Type to search

انٹرٹینمنٹ خبریں میڈیا

کوک سٹوڈیو کی اقساط یوٹیوب پر جاری کیوں نہیں کی جا رہیں؟

  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

رواں برس اکتوبر میں شروع ہونے والے ’کوک اسٹوڈیو‘ کے 12 ویں سیزن کی چھٹی قسط بھی مکمل طور پر یوٹیوب کے بجائے صرف فیس بک پر جاری کردی گئی، اس سے قبل پانچویں قسط کے گانوں کو بھی صرف فیس بک پر جاری کیا گیا تھا۔

کوک اسٹوڈیو کی پہلی چاروں قسطوں کے تمام گانوں کو فیس بک سمیت یوٹیوب پر بھی جاری کیا گیا تھا، تاہم چوتھی قسط کے صنم ماروی کے گانے ’حیراں ہوا‘ سمیت دوسری قسط کے دو گانوں ’بلو اور سیاں‘ کو کاپی رائٹس کی وجہ سے یوٹیوب سے ہٹائے جانے کے بعد اب کوک اسٹوڈیو نے چھٹی قسط کے دو گانوں کو بھی یوٹیوب پر جاری نہیں کیا۔

اگرچہ کوک اسٹوڈیو کی جانب سے گانوں کو یوٹیوب پر جاری نہ کیے جانے کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ ’کاپی رائٹس‘ کے خوف کی وجہ سے انتظامیہ نے یوٹیوب پر گانے جاری نہیں کیے۔

رواں ماہ 21 نومبر کو جاری کی گئی چوتھی قسط کے صنم ماروی کے گانے ’حیراں ہوا‘ کو یوٹیوب سے ’کاپی رائٹس‘ کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔

صنم ماروی کے گانے پر عابدہ پروین نے ’کاپی رائٹس‘ کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد یوٹیوب سے اسے ہٹایا دیا تھا جب کہ اس سے قبل کوک اسٹوڈیو کے 12 ویں سیزن کے 2 گانوں کو ’کاپی رائٹس‘ کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔

پانچویں قسط کے گانے بھی یوٹیوب پر جاری نہیں کیے گئے تھے—فوٹو: کوک اسٹوڈیو

کوک اسٹوڈیو 12 کی دوسری قسط کے گانے کے ابرار الحق کے گانے ’بلو‘ اور ریچل وکاجی اور شجاع حیدر کے ’سیاں‘ کو بھی کاپی رائٹس کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابرار الحق کے اپنے ہی گائے گئے گانے ’بلو‘ کو ایک نجی انٹرٹینمنٹ کمپنی کے دعوے کے بعد ہٹایا گیا تھا۔ اسی طرح ریچل وکاجی اور شجاع حیدر کے گانے کو بھی کاپی رائٹس کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔

پہلی قسط 18 اکتوبر کو ریلیز ہوئی تھی—اسکرین شاٹ

کاپی رائٹس کے دعووں کے بعد کوک اسٹوڈیو انتظامیہ نے چھٹی قسط کے بھی صرف 2 گانے یوٹیوب پر جاری کیے جب کہ باقی دو گانوں کو فیس بک پر جاری کردیا گیا۔

چھٹی قسط کو گزشتہ روز 29 نومبر کو جاری کیا گیا تھا اور اس میں شامل عاطف اسلم اور کاشف دین و نمرا رفیق کے گانوں کو یوٹیوب پر جاری کیا گیا جب کہ ایک سندھی اور پنجابی گانے کو یوٹیوب پر جاری نہ کیا جا سکا۔

چھٹی قسط میں پہلی اور پانچویں قسط کی طرح 4 گانے جاری کیے گئے ہیں اور چاروں میں سے ایک گانا ’ٹڑی پوندا‘ مکمل طور پر سندھی زبان میں جاری کیا گیا ہے جب کہ ایک گانا ’منڈیا‘ پنجابی میں جاری کیا گیا۔

چھٹی قسط کے ایک گانے کو بروششکی اور اردو زبان میں جب کہ ایک گانا اردو زبان میں جاری کیا گیا تھا۔

چھٹی قسط میں شامل سندھی گانے ’ٹڑی پوندا‘ کو لاہور کے خواتین کے میوزیکل بینڈ ’ہرسکھیاں‘ نے گایا ہے اور اس کلاسیکل گانے کو روایتی انداز میں گائے جانے کے بجائے جدید انداز میں گائے جانے پر مداح ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری قسط کے دو گانے کاپی رائٹس کے تحت ہٹائے جا چکے ہیں—اسکرین شاٹ

’ٹڑی پوندا‘ کو سندھ کے معروف لوک فنکار منفرد انداز میں گا چکے ہیں اور اس گانے کی شاعری شاہ لطیف دوئم کہلائے جانے والے شیخ ایاز نے لکھی ہے جسے رومانوی و انقلابی شاعر بھی کہا جاتا ہے۔

کوک اسٹوڈیو کی چھٹی قسط میں قرت العین بلوچ اور علی سیٹھی کی آواز میں پنجابی گانا ’منڈیا‘ بھی جاری کیا گیا ہے، جس کی تعریف کی جا رہی ہے۔

چھٹی قسط میں کاشف دین اور نمرا رفیق کی آواز میں اردو اور بروششکی زبان کا گانا ’بوگیم‘ بھی جاری کیا گیا ہے، ساتھ ہی چھٹی قسط میں عاطف اسلم کی آواز میں ایک غزل بھی جاری کی گئی ہے۔

فیض احمد فیض کی غزل ’آئے کچھ ابر‘ کو عاطف اسلم نے انتہائی اچھے انداز میں پیش کیا ہے اور شائقین ان کی تعریفیں کر رہے ہیں۔

چھٹی قسط سے قبل پانچویں قسط کو 23 نومبر کو جاری کی گئی تھی اور اس میں بھی چار گانے ریلیز کیے گئے تھے۔

تیسری قسط کو 9 نومبر کو جاری کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ

پانچویں قسط میں طویل عرصے بعد فریحہ پرویز اور حدیقہ کیانی بھی اپنی آواز کا جادو جگاتی دکھائی دیں۔

انچویں قسط میں فریحہ پرویز کے ’بلما‘ اور حدیقہ کیانی کے ’ڈاچی والیا‘ کا پنجابی گانا بھی ریلیز کیا گیا۔

پانچویں قسط میں راحت فتح علی خان اور آئمہ بیگ کا ’ہیریے‘ اور ایک نوجوان پشتو گلوکار شمالی افغان کا پشتو گانا ’مرم مرم‘ بھی جاری کیا گیا۔

چوتھی قسط کو رواں ماہ 17 نومبر کو جاری کیا گیا تھا، جس میں تین گانے جاری کیے گئے تھے اور اس قسط کے صنم ماروی کے گانے ’حیراں ہوا‘ کو کاپی رائٹس کی وجہ سے یوٹیوب سے ہٹادیا گیا تھا۔

چوتھی قسط 17 نومبر کو جاری ہوئی تھی—اسکرین شاٹ

کوک اسٹوڈیو کی تیسری قسط کو رواں ماہ 8 نومبر کو ریلیز کیا گیا تھا، جس میں تین گانے شامل تھے۔

تیسری قسط کے گانے ’مبارک مبارک‘ کے بلوچی و پنجابی زبان کے گانے کو عاطف اسلم کے ساتھ بلوچستان کے میوزیکل بینڈ بنور کے ارکان نے بھی گایا تھا۔ تیسری قسط میں قوال فرید ایاز اور ابو محمد کے ’آدم‘ کو بھی ریلیز کیا گیا تھا، جب کہ عمیر جسوال کے ’چل رہا ہوں‘ کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

کوک اسٹوڈیو کی دوسری قسط گزشتہ ماہ 27 اکتوبر کو جاری کی گئی تھی، جس میں پہلی قسط کی طرح تین گانے دیے گئے تھے۔

دوسری قسط میں کشمیری و ترکی زبان کے گانے ’روشے‘ کو بھی جاری کیا تھا، جسے گلوکارہ زیب بنگش اور ساتھیوں نے گایا۔

حیراں ہوا پر عابدہ پروین نے کاپی رائٹس کا دعویٰ کیا تھا—فوٹو: کوک اسٹوڈیو

دوسری قسط میں ماضی کے مقبول گیت ’سیاں‘ کا ریمیک بھی شامل کیا گیا، جسے ریچل وکاجی اور شجاع حیدر نے گایا، تاہم دوسری قسط کے دو گانوں ’بلو‘ اور سیاں‘ کو کاپی رائٹس کے تحت ہٹایا گیا تھا۔

کوک اسٹوڈیو 12 کی پہلی قسط کو گزشتہ ماہ 19 اکتوبر کو ریلیز کیا گیا تھا، پہلی قسط میں تین گانے دیے گئے تھے، تاہم سب سے زیادہ سرائیکی گانے ’ماہی دیاں جھوکاں‘ کو پسند کیا گیا تھا۔

پہلی قسط کے ’ماہی دیاں جھوکاں‘ کو جمال فقیر تروپ اور ان کے ساتھیوں نے روایتی انداز میں پیش کیا تھا۔ پہلی قسط کے گانے ’دم مستم‘ کو راحت فتح علی خان نے جب کے تیسرے گانے ’رم پم‘ کو گلوکارہ ذوئی وکاجی اور شہاب حسین نے گایا تھا۔

ٹڑی پوندا

بوگیم

منڈیا

آئے کچھ ابر

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *