Type to search

ادب

مولوی قادر کا گناہ، اور چھوٹی پر گزری قیامت

جھٹ پٹے کا وقت نیم اندھیری کوٹھڑی میں موجود چاروں وجود ساکن۔ گویا وقت اس چھوٹی سی جگہ میں ٹھہر گیا۔ حالانکہ وقت اپنی پوری رفتار کے ساتھ گزر رہا تھا مگر اس چھوٹی سی کوٹھڑی میں صبح صادق سے مغرب ہونے کو آئی مگر وقت چاروں نفوس کے ساتھ ساکن، کبھی کبھار کسی آنے جانے والے کی وجہ سے سکوت میں کوئی کنکر گرتا، یہ ہلچل چند لمحوں کی، پھر وہی سکوت۔ کسی کے آنے جانے پر منحصر اور اس گھر میں رہنے والے تین نفوس تو ایسے جن کے حصے چند گز کا آسمان بھی کبھی کبھار ہی آتا ہو۔

کھلے آسمان سے ان کی یا آسماں کی ان سے شناسائی بہت ہی کم تھی۔ پھر بھی محلے کی کوئی خاتون خدا ترسی کرتے ہوئے چند منٹ کے لئے آ جاتی اور چند منٹ بیٹھ کر اپنی راہ لیتی۔ چاروں وجود ایک دوسرے سے لا تعلق اجنبی انداز، آپا اور باجی تو پھر بھی کبھی کوئی بات کر لیتیں۔ چار پائی پر لیٹا مولوی قادر کا وجود تو ان تمام جھنجھٹوں سے آزاد ہو چکا تھا مگر چھوٹی بھی اسی طرح گھٹنوں میں سر دیے ساکت بیٹھی تھی۔ بظاہر پر سکون مگر اندر ہی اندر زمانوں کا سفر طے کر آئی۔ اماں کی زندگی تک ٹھیک ٹھاک گزر رہی تھی۔ نہ اچھی اور نہ ہی بری۔

ایک دن اماں ایسی سوئی کہ اٹھانے پر بھی نہ اٹھی۔ چند دن کے رونے دھونے کے بعد زندگی اپنی ڈگر پر آ گئی۔ مگر گزرتے دنوں کے ساتھ آپا کا رویہ عجیب ہوتا جا رہا تھا۔ ایک دن مسجد میں کام کرنے والا یتیم بشیر دروازے پر دستک دے کر مولوی صاحب کا پیغام دینے آیا۔

تو چشم فلک نے عجیب نظارہ دیکھا۔ آپا ایکدم پورا دروازہ کھول کر سامنے کھڑی تھیں۔ وہ آپا جنہیں سورج نے بھی بے حجاب نہ دیکھا۔ بشیر ہکا بکا رہ گیا۔ ابھی سنبھل نہ پایا تھا کہ آپا بولیں اپنی ماں کو رشتے کے لئے بھیج دینا۔ اگلے دن بشیر کی بوڑھی ماں نے ڈیوڑھی کا دروازہ پہلی بار پار کیا۔ اور مولوی قادر کے پاس بیٹھی کتنی دیر من من کرتی رہی۔

چند دن انتظار کے بعد مولوی قادر شام کا کھانا کھا رہا تھا۔ آپا زور سے دروازہ کھولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں۔ بغیر کسی کو مخاطب کئے بولیں۔ بشیر کی ماں کو ہاں کر دی! اور یہ جا وہ جا۔ مولوی قادر نے ہاتھ میں پکڑا لقمہ پلیٹ میں رکھا اور بغیر کچھ بولے مسجد سے ملحقہ دروازہ کھول کر چلے گئے۔ اگلے جمعے آپا تین کپڑوں میں بشیر کے ہمراہ رخصت ہوئیں۔

باجی بھی گزرتے دنوں کے ساتھ آپا بنتی جا رہی تھیں۔ ایک دن تو حد ہی ہو گئی۔ مولوی قادر کو آئے گھنٹہ ہونے لگا مگر باجی نے اٹھ کر روٹی توے پر نہ ڈالی۔ عجب کسلمندی اور بے نیازی سے برآمدے کے تخت پر لیٹی رہیں۔

اذان کی آواز پر مولوی قادر شاید زندگی میں پہلی مرتبہ بھوکے پیٹ ظہر کی نماز پڑھانے چلے گئے۔ اگلی شام آپا آئیں اور مولوی قادر کے پاس کچھ دیر بیٹھی رہیں۔

اور اگلے ہی جمعے باجی بھی رخصت ہوئیں۔ کسی نے چھوٹی کی کم سنی اور اکلاپے کا خیال نہ کیا۔ بس آتے جاتے آپا اور باجی چھوٹی کو کمرے کی کنڈی لگا کر سونے کا کہتیں۔ گھر کا کیا حال ہے۔ روٹی کچی بنتی ہے یا پکی، ہانڈی کیسے روز جل جاتی ہے کسی کو فکر نہ تھی۔

پچھلی رات بستر پر لیٹ کر کب آنکھ لگی پتا نہیں، البتہ آنکھ کھلنے پر کچھ عجیب سا احساس ہوا۔ ایک بوجھ تھا جو پورے وجود پر چھا گیا۔ چیخ بھی حلق میں گھٹ کر رہ گئی۔ کھڑکی سے آتی چاند کی مدہم روشنی، منہ سے بے ساختہ نکلا، ابا!

ابا نے کیا کیا، یہ تو پتہ نہیں۔ البتہ یہ ضرور احساس ہوا کچھ غلط ہو رہا ہے۔ چند منٹ بعد آہستگی سے اٹھے اور دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکل گئے۔ پورا جسم بے جان۔ کتنا وقت گزر گیا، کچھ ہمت کر کے اٹھی۔ کپڑے درست کرتے ہوئے بابر نکل آئی۔

گھسٹتے ہوئے نلکے کے پاس تھڑے پر بیٹھ گئی۔ نلکا چلا کر غلاظت دور کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ جسم میں جان ہی نہ تھی۔ بیٹھے بیٹھے منہ سے ﷲ نکلا اور آنسو بے اختیار بہنے لگے۔

خود بخود زبان سے قنوت نازلہ نکلنے لگی۔ کب اور کیوں اماں نے یاد کروائی تھی۔ کچھ پتا نہیں، کتنا وقت ایسے ہی گزر گیا معلوم نہیں، کیونکہ چھوٹی تو سفر طے کر آئی تھی۔

اتنے میں مسجد سے ملحقہ دروازہ زور سے بجا۔ تہجد کا وقت تھا یا فجر کا؛ کتنی دیر سے دروازہ بج رہا تھا، گھسیٹی ہوئے گئی اور دروازہ کھول دیا۔ کون تھا جو مولوی قادر کا پوچھ رہا تھا، ہاتھ سے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ کون اندر گیا، کب باہر آیا۔ اسے پتہ اس وقت چلا جب آپا اور باجی آئیں۔ صبح سے شام ہونے کو آئی۔ تین بار قبر کھودی ہر مرتبہ اتنا بڑا پتھر نکل آتا، قبر پوری نہ ہو پاتی۔ نئے سرے سے قبر شروع ہوتی! پھر یہی ہوتا۔

سارے گاؤں والے توبہ استغفار کرنے لگے اتنے نیک آدمی سے کیا گناہ سرزد ہوا۔ زمین جگہ نہیں دے رہی، پہلے دبی زبان سے لیکن اب کھل کر کہہ رہے تھے، سب مولوی قادر کو معاف کرو۔ پتہ نہیں جانے انجانے میں کیا خطا سرزد ہوئی؟

چوتھی مرتبہ خدا خدا کر کے قبر تیار ہوئی۔ ایک بڑا سا کالا سانپ نجانے کدھر سے نکل آیا اور قبر میں بیٹھ گیا، لوگ ڈرتے ہوئے بھاگ گئے۔ بشیر دوسری بار اندر آیا اور آپا سے بولا ساتھ والے گاؤں کے مولوی صاحب کہہ رہے ہیں آپ لوگ بھی پورے دل سے مولوی صاحب کو معاف کر دیں، اندھیرا پھیل رہا ہے اور لاش کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔

باجی اور آپا نے ﷲ کے واسطے معاف کرتے ہوئے چھوٹی کی طرف التجائیہ انداز سے دیکھا، چھوٹی ساکت بیٹھی تھی۔ باجی آگے بڑھیں اور اپنے ہاتھ دھیرے سے چھوٹی کے پاؤں پر رکھ دیے۔ چھوٹی پاؤں پیچھے کرتے ہوئے بولی معاف کیا۔ دل سے کہو ﷲ کے واسطے معاف کیا۔ چھوٹی دھیرے سے بولی، ﷲ کے واسطے معاف کیا۔

دن بھر کے انتظار میں کوفت زدہ لوگوں نے جلدی سے چار پائی اٹھائی۔ کلمہ شہادت، سانپ ایک طرف کھائی میں اترتا ہوا غائب ہو گیا۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *