Type to search

خبریں سیاست فيچرڈ

غداری کیس کا فیصلہ روکنے کیلئے دائر درخواست قابل سماعت قرار

لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے کے خلاف دائر درخواست کو قابل سماعت قرار دے دیا۔

گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے اسلام آباد کی خصوصی عدالت کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کے لیے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ میں  جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت ہوئی جسے عدالت نے قابلِ سماعت قرار دے دیا۔

وکیل کے توسط سے دائر درخواست میں پرویز مشرف نے استدعا کی ہےکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق سنگین غداری کیس کی دوبارہ سماعت کی جائے اور  خصوصی عدالت کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم معطل کیا جائے۔ سابق صدر کی درخواست میں ان کی صحت کے لیے  غیر جانبدار میڈیکل بورڈ بنانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست پر سماعت کے بعد عدالت نے  پرویز مشرف کی درخواست پر لگائے گئے اعتراضات ختم کر دیئے اور اسے سماعت کے لیے منظور کرلیا۔

جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے 28 نومبر کے لیے وزارت داخلہ اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا اور وفاقی حکومت کے متعلقہ حکام کو ہدایات لے کر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے 19 نومبر کو سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 28 نومبر کو سنایا جانا ہے۔

سنگین غداری کیس کا پسِ منظر

سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ نومبر 2013 میں درج کیا تھا۔ یہ مقدمہ پرویز مشرف پر آرمی چیف کی حیثیت سے تین نومبر 2007 کو ملک کا آئین معطل کر کے ایمرجنسی لگانے کے اقدام پر درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں اب تک 100 سے زائد سماعتیں ہوئیں جب کہ اس دوران 4 جج تبدیل ہوئے۔

عدالت نے متعدد مرتبہ پرویز مشرف کو وقت دیا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ مارچ 2014 میں خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جب کہ ستمبر میں پراسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے بعد خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی۔

بعدازاں 2016 میں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) سے نام نکالے جانے کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *