Type to search

بلاگ خواتین معاشرہ

بچوں کو خود قدم جما کر چلنا سیکھنے دیں

  • 2
    Shares

میں نے اپنے بچے کو پیار سے پالا۔ اسے برے الفاظ نہ کہے، نہ سننے دیے۔ اس پر تشدد نہیں کیا۔ ادب اور نظم و ضبط سکھانے کے لیے تنبیہہ اور حوصلہ افزائی سے کام لیا۔ میں نے اسے سکھایا کہ اگر آپ کے مذاق سے کسی کو رونا آ جائے تو وہ مذاق نہیں رہتا، Bullying بن جاتی ہے۔

کوئی گر جائے، تو اس پر ہنستے نہیں ہیں، آگے بڑھ کر تھام لیتے ہیں اور پوچھتے ہیں آپ کو چوٹ تو نہیں لگی؟ آپ مسکراتے ہیں تو یہ اللہ کریم کے یہاں نیکی گنی جاتی ہے۔

وہ گھر آیا، اس کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں اور ان میں آنسو تھے۔ اس نے حیران ہو کر مجھے بتایا، "آپ کو پتہ ہے کلاس میں ایک بچی نے مجھے بدصورت کہا اور مجھے دھکا دیا۔ میں نے تو اسے کچھ نہیں کہا تھا۔” میں نے دیکھا، اس کی آنکھوں میں دکھ کے ساتھ بے یقینی اور تعجب تھا کہ کیا کوئی کسی کو ایسے برے الفاظ بھی کہہ سکتا ہے۔

میرا دل زور سے سکڑا اور پھیل گیا اور درد کی لہریں میرے بدن میں دوڑنے لگیں۔ میں جس کے آگے ڈھال بنتی رہی، اسے تکلیف نے کیسے چھو لیا؟ میں نے سوچا، میں اس کے ساتھ سکول جایا کروں، اس کی حفاظت کیا کروں، میں ساتھ رہوں گی، تو کوئی اس کو تکلیف نہ پہنچا سکے گا۔ مگر پھر میرے دل نے کہا:

Every single one of us has to walk their walk. I can’t do it for them

اس کو اپنے راستے پر خود قدم جما کر چلنا سیکھنا ہوگا۔ اس کو اپنے حصے کی آزمائشیں اور امتحان جھیلنے ہوں گے اور ان سے نبردآزما ہونا سیکھنا ہوگا۔ دنیا کا حصہ ہو کر وہ اس حقیقت سے ناواقف نہ رہ سکے گا کہ یہاں الفاظ کے نشتر برسائے جاتے ہیں۔ اسے یہ سب سننا ہوگا میں یہ سمجھنے میں اس کی مدد کر سکتی ہوں کہ جب اسے ایسے الفاظ سننے کو ملیں، تو وہ کیسے سامنا کرے۔

میں نے ہر رات اپنی ننھی پری کو لوری دیتے ہوئے رو کر دعائیں کی تھیں، یااللہ میری بیٹی کو رونا نہ پڑے۔ اس کے دل کو ٹھیس نہ لگے۔ میں اس کے پیر کے آگے اپنی ہتھیلی پھیلا دوں گی، تاکہ اس کے قدم زمین کی سختی نہ جھیلیں۔ مگر میں نے دیکھا کہ وہ الجھ رہی ہے۔ اسے قدم جمانے میں مشکل ہو رہی ہے۔ زمین اس کے تلووں کو دھکا نہیں لگاتی تو اس سے قدم اٹھائے نہیں بنتے۔ میں نے اپنے ہاتھ سکیڑ کر اپنی گود میں چھپا لیے۔ اس نے قدم جمانا سیکھا، لڑکھڑا کر گری، میں بے اختیار ہو کر دوڑی، مگر اس نے ہاتھ بڑھا کر مجھے روکا اور اٹھ کر چلنے لگی۔ چند قدم چل کر اس نے خوشی سے قلقاری بلند کی اور میں نے ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ سوچا۔

Every single one of us has to walk their walk. I can’t do it for them

میں اس کے حصے کا نہیں چل سکتی۔ جیسے میرے والدین میرے حصے کا نہیں چل سکے تھے۔ میں اپنی اولاد میں جی نہیں سکتی۔ وہ اپنے وجود میں اسی طرح جیئں گے، جیسے میں جی رہی ہوں۔ میں ان کا سائبان ہوں، ان کے لیے قندیل روشن کرتی ہوں اس طور کہ میری عدم موجودگی میں انہیں علم ہو کہ اندھیرا ہو جائے تو قندیل روشنی کا منبع بن سکتی ہے اور اسے کیسے روشن کرتے ہیں۔

کئی مقامات ایسے آتے ہیں جب میرا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے۔ خوف میرے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بلائیں ان کو نگل جائیں گی، وہ گڑھے میں گر جائیں گے، ان کی روح یا بدن زخمی ہو جائے گا، میں ہاتھ پھیلا کر ان کو کھینچنا چاہتی ہوں مگر وہ ہاتھ اٹھا کر مجھے روک دیتے ہیں۔ وہ خود چلنا سیکھ رہے ہیں نا!

زندگی کے پرپیچ سفر پر چلتے جب وہ میری آنکھوں سے اوجھل ہونے لگتے ہیں، تو میری دعائیں ان کا ہالہ بن جاتی ہیں اور یہ سب کرتے مجھ پر انکشاف ہوتا ہے کہ میرے والدین پر کیا بیتا ہوگا۔

رب الرحمھما کما ربیانی صغیرا۔

Tags:

1 Comment

  1. صالحہ سراج نومبر 28, 2019

    کیا بات ہے جناب 👍 بہت خوب بہت عمدہ. دل کو گرماتی ہوئی ایک دلگداز محبت ♥ سے بھرپور تحریر

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *