Type to search

خبریں سیاست فيچرڈ قومی

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے غیر فعال ہونے کا خدشہ

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے غیر فعال ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، دو ممبران کے بعد چیف الیکشن کمشنر بھی ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ گئے۔ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان دسمبر کے پہلے ہفتے میں ریٹائر ہو جائیں گے، نئے سربراہ کی بروقت تعیناتی نہ کی گئی تو الیکشن کمیشن غیر فعال ہوجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ جسٹس (ر) سردار رضا خان 6 دسمبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ سردار رضا خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے چیف الیکشن کمشنر کی بروقت تعیناتی نہ کی گئی تو 7 دسمبر کو الیکشن کمیشن غیر فعال ہو جائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان نے الیکشن کمیشن کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے لیے سیکرٹری پارلیمانی امور کو خط لکھ دیا ہے۔

وزارت پارلیمانی امور کے ذرائع نے چیف الیکشن کمشنر کا خط موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا نے 6 دسمبر 2014 کو عہدہ سنبھالا تھا، ان کی مدت ملازمت 6 دسمبر کو مکمل ہو جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کا بروقت تقرر نہ کیے جانے کی صورت میں 7 دسمبر کو الیکشن کمیشن غیر فعال ہو جائے گا۔ کیونکہ کمیشن کے سندھ اور بلوچستان سے 2 ممبران پہلے ہی ریٹائر ہو چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر اور 2 ارکان کی عدم موجودگی میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکے گا۔

ایسی صورت میں الیکشن کمیشن ضمنی الیکشن اور بلدیاتی انتخابات بھی نہیں کرا سکے گا جبکہ انتخابی فہرستوں کا معاملہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

قانون کے تحت الیکشن کمیشن اپنے 3 ارکان کے ساتھ فعال رہ سکتا ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنر سمیت ارکان کی مجموعی تعداد 5 ہے۔

آئین کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف باہمی مشاورت سے 3 نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجواتے ہیں۔ الیکشن کمشنر کا عہدہ خالی ہونے پر 45 روز کے اندر پُر کیا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان سے ممبران کی تعیناتی کے لیے تاحال حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات حل نہیں ہوسکے ہیں۔

صدر عارف علوی نے مذکورہ خالی اسامیوں پر سندھ سے خالد محمود صدیقی اور بلوچستان سے منیر احمد کاکڑ کا تقرر کیا تھا لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسے مسترد کر دیا تھا اور چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کو ہدایت کی تھی کہ وہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سے رابطہ کریں۔

الیکشن کمیشن 2 ریٹائرڈ ممبران کا عہدہ پُر کرنے کے لیے وزارت پارلیمانی امور کو 4 خطوط لکھ چکا ہے لیکن الیکشن کمیشن کے دونوں ممبران کی تعیناتی پر پارلیمانی کمیٹی تاحال ڈیڈ لاک کا شکار ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *