قومی حکومت سمیت تمام تصور دقیانوسی قرار پائے اور تبدیلی محبوب ٹھہری۔ رقابت تو فطری امر ہے۔ ن سمیت ق لام میم جتنی بھی لیگیں بے وقت ہوتی چلیں گئی۔ شیخ رشید سمیت چودھری برادران کو بھی آخری پناہ تحریک انصاف کے جھنڈے تلے ملی۔ پیپلزپارٹی سے راوبط بھی بے معنی سے ہو گئے۔ 'میرے لئی بس تو ہی تو، تیرے عاشق لکھ ہزار' والی کیفیت میں عمران خان سے رقابت نے نفرت کی آگ بھی بڑھا دی جس کو ہوا عمران خان خود دیتے رہے اور خوب دیتے ہیں۔
جوتشی نما صحافی اور تجزیہ کار پرانی دوستیوں کا حق ادا کرتے ہوئے الیکشن سے قبل دعوے کیا کرتے تھے کہ عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکتے ہیں۔ عمران خان کے ہاتھ میں اقتدار کی لکیر ہی نہیں ہے۔ ملک بھر سے صرف دس بارہ، حد بیس سیٹیں جیتیں گے۔ پھر جو ہوا، سب نے کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ عمران خان جیتے بھی اور وزیراعظم بھی بن گئے۔
مولانا فضل رحمان کے آزادی مارچ اور نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کے بعد حکومت کے دن گننے کی مشق جاری ہے۔ نومبر کے دوسرے اور آخری ہفتے میں حکومت جانے کی جو پیش گوئی تھی۔ اب پانچ دسمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کو فارن فنڈنگ کیس میں کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔ جب جماعت کالعدم قرار دیدی تو حکومت بھی ختم ہو جائے گی۔ کچھ دن پہلے تو پنجاب کی وزرات اعلیٰ سمیت وزارت عظمیٰ کے لئے بھی نام سامنے لائے جا رہے تھے۔
صدارتی نظام کی بازگشت بھی ہے۔ صدارتی نظام سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا بھی پسندیدہ نظام ہے۔ عمران خان کے اندر بھی صدارتی نظام کی خواہش انگڑائیاں لے رہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ صدارتی نظام کے لئے عوامی ریفرنڈم کا راستہ اختیار کیا جائے۔
پاکستان پچھلے 72 سالوں سے ایسے ہی چل رہا ہے۔ مقتدرہ کی گرفت مضبوط اور سیاسی جماعتیں کمزور ہوتی گئی ہیں۔ پیپلزپارٹی میں بھی دم نہیں رہا ہے۔ نیا ملک شیک بنانے کے لئے میٹریل ہی موجود نہیں ہے۔
مولانا فضل رحمان کی ابھی گنجائش بنتی نظر نہیں آرہی۔ امریکہ اب چین کا مقابلہ کرنے کا قابل نہیں رہا، ویسے بھی امریکہ کی زیادہ توجہ مشرق وسطیٰ پر ہے۔ سعودی عرب امریکہ کے لئے پاکستان ثابت ہو رہا ہے۔ ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں پاکستان میں اقتدار ٹھیک لوگوں کے پاس ہے۔
تجزیہ کار، خبرکار اور جوتشی صحافی خاطر جمع رکھیں۔ حکومت کو کچھ نہیں ہوگا اور عمران خان بھی کہیں نہیں جا رہے ہیں۔ خبری کاری اور تجزیے محض حکومتوں کو چلتا کرنے پر نہیں ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سماجی ٹوٹ پھوٹ جیسے مسائل ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری سمیت امن و امان پر بھی لکھا جا سکتا ہے اور پروگرام کئے جا سکتے ہیں۔ سیاست نہیں اپنی صحافت کریں۔ حکومتوں کو گھر بھیجنے کا دھندہ چھوڑ دیں۔