Type to search

جرم خبریں دہشت گردی قومی

مفتی کفایت اللہ نامعلوم افراد کے حملے میں زخمی، ہسپتال منتقل

  • 3
    Shares

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ پر نامعلوم ملزمان نے حملہ کر کے زخمی کر دیا۔ حملے میں مفتی کفایت اللہ کے بیٹے اور ایک ساتھی بھی زخمی ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ اور ان کے بیٹوں پر مانسہرہ کے قریب نامعلوم افراد نے حملہ کر کے زخمی کر دیا۔ حملہ کرنے کے بعد نامعلوم ملزمان فرار ہو گئے جبکہ حملے میں مفتی کفایت اللہ، ان کے دونوں بیٹے اور ایک ساتھی زخمی ہوئے۔

تمام زخمیوں کو کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

مفتی کفایت اللہ کے بھائی حبیب الرحمان نے واقعے کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ مفتی کفایت اللہ اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ اسلام آباد سے مانسہرہ آرہے تھے کہ بیدرہ انٹرچینج پر ان کی گاڑی کو دوسری گاڑی نے ٹکر مار کر روکا اور 5 نامعلوم افراد نے آہنی راڈوں سے حملہ کر دیا۔

پولیس نے بتایا کہ حملے میں مفتی کفایت اللہ کا ہاتھ فریکچر ہوا ہے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مفتی کفایت اللہ کے بیٹے حسین کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ کچھ گاڑیوں نے تعاقب کرنے کے بعد انہیں روکا اور اسلحہ تان کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ مفتی کفایت اللہ حال ہی میں خبروں کا حصہ اس وقت بنے تھے جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ سے قبل انہیں 30 روز کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔

مانسہرہ کے ضلعی پولیس افسر نے مفتی کفایت اللہ پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ایک ریلی کے دوران لوگوں کو آزادی مارچ میں شرکت کے لیے اکسایا، کارنر میٹنگز کی اور چندہ جمع کیا تھا۔

بعدازاں جے یو آئی (ف) کے رہنما کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت گرفتار کر کے ہری پور جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

تاہم 3 روز بعد ہی پشاور ہائی کورٹ میں ان کی جانب سے ضمانت پر رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست پر سماعت کے بعد عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

اس سے قبل 14 دسمبر کو بھی پولیس نے جے یو آئی (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا تاہم بعد میں وہ رہا ہو گئے تھے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *