Type to search

انسانی حقوق انصاف تجزیہ حکومت

کیا تشدد اختلاف سے نمٹنے کا واحد طریقہ ہے؟

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو آج صبح مانسہرہ میں بیدرہ روڈ پر نامعلوم افراد نے لوہے کے ڈنڈوں سے مار مار کر زخمی کر دیا۔ ان کے دو بیٹوں سمیت کل چار لوگوں پر یہ حملہ کیا گیا اور انہیں اسی حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔ تاحال یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ یہ لوگ کون تھے، مگر مفتی کفایت اللہ کے بیٹے کی جانب سے داخل کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق یہ وہی ’نامعلوم افراد‘ تھے جو ہمیشہ نامعلوم ہوا کرتے ہیں۔

اگر ایسا ہے تو یہ پہلا واقعہ نہیں جس میں کسی شخص نے ریاستی معاملات پر کھل کر تنقید کی ہو اور اس کو ’نامعلوم افراد‘ کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات تواتر سے پیش آتے رہے ہیں۔ 2010 میں جنگ گروپ سے منسلک صحافی عمر چیمہ کو اٹھا کر بری طرح سے مارا پیٹا گیا اور ان کے سر اور چہرے کے بال منڈھ کر انہیں برہنہ کیا گیا اور ان کی قابلِ اعتراض حالت میں ویڈیو بنائی گئی۔ ایک موقع پر جب وہ زمین پر اوندھے منہ لیٹے تھے اور ان کے ہاتھ ہتھکڑی سے بندھے تھے تو نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق ان کو ایک شخص کی آواز آئی کہ ’اگر تم rape کو روک نہیں سکتے، تو اس سے لطف لو‘۔

اس سے قبل مشرف دور میں ایسے بے شمار واقعات پیش آئے جب سابق آمر کے سیاسی مخالفین کو بدترین ذہنی، جسمانی اور جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، مشاہد اللہ خان اور جاوید ہاشمی نے ہر طرح کی صعوبتیں اس دور میں برداشت کیں۔

ان سے پہلے جنرل ضیا الحق کے دور میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور ورکرز کو بھی اذیتیں دی گئیں، قید و بند میں ڈالا گیا، کوڑے لگائے گئے اور ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران کئی لوگ مارے بھی گئے۔

لیکن یہ سب کچھ غیر سیاسی ادوار میں ہوتا رہا۔ 2008 میں ملک میں جمہوریت لوٹنے کے بعد امید تھی کہ اس روش کو چھوڑ دیا جائے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ عمر چیمہ وہ واحد صحافی نہیں جنہوں نے ریاستی اور حکومتی معاملات پر دبنگ رپورٹنگ کی سزا پائی۔ اس واقعے کے چند ہی ماہ بعد سلیم شہزاد کی لاش بھی ریاستی دارالخلافے سے چند میل کے فاصلے پر ملی تھی۔ ان کا قصور بھی آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔

زینت شہزادی بی بی سی کی ایک رپورٹر تھیں جنہیں پاکستان کی جیل میں قید ایک بھارتی قیدی پر رپورٹنگ کرنے کی پاداش میں کئی سال غائب رکھا گیا اور پھر وہ صحافت کو خیرباد کہہ گئیں کیونکہ ان کے بھائی نے اسی دوران ان کی گمشدگی سے تنگ آ کر خودکشی کر لی تھی۔

جنوری 2017 میں متعدد سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور کارکنان کو جبری طور پر گمشدہ کیا گیا۔ ان میں سے ایک کارکن ثمر عباس کو 14 مہینے قید و بند میں رکھا گیا۔ اکتوبر 2018 میں صحافی احمد نورانی کو ابتدائی اطلاعات کے مطابق ’نامعلوم افراد‘ نے ہی پیٹا تھا۔ بعد میں ’معتبر‘ اخبار روزنامہ جناح نے خبر دی کہ ان کو ’لڑکی کے بھائیوں‘ نے مارا تھا۔

احمد نورانی کا کیس کوئی اکیلا واقعہ نہیں ہے۔ ہر بار اس قسم کا واقعہ پیش آنے کے بعد ایسی ہی جھوٹی کہانیاں مشہور کروائی جاتی ہیں۔ فلاں صحافی کو غیر ملکی ایجنسیوں نے قتل کر دیا، فلاں صحافی کو لڑکی کے بھائیوں نے پیٹ ڈالا، اور کوئی تو خود ہی غائب بھی ہو جاتا ہے، اور خود سے واپس بھی آ جاتا ہے۔ اور اب لکھ رکھیں کہ مفتی کفایت اللہ کی ایف آئی آر کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ ریاست ماں کے جیسی ہے تو پھر اپنے بچوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک نہ کرے۔ تنقید کو برداشت کیجئے۔ یہ اس ملک کی بہتری کے لئے ہی کی جاتی ہے۔ اسے ذاتی عناد بنا کر مخالفین پر تشدد کروانا قرونِ وسطیٰ کی میراث ہے۔ مہذب دنیا میں چلنے کا یہ ڈھب نہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *