Type to search

انصاف تجزیہ سیاست

عمران سرکار کو اپنے رویے پر بڑا ”یوٹرن“ لینا ہو گا

سپریم کورٹ نے اپنے مختصر حکم نامے میں بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو پارلیمان کی طرف سے چھ ماہ کے اندر مناسب قانون سازی ہونے تک اپنے عہدے پر کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ حکومت کی طرف سے پہلے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

مختصر حکم نامے میں حکومت اور پارلیمان سے کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ اور آئین کے آرٹیکل 243 میں مناسب ترامیم کے ذریعے بری فوج کے سربراہ کی تعیناتی، مدت ملازمت، تنخواہ، سہولیات، دوبارہ تعیناتی اور توسیع سے متعلق قانون سازی کرے۔ چھ ماہ بعد جنرل باجوہ کے مستقبل کا فیصلہ پارلیمان کی ہونے والی قانون سازی کرے گی۔

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے قانونی جواز لازمی بنا دیا

مختصر فیصلے سے بادی نظر میں حکومت پابند ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم بھی کروائے اور آرمی ایکٹ میں بھی۔ حالانکہ اس پر مختلف آراء آ رہی ہیں لیکن زیادہ وضاحت تفصیلی فیصلے کے نتیجے میں سامنے آئے گی۔

تین دن کی اس بحث نے فوج کے ادارے اور اس کے سربراہ کے امیج پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں لیکن زیادہ نقصان حکومت کا ہوا ہے جو پچھلے پندرہ ماہ میں ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران میں داخل ہو گئی ہے۔

اس فیصلے کا سب سے بڑا نقصان حکومت کا ہوا ہے۔ فوج کے سربراہ کی تعیناتی کا اختیار موجودہ بحران کی وجہ سے حکومت کے ہاتھ سے نکل کر اس پارلیمان کے پاس چلا گیا ہے جس سے یہ حکومت متحارب ہے۔

کیا عدلیہ اور ملٹری کا گٹھ جوڑ: کیا کچھ نیا ہونے جا رہا ہے؟

اب اگر صرف پارلیمانی ایکٹ میں بھی ترمیم ہونی ہے تب بھی یہ کام مشکل ضرور ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت اور اس کے اتحادیوں کے پاس اکثریت حاصل ہے لیکن پھر بھی اس پر بحث ہوگی لیکن سینیٹ میں اکثریت حزب اختلاف کے پاس ہے لیکن کیونکہ فیصلے میں آرٹیکل 243 میں مناسب ترمیم کا واضح طور پر ذکر بھی ہے اس لیے حکومت مکمل طور پر حزب اختلاف کے رحم و کرم پر ہے۔

آئین کے کسی آرٹیکل میں ترمیم کیلئے دونوں ایوانوں میں الگ الگ طور پر دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت کیلئے یہ مقصد حاصل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عمران سرکار اونچی پہاڑی سے اتر کر حزب اختلاف کی قدم بوسی کرے اور مصالحانہ رویہ اختیار کرے۔

کیا عدلیہ اور ملٹری کا گٹھ جوڑ: کیا کچھ نیا ہونے جا رہا ہے؟

 

لیکن جس طرح فیصلہ آتے ہی عمران خان نے اپنی توپوں کا رخ ایک بار پھر حزب اختلاف کی طرف کیا ہے اس سے انہوں نے خود ہی ضروری قانون سازی اور جنرل باجوہ کے مستقبل بطور بری فوج کے سربراہ کے طور پر نئے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

اب اگر حکومت کو یہ تعاون نہیں ملتا تو خود عمران حکومت کا مستقبل بھی خطرے کے زون میں جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

اگر عمران سرکار سپریم کورٹ کے فیصلے پر کامیابی سے عمل درآمد کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنے رویے پر ایک بڑا یوٹرن لینا پڑے گا ورنہ اس کا اپنا مستقبل غیر یقینی ہوجائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *