Type to search

بلاگ تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست

دسمبر کا مہینہ اور عطر کی شیشی

  • 16
    Shares

"دھرنا ایپی سوڈ " کے دوران قائد آزادی مارچ ایک دن "اچانک” ملتان میں تھے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی "اتفاق” سے۔ منتری جی اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق راجدھانی جانے کے لئے گھر سے ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوتے ہیں تو راستے میں اچانک انہیں ایک اہم نمبر سے ایک فون کال موصول ہوتی ہے اور اُنہیں کہا جاتا ہے کہ وہ یہ فلائٹ مس کر دیں اور واپس گھر چلے جائیں اور اگلی کال کا انتظار کریں۔ قریشی صاحب کو چند گھنٹوں بعد دوبارہ کال آتی ہے جس میں اُنہیں بتایا جاتا ہے کہ اب فلاں وقت، فلاں نمبر کی پرواز پکڑ کے وہ اسلام آباد آ جائیں۔ انہیں ٹکٹ ایئرپورٹ پر پہنچا دی جائے گی۔

منتری جی جہاز میں جب اپنی سیٹ پر پہنچتے ہیں تو برابر والی سیٹ "اتفاق” سے قائد آزادی مارچ مولانا فضل الرحمان کی ہوتی ہے جو ملتان سے واپس اسلام آباد جا رہے ہوتے ہیں۔ پھر راجدھانی تک دوران پرواز دونوں سیاست کاروں کی گفتگو میں ممکنہ "ان ھاؤس چینج” کے خال و خد آپریشن کے بعد کی احتیاطی تدابیر زیر بحث آتی ہیں۔

خیال ہے کہ اس موقع پر مولانا کو اس عطر کی مہک بھی محسوس ہوتی رہتی ہے جس کی شیشی ہفتہ دو ہفتے پہلے "چیف فرشتے” نے ایک تفصیلی ملاقات کے بعد رخصت کرتے وقت بطور تحفہ پیش کی تھی، اگرچہ اس ملاقات اور اس میں ہونے والے مذاکرات کے دوران تلخ و ترش گفتگو کے لمحات بھی آئے تھے۔

یہ حقیقت تو سب پر واضح ہے کہ جس طرح مولانا نے اسلام آباد میں اپنے پُرامن اور مُنظم دھرنے سے دُنیا کو حیران کر دیا تھا، اُسی طرح اپنی راتوں رات اچانک واپسی پر بُہت سوں کو پریشان بھی کیا۔ مگر مولانا سیاست کے اتنے سمارٹ کھلاڑی ہیں کہ راجدھانی سے اپنی سرپرائز واپسی کے چند روز بعد ایک پریس کانفرنس میں جہاں اُنہوں نے اقتدار کے ایوانوں کی طرف سے خود کو دی جانے والی مختلف پیشکشیں گنوائیں، وہاں اُس پیشکش کا ذکر تک نہیں کیا جو "مائنس وَن” فارمولے پر مبنی تھی۔

بہرحال مولانا کو بطور تحفہ عطر کی شیشی پیش کیے جانے کے بعد کے چند ہفتوں میں سیاست اور انصاف کے ایوانوں میں اوپر تلے رونما ہونے والے بعض اہم واقعات کی صورت میں ملک کے سیاسی افق پر یکایک جو گھٹائیں چھائیں اُن سے قریباً سبھی کے ذہنوں پر اندھیرا سا چھا گیا۔ لیکن اگر کسی کا ذہن برابر روشن رہا تو وہ تھے مولانا فضل الرحمان۔ کیونکہ بتانے والے بتاتے ہیں کہ انہیں بتا دیا گیا تھا کہ بس دسمبر کا انتظار کریں۔

"بس زیادہ سے زیادہ جنوری، یعنی نئے سال کے آغاز پر ہی "تبدیلی” کے سفر کا آغاز ہو جائے گا”

ان پیش ہائے رفت میں پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن کمیشن میں برسوں سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس کا کھل جانا اور پھر عین آخری لمحوں میں میعاد میں توسیع کے حوالے سے تجاوزات کیس کی تابڑ توڑ سماعت نمایاں ہیں۔ درون خانہ کی خبر رکھنے والوں کا ایک بار پھر یہی کہنا ہے کہ اقتدار اور انصاف کے ایوانوں میں رونما ہونے والی ان سرپرائز "پیش رفتوں” پر اگر کوئی ذرا سی بھی حیرت کا شکار ہوئے بغیر محض مسکراتے ہوئے سارا تماشہ دیکھتا رہا ہو گا تو وہ مولانا فضل الرحمان ہی ہوں گے۔

ان طلاطم خیز پیش ہائے رفت سے جو ایک اہم تبدیلی بظاہر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ 2017 میں ریاست کے دو انتہائی اہم اداروں اور ایک سیاسی جماعت کی شراکت سے اقتدار و اختیار کی جو نئی ٹرائیکا تشکیل پائی تھی، وہ ٹوٹ رہی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *