Type to search

انسانی حقوق بلاگ تجزیہ معاشرہ

محنت کش

  • 18
    Shares

ہمارے معاشرے میں جس طرح مال و دولت کی بنیاد پر معاشرتی و طبقاتی تقسیم کی گئی ہے، اُسی طرح کمائی کے لحاظ سے پیشوں کو بھی الگ الگ کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس معاشرتی سوچ کے مطابق بزنس مین اور ماہانہ لاکھوں کروڑوں کمانے والے پہلی کٹیگری میں رکھے گئے ہیں۔ جس میں ڈاکٹرز، انجینئرز، ٹی وی اینکرز، کمپنی کے سی ای اوز اور زیادہ پیسے کمانے والے لوگ شامل ہیں۔ مذکورہ بالا پیشہ وروں میں کچھ تعداد اپر کلاس کی ہے اور کچھ مڈل اپر کلاس کے لوگ شامل ہیں۔ اس کے بعد مڈل کلاس کا نمبر آتا ہے، جو کہ اس معاشرے کی تقریباً 40 فیصد ہیں، یہ طبقہ اپنی کمائی سے محض اپنی ضروریات ہی پوری کر پاتا ہے۔

اب جو مڈل کلاس کے لوگ ہیں اُن کی پیشوں اور جابز کو صرف آپر کلاس کے لوگ حقارت سے دیکھتے ہیں، لیکن جو لوئر کلاس یا محنت کش طبقہ ہے وہ باقی تمام طبقوں کے نشانے پر ہوتے ہیں اور بلاوسطہ (ڈائریکٹ) اُن کو طعنے مارے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اُن کو لگنے لگتا ہے کہ ہمارا پیشہ کمتر ہے وغیرہ وغیرہ۔ اُن کے ساتھ اگر کوئی اپر کلاس کا بندہ تعلق رکھ بھی رہا ہو تو وہ محض اُس سے اپنا کام نکلوانے کے لیے کر رہا ہو گا، باقی ہمدردی وغیرہ کوئی نہیں ہوتی۔

اسی تناظر میں بیان کرتا چلوں کہ پچھلے دنوں میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بازار میں سے گزر رہا تھا تو اچانک مجھے ایک دوکان سے ایک بندے نے ہاتھ اٹھا کر سلام کیا۔ میں نے دیکھا اور ہاتھ اٹھا کر سلام کا جواب دیا تو معلوم ہوا وہ میرے جاننے والا ایک ہیئر ڈریسر (جیسے ہم نائی کہتے ہیں) تھا۔ میرے دوست نے مجھے ڈانٹا اور کہا، یار یہ کیسے بھرے بازار میں لوگوں کو سلام کرتے پھر رہے ہو؟ میں نے کہا بھائی اس میں ایسی کونسی غلط بات ہے؟ اُس نے کہا "میرے بھائی! اِن لوگوں کے ساتھ اتنا تعلق نہیں رکھتے”، میں نے جواباً کہا "تم بھی تو اس کی دوکان میں اس کے ساتھ گپ شپ اور ہنسی مذاق کرتے ہو؟” وہ بولا "یار دوکان کی بات دوکان تک تو ٹھیک ہے لیکن ان جیسے لوگوں کے ساتھ اتنا فری نہیں ہونا چاہیے، یہ چاہے اپنے آپ کو جو بھی بولیں، لوگ ان کو نائی ہی کہتے ہیں”۔ میں نے کہا "نائی کہتے ہیں تو کیا ہوا؟” وہ بولا "ہوتا تو کچھ نہیں لیکن بندے کی امپریشن خراب ہوتا ہے، معاشرے میں” میں نے مایوس ہو کر کہا "یار آپ سے یہ امید نہیں تھی، اتنی تعلیم کے باوجود اس قسم کی بیمار ذہنیت رکھتے ہو” اُس نے کہا "ارے یہ میں نہیں کہتا، یہ معاشرے کی سوچ ہے” میرا آخری جواب تھا "معاشرہ کیا ہے؟ تم اس معاشرے کا حصہ نہیں ہو کیا؟”

ویسے اگر دیکھا جائے تو معاشرہ مجھ اور آپ سے بنتا ہے، معاشرتی سوچ میری اور آپ کی سوچ ہے، اگر ہم اپنے اِن غلط سٹیروٹائپ کو بدلنے کی کوشش کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ان طبقاتی نظام کی جھنجھٹ سے آزاد کر کے امن، رواداری، آزاد فکر، سوال کرنے کے ڈر سے آزاد، غریب کا بچہ ہونے کی ڈر سے آزاد اور انسانیت کا درس دیتے رہے تو پھر اس ملک میں ڈاکٹر کا بیٹا، جرنیل کا بیٹا، امیر کا بیٹا یا بڑے صحافی کے بیٹے پیدا نہیں ہوں گے۔ بلکہ، انسانوں کے بیٹے پیدا ہوں گے۔ سائنسدان اور بین الاقوامی ہیروز پیدا ہوں گے۔  پھر اس ملک میں کسی کا باپ قانون سے بالاتر نہیں ہوگا اور نہ ٹریکٹر ڈرایئور کے بیٹے کو کوئی پھٹے کپڑوں کا طعنہ دے گا۔ کیوں کہ پھر ہم سب انسانوں کے بیٹے ہوں گے، پیشوں اور جابز کے نہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *