے کہ بزرگوں اوربڑوں کا ادب و احترام کرنا۔ یہ نصیحت اور تعلیم آج تک پلے بھی باندھ رکھی ہے اور کوشش بھی جاری ہے۔ اس نیک کام کو کئی مواقع پر دیگر افراد کو کرتے دیکھ کر دلی اطمینان بھی ہوا، خصوصاً پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کے دوران کئی بزرگوں، بڑوں، بیمار افراد کے لئے لوگوں کو اپنی سیٹ دیتے ہوتے دیکھ کر تو بہت ہی خوشی ہوتی ہے۔

لیکن افسوس شہرا قتدار پر کہ جہاں بڑی کوششوں کے بعد بھی، یہ چھوٹی سی نیکی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

غلط مت سمجھیے، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اسلام آباد کے باسی نیکیاں کرنے میں بخیل ہیں۔ وہ بے چارے تو صرف مجبور ہیں۔ ہم دراصل بات کررہے ہیں، اسلام آباد کے ’ٹوٹوں‘ (Toyota) کی۔

اب پھر درخواست ہے کہ ہمیں غلط مت سمجھیے، ہم کسی فلم کے اخلاق باختہ مناظر کی نہیں، اسلام آباد کی سڑکوں پر فراٹے بھرنے والی مسافر ویگنوں کی بات کر رہے ہیں، جنہیں جڑواں شہروں کے بھولے عوام عرف عام میں ٹوٹے کہتے ہیں۔

اگر آپ راولپنڈی اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ویگن میں سفر کرتے ہیں تو پہلے تو آپ کی خوش نصیبی کہ آپ کو سیٹ مل جائے اور اگر نہیں ملتی تو حالتِ رکوع میں ہی سفر تمام کرنے کو تیار ہو جائیں۔ اب آپ بیمار ہیں، بزرگ ہیں یا محض سیٹ پر بیٹھ کر منزل پر پہنچنے کے خواہشمند، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سفر تو ایسے ہی کرنا ہوگا اس وقت تک کہ آپ کو کوئی سیٹ نہ مل جائے۔

اس دوران آپ کی بزرگی کا احترام کر کے یا بیماری دیکھ کر یا کسی بھی وجہ سے اگر کوئی مسافر آپ کو اپنی سیٹ پیش کرنا بھی چاہے تو یہ اپنے آپ میں ایک اذیت ناک مرحلہ ہوتا ہے۔ اس شخص کے اپنے لئے بھی اور دوسرے مسافروں کے لئے بھی۔ گویا اس حوالے سے شہراقتدار کے باسی بڑے بدنصیب ہیں کہ چھوٹی سی نیکی کر کے ثواب کمانے تک سے محروم ہیں۔

جڑواں شہروں کے باسیوں کی یہ بے بسی اور بے چارگی ہم سے تو نہیں دیکھی جاتی۔ اس لئے اربابِ اختیار، خصوصاً تبدیلی سرکار، سے دست بستہ التجا ہے کہ مسافروں کی ان ٹوٹوں سے جان چھڑائیں اور دونوں شہروں کے روٹس پر میٹرو نہ سہی، عام بسیں ہی چلا دیں تاکہ ادب و احترام کی روایت کی پاسداری کا ارادہ رکھنے والوں کو چھوٹی سی نیکی کا موقع مل جائے اور ساتھ ہی ساتھ ان ٹوٹوں میں جانوروں کی طرح سفر کرنے سے بھی عوام کی جان چھوٹ جائے۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. عابد نومبر 21, 2019

    عامر صاحب ! میں کراچی میں مقیم ہوں البتہ آپ نے جس اپنی تحریر میں منظر کشی کی ہے بس اتنا کہوں گا کہ تحریر کے ساتھ انصاف کردیا

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *