Type to search

بلاگ تجزیہ جدوجہد سیاست

مبارک ہو کہ نئی نسل کلر بلائنڈ نہیں ہے

پچھلے دنوں فیس بک کی نیوز فیڈ سکرول کرتے ہوئے دو مختلف پوسٹیں نظر سے گزریں۔ ایک نعرہ تھا ’’گنبدِ خضرا کا سایہ ہے اس پہ، ایشیا سبز ہے‘‘ اور دوسرا ’’سرخ ہے سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے‘‘۔ پھر اسی سوشل میڈیا پر یہ خوب صورت منظر دیکھا، جب ایک لڑکی برانڈز اور زیورات کی بات کرنے کے بجائے سرفروشی کی تمنا لئے بازوئے قاتل کو پکار رہی ہے۔ ساتھ ہی دیکھا کہ بہت سی اختلافی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ کسی کو دوسرے کے نظریات سے اختلاف ہو سکتا ہے، اختلاف کوئی برائی نہیں۔ اختلاف کرنا ترقی پسند معاشروں کی پہچان ہے۔ اختلاف سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگ سوچتے ہیں۔ اس سوچ کے مختلف زاویوں پہ بات کرتے ہیں، ان باتوں میں بعض پر متفق ہوتے ہیں اور بعض پر نہیں۔ یہی اختلاف آزاد معاشروں کی بنیاد ہے۔ جہاں ایک نظریہ، ایک خیال اور ایک ہی قوت ہو، وہ آمریت کہلاتی ہے۔

2007 میں ابلاغیات کی ڈگری کے لئے جب میں نے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا، تو جنون کی حد تک سٹوڈنٹ یونین کی بحالی کے لیے کام کرنے کا عزم تھا۔ اس وقت جامعہ پنچاب میں غیر رسمی طور پہ صرف اور صرف اسلامی جمعیت طلبہ کا راج تھا۔ اس کے نصب العین سے قطع نظر جمعیت کی رفاقت اور رکنیت خالصتہَ غیر قانونی کاموں کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ ہاسٹل میں غیرطلبہ کا قیام اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جیسے اکثر صورتوں میں آج توہینِ رسالت اور غداری کا الزام، ذاتی رنجش کا بدلہ لینے کے لئے استعمال ہوتا ہے، اسی طرح یونیورسٹیوں میں جمعیت کا کردار رہا ہے۔ مختصر الفاظ میں اسلامی جمعیت طلبہ میں اسلام اور طلبہ تو رہے نہیں تھے، ہاں کچھ بد قماشوں کی ’’جمعیت‘‘ تھی۔

’’جمعیت‘‘ کی بدقماشی کو ظاہر کرتی یہ ایک مثال ہی کافی رہے گی۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں جو کینٹین تھی، اُس کو چلانے والے صاحب کو سب واجپائی چاچا کہتے تھے۔ بظاہر وہ غصے والے مگر شفیق انسان تھے۔ ایک دن ایک طالبعلم کو مِلک شیک کے ریٹ پر اعتراض ہوا اور معاملہ اس حد تک بڑھ گیا، کہ اس غریب کا چھوٹا سا کھوکا جمعیت کے لڑکوں کے حکم سے بند ہو گیا۔ میں نے سوال اُٹھایا کہ کوئی ریٹ لسٹ ہے جو فالو نہیں ہوئی یا کوئی ضابطہ، کوئی قاعدہ تھا، جس پہ عمل نہیں ہوا؟ مگر مجھے یہ کہہ کر خاموش کروایا کہ چھوڑیں جمعیت سے کیا پھڈا لینا۔ میں نے کہا، جمعیت کی ایسی کی تیسی۔ میرے گھر سے نکلی ہے یہ جمعیت۔

یہ بھی عجیب بات ہے کہ اس روز میں جس جمعیت کے خلاف کھڑی ہوئی تھی، اس کے پنچاب یونیورسٹی میں ہونے والے پہلے اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن میں جمعیت سے بننے والے صدر میرے بڑے ابو جی ہیں اور جن سے جمعیت کے رویے اور تعلیمی اداروں میں کردار پر بحث ہم باپ بیٹی کا محبوب مشغلہ تھا (اس سلسلے میں مختلف مواقع پہ ہونے والی گفتگو بھی طلبہ تنظمیوں کے حوالے سے ایک دلچسپ دستاویز ہے اور ان کو ہمیشہ اسلامی جمعیت طلبہ کے تعلیمی اداروں میں انتہا پسند رویوں اور اجارہ داری کا ناقد پایا)۔

واجپائی چاچا والا معاملہ تو ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تک پہنچا اور ہمیشہ سے آواز آٹھانے والی لڑکی کے کردار پر انگلی اٹھانا سب سے آسان اور مجرب نسخہ ہے۔ میرے گھر کفن تک بھیجے گئے اور میری کردار کشی بھی کی گئی۔ سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا اور میرے لئے اپنی تعلیم جاری رکھنا ضروری تھا۔ یونین تھی نہیں کہ معاملہ کسی کمیٹی تک جاتا مگر مجھے محسوس ہوا کہ صرف اُس اجارہ داری کے خلاف آواز اُٹھانے سے فرق پڑا اور یہی مقصد ہوتا ہے، یونین کے ہونے کا۔

اگرچہ بعد میں یونائیٹڈ اسوڈنٹ فیڈریشن اور ای ایس ایف اور پہلے سے موجود طلبہ تنظیموں نے اپنی سی کوشش کی مگر یونین بحال نہ ہو سکی۔ اس سلسلے کا ایک اور اہم واقعہ بھی میری آنکھوں دیکھا ہے، جب ’’نوجوانوں کے دل کی دھڑکن‘‘ عمران خان پنچاب یونیورسٹی آئے اور جمعیت کے رُفقا سے مار کھا کے آڈیٹوریم کے پچھلے دروازے سے جان بچا کے نکلے تھے۔ اگرچہ پٹائی کرنے والوں میں سے چند ایک آج تحریکِ انصاف کی نوجوان قیادت کے نمایاں ناموں میں سے ہیں۔

سوشل میڈیا کی وجہ سے اب طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک پھر سے زور پکڑ رہی ہے اور اس بہترین موقعے کو لیدر کی جیکٹ اور رنگوں کے بحث سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔ طلبہ میں سیاسی شعور کی تربیت کا انتظام لازمی ہے اور سٹوڈنٹ یونین اس شعور کی آبیاری کی پہلی نرسری ہے۔ جس طرح ڈاکٹری یا انجینئرنگ کی رسمی تعلیم کے بعد اصل مرحلہ عملی زندگی ہے، مگر سیکھنا تو کسی ادارے سے ہے، پھر وہ سیاست کیوں نا ہو، سب اس کام کو مل کر کریں تو اچھا ہے۔ تعلیمی اداروں میں جمعیت کی کئی دہائیوں کی وجہ یونین کا بحال نہ ہونا اور کسی اور رنگ کا نظر نہ آنا بہت سی دیگر وجوہ میں سرِفہرست ہے۔

ان بچوں کو ایشیا سُرخ دِکھے یا سبز، یہ تو بعد کی کہانی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ رنگ دِکھائی دے رہے ہیں۔ مبارک ہو کہ نئی نسل کلر بلائنڈ نہیں ہے۔ ایشیا سُرخ نہ بھی ہو تو کوئی بات نہیں، مگر سیاہ نہیں ہونا چاہیے۔ سبز، سرخ، سفید، پیلا، کاسنی سب رنگ مل جائیں تو قوسِ قزح بنا لیں۔ بازوئے قاتل میں کتنا زور ہے، اس کو پہچاننے والے سرفروشی کی تمنا مل کر کریں تو بازوئے قاتل کے ساتھ ساتھ قاتل کا چہرہ بھی دِکھنے لگے گا۔

Tags:

1 Comment

  1. طاہرعلی خان نومبر 26, 2019

    بہترین۔ دلچسپ اور معلوماتی تحریر کالم کے دوسرے پیراگراف میں جمعیت طلبہ اسلام لکھا گیا ہے اس کی تصحیح فرمالیں یہ اسلامی جمعیت طلبہ ہے جیسا کہ دو تین جگہ بعد میں لکھا بھی گیا ہے۔

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *