وہ ایک اداکار جسے سراہا نہ گیا، وہ اردو کا عاشق تھا

جب ایوارڈ نہ ملتا تھا تو دھرم جی پھر بھی نیا سوٹ پہن کر تقریب میں آ جاتے تھے—یہ تھی ان کی عظمت

10:59 PM, 25 Nov, 2025

حسنین جمیل

دھرم جی چلے گئے، مگر اپنے کرداروں کے باعث ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ جاوید رہیں گے۔ دھرم سنگھ دیول، جسے ہم سب دھرمندر کے نام سے جانتے ہیں، کل سپہر وفات پا گئے۔ بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔ مجھے یقین ہے کہ اتنے پیارے انسان کی آتما شانت ہی ہو گی۔ کہتے تھے: جو میری طرف مسکرا کر دیکھتا ہے، میں اس سے ہاتھ ملاتا ہوں، اور جو ہاتھ ملاتا ہے اسے گلے سے لگا لیتا ہوں۔

دھرم جی ہر دل عزیز اداکار تھے—حقیقی معنوں میں عوامی اداکار—جسے عوام نے چاہا اور ہیرو بنایا۔ وہ ستر کی دہائی میں راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن کے دور میں، اور 80 کی دہائی میں امیتابھ بچن اور متھن چکرورتی کی اسٹارڈم کے باوجود مسلسل ہٹ فلمیں دیتے رہے۔ اب تک 100 کے قریب ہٹ فلموں کا ریکارڈ ہے جو شاید کوئی توڑ سکے۔

دھرم جی نے ستیاکام، آئی ملن کی بیلا، یادوں کی بارات، آنکھیں، رضیہ سلطان، گڈی جیسی فلموں میں پیچیدہ کردار نگاری کی۔ اور جینے نہیں دوں گا، حکومت، اعلانِ جنگ، راج تلک، غلامی، ہم سے نہ ٹکرانا، وطن کے رکھوالے، جورائ، ظلم کی حکومت، پھول اور پتھر جیسی ایکشن فلموں میں عوامی ہیرو بن کر ابھرے۔

پھر نوکر بیوی کا میں کامیڈی ہیرو، چپکے چپکے اور شالمار میں رومانی ہیرو بنے۔ مگر ناقدین کا رویہ ان کے ساتھ کبھی منصفانہ نہ رہا۔ انہیں نہ قومی ایوارڈ ملا، نہ فلم فیر ایوارڈ۔ جب آخرکار عمر بھر کی کارکردگی پر فلم فیر ملا تو انہوں نے شکوہ کیا: ہر سال محنت کرتا تھا، فلم فیر کی تقریب کے لیے نیا سوٹ پہن کر آتا تھا، مگر ایوارڈ نہ ملتا تھا۔

دھرم جی بہت خوب رو تھے اور عاشق مزاج بھی۔ خوبصورت لڑکیوں کا اُن پر فدا ہونا یا اُن کا کئی اپسروں پر دل ہار دینا معمول کی بات تھی۔ مینا کماری کی فلم پاکیزہ میں ان کا پہلا عشق جاگا۔ مینا کماری سے قربت اور دلیپ کمار سے دوستی—جنہیں وہ اپنا ہیرو کہتے تھے—نے دھرم جی کو اردو کا شیدائی بنا دیا۔ وہ اردو سیکھنے لگے، پھر نظمیں بھی لکھیں۔ اپنی سوانح عمری بھی اردو میں لکھ رہے تھے جو ابھی ادھوری تھی۔

دھرم جی اور ہیما مالنی کا بلاخیز عشق پورے بھارت کو ہلا دینے والا تھا۔ دھرم جی پہلے سے شادی شدہ تھے۔ ہندو دھرم میں ایک وقت میں ایک ہی شادی کی جاتی ہے، مگر روایت ہے کہ کمال امروہی کے مشورے پر دھرم جی اور ہیما جی نے مسلم نکاح کیا تھا۔

دھرم جی نے زندگی بھر محبتیں سمیٹیں، مگر ایک غلطی کی—جب سیاست میں آئے۔ وہ بھاجپا کے ٹکٹ پر لوک سبھا کے رکن بنے، مگر پھر اپنے حلقے میں غیر فعال ہو گئے۔ اہلِ حلقہ نے احتجاجاً ان کی گمشدگی کے اشتہار تک لگا دیے۔ یہی غلطی سنی دیول، امیتابھ بچن، گووندا نے بھی کی اور اب متھن چکرورتی بھی کر رہے ہیں۔ آپ سب فنکار ہیں، فنکاری سے دل جیتتے ہیں—سیاست گری آپ کا کام نہیں۔

مزیدخبریں