Type to search

تجزیہ ثقافت حقوقِ نسواں معاشرہ

اماں ! اس کا دیا کھانا، مجھے کھا گیا

  • 26
    Shares

آج میرے سامنے کھانے کے برتن پڑے ہیں اور میرے جسم پر سفید رنگ کے کپڑے ہیں۔ وہ کھانا جو میرے بیٹے نے میرے لیے کمایا اور وہ کپڑے جو میرا بیٹا میرے لیے لایا۔

میں ساری عمر ان دو چیزوں کے لیے محتاج رہی ہوں۔ پہلے ابا کی پھر شوہر کی اور اب بیٹے کی۔

مگر یہ محتاجی قدرتی نہیں تھی۔ دیکھیں، دیکھیں ہاتھ پیر سب اعضاء پورے ہیں۔ کام بھی ٹھیک سے کرتے ہیں۔ دماغ بھی شاید ہو ہی یا شاید نہ ہو۔ یا مجھے لگتا ہے دماغ بہت آہستہ کام کرتا ہے میرا۔ جیسے آج جب اس دنیا سے جانے کا وقت قریب ہے۔ جب ماس ہڈیاں اور جسم طاقت چھوڑ چکا تب مجھے بتا رہا ہے کہ بی بی

یہ محتاجی قدرتی نہیں اختیاری اور سماجی تھی!

مطلب ساری عمر ان دو چیزوں کے لیے جانے کیا کیا سہا۔ ان کی قیمت کے طور پر اپنی آزادی، عزت نفس، انا سب قربان کر دی تو آج یہ پا جی مجھے کہہ رہا ہے کہ یہ دونوں تو تم خود بھی کما سکتی تھی۔

مجھے تو لگتا ہے کہ بہلا رہا ہے مجھے یہ دماغ۔ اماں تو اتنی سیانی تھی کیا ان کو نہ پتہ ہو گا کہ میں اپنا رزق خود بھی کما سکتی ہوں؟ اگر پتہ تھا تو پھر انہوں نے میرے لیے یہ زندگی کیوں چنی۔

ایک ایک روپے کے لیے ساری عمر ابا کے آگے ہاتھ کیوں پھیلایا؟ مانگنا تو بہت مشکل ہوتا ہے۔ مانگنے کا مطلب تو دینے والے کو خدا کرنا ہوتا ہے۔

اوہ ہاں ! آج سمجھی اسی لیے تو اماں ابا کو مجازی خدا کہتی تھیں۔ وہی دیتے تھے نہ اماں کو رزق لا کے۔ تو اسی لیے اماں نے ان کو خدا مان لیا۔ اپنا سب ان کے سامنے ہار دیا۔

مگر یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس میں فائدہ زیادہ کس کا ہوا۔ اماں کو تو روٹی اور کپڑا ملا۔ ابا کو تو خدائی مل گئی۔ اماں پر پورا اختیار، جہاں دل کیا جھکا لیا، جو چاہے سلوک کرو، جو چاہے ان کے لیے فیصلہ کرو۔ اب کون ہے جو رزق کما کے دینے والے کے خلاف جائے؟ تو اماں کو تو اپنا آپ ان کے پاس اسی لیے گروی رکھنا پڑا ہو گا۔

نہ ساری عمر کچھ کمایا نہ اس روٹی کا قرض اتارا۔ سو عمر گزاری تاوان ادا کرتے کرتے ہاتھ پھر بھی کچھ نہ آیا۔

اماں! آج میرا یہ نکما سا دماغ مجھے کہہ رہا ہے تو بلاوجہ اپاہج بنی رہی۔ آج جب گھر میں کام والی آتی ہے اور ہر مہینے اپنے کام کا معاوضہ مانگتی ہے تو سوچتی ہوں یہ کام تو میں نے بھی کیا تھا اماں تو نے بھی کیا تھا۔ کیا ملا بدلے میں ؟ کماؤ تو پتہ چلے گھر بیھٹے سب کھانے کو مل جاتا ہے تو کوئی قدر نہیں۔

مگر جب یہی عورت یہی کام میرے گھر آ کے کرتی ہے تو شام کو واپسی پر فخر سے اپنی تھکن دکھاتی ہے۔ اس کی آواز میں رباب ہوتا ہے، دیکھو میں کما کے لائی ہوں۔ بچوں قدر کرو۔ شوہر سے بن کہے کہتی ہے، برابری پر بات کرنا۔ آواز غصے کی شدت سے پھٹے نا۔ میں یہ گھر تمھارے ساتھ مل کر چلاتی ہوں، صرف تمھارے گھر کو سنبھالتی نہیں ہوں۔ یہ گھر میرا بھی اتنا ہے، جتنا تمھارا۔  ۔

ہم نے گھر چلایا نہیں کسی کا، بس گھر سنبھالا ہے۔ وہ پہلے دن سے کسی کا تھا آخر دن تک کسی کا رہا۔

ہم نے ماں کبھی جانا ہی نہیں اپنے گھر کا مان اور اپنی کمائی کا فخر کیسا ہوتا ہے ؟ پتہ ہے کیوں اماں ؟ اس لیے کہ ہم نے کبھی اپنے ہنر کو نہیں جانا۔ اماں کچھ تو ایسا تھا جو تو کر سکتی تھی جو کرنے کو میں بنی تھی مگر ہم نے نہیں کیا، ہم دھوکے میں آ گئے۔ مرد کے دھوکے میں، سماج کے دھوکے میں۔

ہمیں کہا گیا تم صرف گھر سنبھالنے کو بنی ہو۔ گھر بنانے یا چلانے کو نہیں۔ پتہ ہے کیوں؟ کیوں کہ اس میں مرد کی خدائی برقرار رہتی ہے، اس کے کما کے لانے کا مان برقرار رہتا ہے۔ ہماری محتاجی ہمیں باندھے رکھتی ہے، جھکائے رکھتی ہے، ہم برابر کا گھر بنا کر برابر کی آواز میں بات نہیں کر پاتے۔

اماں کبھی سوچا کیسا کھیل ہو گیا ہمارے ساتھ ۔ ابا کے مجازی خدا رہنے میں تمھارا نہیں ان کا فائدہ تھا۔ کبھی خدائی بھی کسی کو بری لگی ہے۔ کوئی کبھی اپنے سامنے جھکے سر سے بھی پیار کرتا ہے نہیں اماں نہیں ۔ محبت تو برابری پر ہوتی ہے۔ ابا نے ہمیں سنبھالا نہیں قید کیا۔

ہمیں مان نہیں دیا ہمارا ہنر چھین کر ہر وقت بے امان ہونے کی تلوار کو ہم پر لٹکا دیا۔

ابا محبت کرتے تو جینا سکھاتے، سر اٹھانا سکھاتے، پہلے اپنے حصے کا رزق کمانا سکھاتے۔ جس گھر کو بسانے کا حکم دیا اس گھر کو بنانے کی سبیل سکھاتے۔ کسی کے گھر کو سنبھالنے کی ذمہ داری دینے کی بجاے اپنی چھت کے اسباب کمانا سکھاتے۔

اماں کبھی خدا اور بندے میں برابری کا رشتہ ہو سکتا ہے ۔پھر مجھ میں اور ان میں یا آپ میں اور ابا میں کیسے ہو سکتا تھا ۔ یہ رشتہ اونچ نیچ کا ہے حکمران اور محکوم کا ہے ۔ اس کو برابر اگر کچھ لا سکتا ہے تو دونوں کا انسان ہو جانا۔ دونوں کا اپنے حصے کا رزق کمانا ایک کو کفیل بنا کر دوسرے کو محتاجی سے نواز نا درست نہیں۔

اماں ! اس کی بات چھوڑ تو بتا۔ پہلے دن سے بتا۔ تجھے بیٹا کیوں چاہیے تھا؟ وہ کما کے لاتا ہے اسی لیے نا۔ ایک دن سہارا بنتا ہے رزق لانے کو۔ یہی وجہ تھی نا۔ ماں کبھی سوچا میں بھی کما سکتی تھی، بوجھ سے سہارے تک کا سفر طے کر سکتی تھی۔ نہیں سوچا ہونا تو نے۔ تیری تو سوچ غلام تھی نا۔ تیرے معاشرے اور تیرے آقا کی باندی۔ ورنہ تو ضرور سوچتی جب رب کیڑوں تک کو رزق ڈھونڈنا سکھاتا ہے میں تو انسان تھی۔ مجھ میں یہ خو کیوں نہ ڈالی ہو گی اس نے۔

اماں ! تجھے پتہ ہے بھائی کی کمائی عزت کا اور میری کمائی بےعزتی کی وجہ کیوں ہے۔ کیوں کہ میری کمائی بھائی کی بادشاہی کو مقابلہ دیتی ہے ۔ ساری جنگ ہے ہی رزق کی۔ جو کمائے وہ شاہ باقی سب گدا۔ اماں ! انھوں نے تو اپنی بادشاہی قائم رکھنے کو تجھے کمزور کہا تو نے مان لیا۔ کبھی سوچا تو کہاں کمزور ہے ۔ گھر کے باہر سڑک پر وزن اٹھانے سے لیکر بڑے بڑے دفتروں تک ، جسمانی مشقت سے لیکر ذہنی تگ و دو تک ہر جگہ تو برابر تھی مگر جھوٹ بولا گیا تیرے ساتھ ۔ تجھے کمزور کہا تو نے مان لیا۔ تیری قابلیت پر سوال کیا تو نے خود کو ثابت کرنے کی بجائے قدم پیچھے کر لیے۔

اماں اس میں ہمارا نہیں معاشرے کا فائدہ تھا ۔آدھے لوگوں کو تو اس ڈور سے ویسے ہی نکال دیا اور جس گھر کا خواب دکھایا وہ کبھی دیا ہی نہیں۔ کیوں کہ اماں جس دن سے دنیا بنی ہے پہلا سوال بھوک مٹانے کا اٹھا۔ رزق کمانے کا۔ جس نے کمایا وہی بادشاہ کہلایا ۔ اگر برابر کی عزت چاہیے تو برابر کا کمانا ہو گا ۔

ہاں ! اماں تجھے بھائی کے ہی نہیں میرے بھی کرتے کو جیب لگانی ہو گی ۔ جب تک میری قیمض پر تو جیب لگانے کو لازم نہیں کرے گی اور میں اس جیب میں اپنے حصے کا رزق خود کما کے نہیں ڈالوں گی برابری ، محبت احترام کے سب دعوی جھوٹے رہیںگے۔

کیوں کہ جب بھی محتاجی آتی ہے سر خود ہی جھکا دیتی ہے ۔ اگر سر اٹھانا ہے ۔ کسی کو پھر سے خدا سے انسان بنانا ہے تو پھر اپنے حصے کا رزق خود کمانا سیکھنا ہو گا کہ اماں ! کسی کا کمایا رزق پہلے سر کو نیچا کرتا ہے۔

پھر اس رزق کے چھین جانے کا ڈر آپ کو ایسے اپاہج کرتا ہے کہ سواۓئ سر جھکانے کے ہر غلط پر آپ کچھ کر ہی نہیں پاتے ۔ ساری عمر گھر میں خود کو بہتر غلام ثابت کرتے گزر جاتی ہے۔ اماں تجھے لگتا ہے کہ اگر میں سر نہیں جھکاؤں گی تو رشتہ نہیں نبھے گا۔ نہیں اماں اگر برابری نہ ہو تو رشتہ بنتا ہی نہیں ۔ ایک مالک ہو جاتا ہے دوسرا محکوم اس رشتے کی ساری خوبصورتی ایک کا خدا ہونا کھا جاتا ہے ۔ اور آپ کے سامنے پڑا کھانا کب آپ کی عزت کو ،انا کو، مان کو یہاں تک کہ ہنر کو کب کھا جاتا ہے پتہ بھی نہیں چلتا اور جن کے اندر کو محکوم ہونے کا دکھ کھا جاے انا سے کوئی کیا رشتہ رکھے کہ رشتے تو زندہ انسانوں کے بیچ ہوتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اماں ہر عورت کے کپڑوں پر اب جیب سل دی جائے اور اس کے ہاتھ کو وہ ہنر دیا جائے کہ وہ اس جیب میں اپنے حصے کا رزق کما کے ڈالے۔ تبھی کوئی خدائی کے مقام سے نیچے آئے گا تبھی برابری کا رشتہ بھی بنے گا اور تبھی میرا اندر بھی احسان مندی کے بوجھ تلے دبنے کی بجائے اپنے مالک آپ ہونے کے احساس سے کھلکھلا کے ہنسے گا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *