26 جون 2025 منشیات کے استعمال اور ان کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف عالمی دن ہے ۔ دسمبر 1987 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 26 جون کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ ہر سال اس کے لئے ایک تھیم کا انتخاب کیا جاتا ہے، جو 2025 کے لئے "زنجیروں کو توڑنا: روک تھام، علاج، اور بحالی سب کے لیے" ہے! ۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (UNODC) کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 212 ملین افراد کوکین، بھنگ، ہیلوسینوجنز، افیون اور سکون آور ہپنوٹکس جیسی غیر قانونی ادویات استعمال کر رہے ہیں۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ کے محکمہ خارجہ کی تازہ ترین سرکاری رپورٹ: [International Narcotics Control Strategy Report (Vol I & II, March 2025)]کے مطابق ،پاکستان دہشت گردی، منی لانڈرنگ، منشیات کی تجارت، ٹیکس چوری اور بدعنوانی کی بنا پر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے۔
پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس ( جو افغانستان، ایران اور دیگر جگہوں پر مراکز رکھنے والے بہت سے کالعدم گروہوں کے ساتھ قریبی روابط رکھتے ہیں) کے خلاف جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جا سکتی، جب تک کہ ان کی مالیاتی شہ رگ یعنی فنانشل لائف لائن (financial lifeline)کو تباہ نہ کر دیا جائے۔
یہ نیٹ ورک رضاکارانہ عطیات سے لے کر منظم جرائم سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے خطیر فنڈز جمع کر رہے ہیں، مگر اس کا ذکر سرکاری میڈیا بریفنگس (media briefings) میں کم ہی ملتا ہے۔
اس ضمن میں جو سوالات ہر ذی شعور ذہن کو پریشان کرتے ہیں درج ذیل ہیں:
•ان دہشت گردوں کے پاس اتنا پیسہ کن وسائل اور کن ذرائع سے آتا ہے ؟
• حکومتیں دہشت گردوں کو فنڈز کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے میں سنجیدہ کیوں نہیں ہیں؟
• اگردہشت گر دبینکنگ چینلز استعمال کرتے ہیں، تو ترسیل کرنے والوں اور وصول کنندگان کا پتہ کیوں نہیں لگایا جا سکتا؟
• اگر رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے لیے حوالہ اور ہنڈی کا استعمال ہوتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی اور ان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سزا کیوں نہیں ملتی؟
• ان دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت کون سے خفیہ ہاتھ کر رہے ہیں اور وہ قانون کی نظر سے اوجھل کیوں ہیں؟
• کون سے خفیہ ہاتھ انہیں جدید ترین اسلحہ اور فوجی تربیت فراہم کر رہے ہیں؟
یہ ایک قائم شدہ حقیقت ہے کہ جرائم پیشہ افراد مختلف ممالک میں رکھے گئے بینک کھاتوں سے ہر سال اربوں ڈالر بھیجتے ہیں۔ ان بھاری رقوم کے خلاف کریک ڈاؤن اصل مسئلہ ہے۔
بد قسمتی سے میڈیا اور حتیٰ کہ عسکری حکمت عملیوں میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ان بھاری رقوم کے ذرائع اور نقل و حمل پر سب سے کم توجہ دی جاتی ہے۔ یہ نا قابل تردید حقیت ہے کے دہشت گردی کی ملکی اور عالمی سطح پر مالی معاونت اسلحے اور منشیات کے سودوں کے ذریعے ہوتی ہے۔
جیمز پیٹراس (James Petras)، بنگھمٹن یونیورسٹی (Binghamton University)، نیویارک میں سوشیالوجی کے پروفیسر ، نے اپنے مقالے، "Dirty Money" Foundation of US Growth and Empire ،میں چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں:
"امریکی کانگریس کے تفتیش کاروں، سابق بینکروں اور بین الاقوامی بینکنگ ماہرین کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ امریکی اور یورپی بینک ہر سال 800 بلین ڈالر سے لے کر ایک ٹریلین ڈالر کے درمیان پیسہ لانڈر کرتے ہیں، جن میں سے نصف صرف امریکی بینکوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ سالانہ رقوم کی منتقلی ، بڑی امریکی تیل پیدا کرنے والی کمپنیز ، فوجی صنعتوں اور ہوائی جہاز بنانے والے اداروں کی تمام خالص آمدنی کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے"۔
تازہ ترین تخمینہ (2025) یہ ہے کہ دنیا بھر میں 75 آف شور دائرہ اختیار رکھنے والے اداروں نے تقریباً 11,000 آف شور بینکوں کو لائسنس دیئے ہیں ، جو کہ تقریباً 165 ٹریلین امریکی ڈالر کے اثاثوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ زمینی حقیقت ہے، جب کہ ہم کئی دہائیوں سے ریاستہائے متحدہ کے متواتر صدور سے جنگوں، منشیات اور دہشت گردی کے خلاف ان کے عزم کے بارے میں سنتے آرہے ہیں۔ یہ حقیقت میں فرضی جنگیں ہیں!
صدر جو بائیڈن نے 30 اگست، 2021 کو 9/11 کی 20 ویں برسی سے چند دن پہلے — 20 فروری 2020 کے دوحہ معاہدے کے نتیجے میں— افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا مکمل کیا۔ اس کے پیچھے افغانستان میں طالبان کا حکومت پر دوبارہ قبضہ، پورے خطے میں داعش ،تحریک طالبان پاکستان اور بہت سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو فروغ دینا ، اور ان کے پھیلاؤ کے ذریعے پاکستان اور چین کو غیر مستحکم کرنے کا حفیہ ایجنڈا تھا ۔ اس نیو گریٹ گیم (New Great Game) کا اصل ہدف containment of China تھا، جو اب بھی جاری ہے ۔
پاکستان کے اندر اور ہمسایہ ممالک میں سی آئی اے (CIA)، موساد (Mosad) اور را (RAW) کے لئے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس، امریکی افواج کے انخلا کے بعد، پاکستان میں چینی ماہرین اور ورکرز پر جاں لیوا حملوں میں شامل رہے ہیں ، جن میں ان کا ساتھ کچھ مقامی دہشت گرد اور قوم پرست تنظیموں نے بھی دیا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ New Great Game کا مقصد، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) ، جس میں چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) فلیگ شپ پروجیکٹ ہے، کے لیے مشکلات پیدا کرنا ہے۔
New Great Game میں دہشت گرد نیٹ ورکس منشیات کے بدلے جدید ترین اسلحہ حاصل کرتے ہیں۔ اس کا ذکر خود امریکا نے بین الاقوامی نارکوٹکس کنٹرول سٹریٹیجی رپورٹ (مارچ2025) ، جو کہ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے سالانہ بنیاد پر تیار کی جاتی ہے، اس انکشاف کے ذریعے کیا ہے:
"پاکستان کے راستے اسمگل کی جانے والی زیادہ تر منشیات عالمی منڈیوں کے لیے مقصود ہوتی ہیں، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان میں سے صرف ایک چھوٹے سے حصے کو روکتے ہیں۔ جولائی 2023 سے جون 2024 تک، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قومی سطح پر منشیات کی ضبطی کی اطلاع دی، جس میں 1.58 میٹرک ٹن (MT) مارفین، 11.8 MT ہیروئن، 16.8 MT افیون، 17.36کلوگرام کوکین، اور 138.63 MT حشیش۔ پاکستان کی حکومت نے 12.03 MT میتھمفیٹامائن (methamphetamine) اور 3.3 MT ایمفیٹامائن (amphetamine) ضبط کی، لیکن فینٹینیل (fentanyl) کی کوئی ضبطی نہیں ہوئی"۔
امریکہ کی خارجہ پالیسی میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی، منظم جرائم میں ملوث مافیا کا استعمال، منشیات اور غیر قانونی مارکیٹ میں جدید ترین اسلحہ کی خرید و فروخت، اور ان سب کے گٹھ جوڑ کے بارے میں پروفیسر پیٹراس، اپنی کتاب، Enormous By Any Measure ، میں لکھتےہیں:
"واشنگٹن اور ذرائع ابلاغ نے امریکہ کی حکومت کو منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور سیاسی بدعنوانی کے خلاف جدوجہد میں صف اول کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا ہے: جس سے کالے دھن (dirty money)سے لڑنے والے صاف شفاف ہاتھوں کی تصویر ابھرتی ہے ۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے"۔
پروفیسر پیٹراس کے علاوہ اور بہت سے مصنفوں نے پاکستان اور افغانستان کے مجاہدین کے ہاتھوں سابقہ سوویت یونین کی شکست اور پھر پوری سلطنت کے خاتمہ کی کہانی میں منشیات اور جدید ترین اسلحہ کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور سیاسی بدعنوانی کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اس کا سب سے مستند ثبوت خود پاکستان ہے، جہاں منشیات کے کاروبار کرنے والے چند افراد، وسیع اثاثے جمع کرکے، ریاستی اداروں کو معذور کر تے رہے ہیں ( کتاب 'حشیش سے ہیروئن تک' میں ایک باب بعنوان 'نارویجن کنکشن' اس کا نا قابل تردید ثبوت فراہم کرتا ہے)۔
چونکہ منظم جرائم کے سنڈیکیٹس نے مالیاتی نظام میں گہرائی سے پنجے گاڑے ہوئے ہیں، اس لیے دہشت گردوں کو دستیاب انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے خلاف کام کرنے والے عسکریت پسند گروہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں کے ذریعے بھاری رقوم حاصل کرتے ہیں اور پاکستان کے اندر اور باہر کے "ہمدردوں" سے دل کھول کر "عطیات" بھی حاصل کرتے ہیں۔
یہ بات اب ریکارڈ پر ہےکہ امریکی/اتحادی افواج کے انخلاء کی خبر کے فوراً بعد طالبان/داعش نے، جن کی مالی معاونت منشیات فروشوں اور جنگجو سرداروں نے کی، ملک کے تمام اہم صوبوں کے دارالحکومت پر قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ نوشتہ دیوار تھا کہ وہ ایک بار پھر کابل پر قبضہ کر لیں گے۔ تب سے اب تحریک طالبان پاکستان اور بہت سے اور نیٹ ورک پاکستان میں دہشت گردی کے ایک اور سیاہ دور میں شامل ہیں۔
دہشت گردی کی مالی معاونت میں بیرونی طاقتوں کا ہاتھ توہے ہی، منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے بھی بھاری رقوم حاصل کی جاتی ہیں ۔
دہشت گردی کی مالی معاونت کے پیچھے چھپے ہوئے ہاتھ ، پاکستان اور چین کو بیلٹ اور روڈ منصوبہ BRI کے مقاصد کے حصول سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔یہ وہ ہی ہاتھ ہیں جو ایران کے خلاف کھلی بہیمانہ جارحیت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اب بقول صدر ٹرمپ جنگ بندی کے لئے آمادہ ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین نے بیلٹ اور روڈ منصوبہ کے تحت ایران میں بھاری سرمایاکاری کی ہے۔
ایران اور دیگر ممالک کے خلاف جاری نیو گریٹ گیم اور اسرائیل کے بہت سے خلیجی ممالک پر بے دریغ حملوں کے پیش نظر، پاکستان کو گولڈن رِنگ ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے اور دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کی مالی معاونت کے انسداد کے لیے ایک بلاک بنانے کی ضرورت ہے، جس کی تفصیل Pakistan Tackling FATF: Challenges & Solutions.میں بیان کی گئی ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ایک مشترکہ ٹیم کے قیام کی فوری ضرورت ہے تاکہ منظم جرائم میں ملوث افراد اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔
پاکستان پہلے ہی دہشت گردوں اور منشیات مافیا کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان اٹھا چکا ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں نوجوان منشیات کا شکار ہو چکے ہیں ،اور مزید ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے انسانوں اور مال کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔
منظم مجرمانہ نیٹ ورکس، جس میں منشیات فروش اور دہشت گرد بھی شامل ہیں، کی مالیاتی سپلائی لائنوں کو تباہ کرنے کے لیے اب پرعزم اور عملی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کی طرح ایک موثر ادارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ اس بات کا بھی جائزہ لینے کا وقت ہے کہ اگست 2016 میں قائم کیے گئے نیشنل ایکشن پلان (NAP) اور 29 سول ملٹری ونگز کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ اور بہت سے دوسرے سوالات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ اور دیگر منظم مجرمانہ سرگرمیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔
__________________________________________________
حذیمہ بخاری اور ڈاکٹر اکرام الحق، وکالت کے شعبے سے وابسطہ اور متعدد کتابوں کے مصنف، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ایڈجنکٹ فیکلٹی، ممبر ایڈوائزری بورڈ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سینئر وزیٹنگ فیلو ہیں۔