Type to search

تجزیہ تعلیم حکومت سیاست معاشرہ

سرخ طلبہ تحریک کے نام

میرے بھائیو اور بہنو! مجھے آپ کے نظریات سے بہت سے اختلافات ہیں لیکن پھر بھی مجھے آپ سے دلی ہمدردی ہے اور میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کے طلبہ سیاست میں بھرپور حصہ لیں تاکہ پاکستان میں حقیقی قیادت ابھر کر آگے آئے اور اشرافیہ کا سیاست پر قبضہ ختم ہو۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے نظریات سے اختلاف تو اپنی جگہ ہے لیکن آپ کے طریقہ کار تحریک کے ڈھانچے میں بھی کچھ خامیاں ہیں، خامیاں کیا ہیں بلکہ جس سیاست کو کرنے کا آپ حق مانگ رہے ہیں اسی سیاست کا آپ کی اس تحریک میں شدید فقدان نظر آرہا ہے.۔

صرف سیاست ہی نہیں حکمت،  تدبر، تحمل ، نظم وضبط کی بھی شدید کمی نظر آتی ہے، جس کا جو جی چاہ رہا ہے وہ بول رہا ہے، مان لیا کہ آزادی اظہار رائے ہر شخص کا بنیادی حق ہے لیکن اگر کوئی سیلف سنسر شپ کا نظام نہیں ہو گا تو آپ ہی کے خلاف سازش اور پراپیگنڈا کرنا بھی بہت آسان ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ آپ نے طاقتور طبقوں کو للکارا ہے۔ سب سے پہلے یہاں لفظ "سیاست "کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لفظ سیاست عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے، یہ مختلف معنی میں استعمال ہوتا رہا ہے جو درج ذیل ہیں

 ١ – کسی ملک کا نظام حکومت، ملکی تدبیر و انتظام، طریقۂ حکمرانی، احتسابِ حکومت کا قیام، حکومت کرنے کی حکمت عملی۔

 ٢ – کسی جرم کی سزا، سختی، خوف، قہرو غضب، جسمانی یا روحانی تکلیف۔

٣ – چالاکی، جوڑ توڑ، ریشہ دوانی؛ دانشمندی، تدبیر۔ مندرجہ بالا تمام معنی کو مد نظر رکھتے ہوئے جس سیاست کے حق کے لیے طلبہ جدو جہد کر رہے اس کے معنی یہ بنتے ہیں  دانشمندی اور تدبیر پر مبنی طریقہ کار جس کی مدد سے اپنے حقوق کا تحفظ کیا جائے”۔

لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کی تحریک میں دانشمندی اور تدبر دور دور تک نظر نہیں آرہا ہر طرف سرخ رنگ اور جوش و جذبہ ہی نظر آتا ہے، طلبہ کو پہلے ہی تشدد کے نام پر بہت بدنام کیا جا چکا ہے۔ سرخ رنگ اس تاثر میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جنون سے اور عشق سے ملتی ہے آزادی لیکن ایک بات آپ بھول رہے ہیں کہ یہ آزادی ہمیں اپنوں سے لینی ہے، غیروں سے نہیں۔ جنگ اپنوں سے ہو تو جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا پڑتا ہے اور آپ جس معاشرے میں حق مانگنے نکلے ہیں، اس معاشرے میں تعلیم کی شرح بہت زیادہ نہیں ہے۔ تعلیم کی شرح سو فیصد بھی ہو جائے تو ضروری نہیں کہ شعور اور ادراک بھی اسی تناسب سے ہو۔ اس معاشرے میں بہت سی اکثریت ایسی بھی ہے جو تعلیم یافتہ ہے لیکن شعور اور ادراک کی سطح بہت کم ہے اور پھر مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ لوگ اسی میں جکڑے رہتے ہیں۔

آپ کی بات صرف آپ کے ہم خیال لوگ ہی سنتے اور سمجھتے ہیں۔ باقی لوگوں کو اس بات سے کوئی خاص سروکار نہیں اور جب اکثریت کسی مسئلے سے غافل ہو جائے تو طاقتوروں کے لیے چند انقلابیوں کو کچلنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے آپ کو سب سے پہلے اپنا تاثر درست رکھنا ہے۔ جس کے ذریعے اکثریت کو اپنا ہمنوا بنانا ہے۔ اگر عام لوگوں میں آپ کا تاثر خراب ہو گیا تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے مظاہروں میں ہر محاظ کھول دیا گیا۔ تمام پتے لہرا کر مد مقابل کو دکھا دیئے گئے جو کسی بھی طرح سے آپ کے مقصد کے حصول کے لیے سود مند نہیں ہو گا۔ ان مظاہروں میں کوئی جبری گمشدگیوں پر تنقید کرتا نظر آیا کوئی ماورائے عدالت قتل پر تنقید کرتا رہا، کوئی معدنیات کی چوری میں ملوث اداروں پر تنقید کرتا رہا، کوئی سیاست دانوں پر گرجتا رہا، کوئی سیاست میں اداروں کی مداخلت کو ہدف تنقید بناتا رہا اور کوئی جامعات میں سیکیورٹی اداروں کی موجودگی پر تنقید کرتا نظر آیا غرض یہ کہ تمام "حساس” ایشوز کو خاص طور پر چھیڑا گیا۔

اب زرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیے کہ آپ جن ایشوز پر تقاریر کرتے رہے ان پر لاکھوں کروڑوں ووٹ لینے والی سیاسی جماعتیں اور میڈیا بھی بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں اور خاموشی میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ ایسے میں آپ کی یہ نوزائیدہ تحریک اس بھاری بھرکم بوجھ کو کیسے اٹھاسکتی ہے؟ آپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ دانشمندی اور تدبر پر مبنی ایسا موقف اپنائیں جس میں اداروں پر براہ راست تنقید نہ کی جائے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ پھر مین اسٹریم میڈیا آپ کو کھل کر سپورٹ کر سکے گا۔

یاد رکھیں جب تک مین اسٹریم میڈیا آپ کو کوریج نہیں دے گا اس وقت تک آپ کی تحریک میں جان نہیں آئے گی۔ سوشل میڈیا میں بھی طاقت ہے جو کہ آپ کے لیے مین سٹریم میڈیا کا متبادل ہوسکتا تھا لیکن ہماری قوم کا سیاسی شعور ابھی اتنا بلند نہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے مین اسٹریم میڈیا کا مقابلہ کیا جاسکے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر سوشل میڈیا اتنا طاقت ور ہو بھی گیا تو یہاں انٹرنیٹ سروس بند کرنا عام سی بات ہے۔  جب سروس ہی بند کر دی جائے گی تو سوشل میڈیا کیا کرے گا۔

اس وقت طلبہ کی اس تحریک کو کم از کم ایجینڈے پر متفق ہو کر اسی پر یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھنے اور جہد مسلسل کی ضرورت ہے بلکہ ہو سکے تو اس وقت اس تحریک کو یک نقاطی ایجینڈا ” طلبہ یونین کی بحالی ” تک ہی محدود رہنا چاہیے اور ریاستی اداروں پر الزامات پر مبنی تقاریر سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ آپ جسں نظام کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگانے نکلے ہیں یہ قوم اسی نظام کے زندہ باد کے نعرے لگاتے لگاتے کچھ جوانی اور کچھ بڑھاپے کو پہنچی ہے۔

کہیں آپ کی مثال حضرت موسی علیہ سلام اور بنی اسرائیل کے ہجرت کے واقعے کے جیسی نہ ہوجائے کہ جب موسی علیہ سلام نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے آزاد کروا کر ہجرت کی تو راستے میں جب بھی ذرا سی مشکل درپیش آتی تو بنی اسرائیل کی قوم کے لوگ فورا شکوے کرنے لگتے اور  آزادی سے زیادہ غلامی کو ترجیح دینے لگتے اور فرعون کی قید میں خود کو زیادہ محفوظ تصور کرنے لگتے اور واپس جانے کی ضد کرنے لگتے۔

پاکستانی قوم کا بھی حال مختلف نہیں ہم بھی ایسی محفوظ غلامی میں خوش ہیں جس میں کسی نہ کسی طرح دو وقت کا کھانا میسر آجائے باقی کسی بات کی سمجھ بوجھ کی صلاحیت ہم میں اب کم ہی باقی ہے، اس لیے جتنا بوجھ یہ تحریک اٹھا سکتی ہے اتنا ہی اٹھایا جائے ورنہ بنی اسرائیل کو تو کم مشکلات درپیش آئیں تھیں آپ کی سوچ ہے کہ آپ کے ساتھ کیا کچھ ہوسکتا ہے اور یاد رکھیں پاکستان کی سرزمین اب بنجر ہوچکی ہے یہاں اب کسی کے خون سے انقلاب نہیں آسکتا۔ یہاں خون سے صرف اس خون کی یاد میں مظاہرے ہوتے ہیں اور ان مظاہروں میں ان کے ماں باپ کی آنکھوں میں کبھی نہ تھمنے والے آنسو ہی آتے ہیں جن کی پاداش میں انہیں غداری کے سرٹیفیکیٹ دیئے جاتے ہیں۔

کس ملک میں آپ قربانی دینے کی بات کرتے ہیں؟ جہاں عام آدمی کو تو چھوڑیں جس ملک میں لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کاسراغ نہ مل سکے، اس ملک میں آپ اور میرے جیسے دو ٹکے کے لوگوں کو انصاف کون دیگا؟ چند تجاویز عرض کر رہا ہوں امید ہے آپ اس پر عمل کریں گے۔

 تحریک کو یک نقاطی ایجنڈے” طلبہ یونین کی بحالی تک محدود رکھیں” کیونکہ باقی مسائل کا حل طلبہ یونین کی بحالی سے نکلے گا، جب یہاں سے حقیقی لیڈر شپ ابھرے گی تو باقی معاملات میں بھی بہتری آجائے گی۔

صرف طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق نعرے لگائے جائیں اداروں اور سیاست دانوں کے خلاف نعرے بازی سے گریز کیا جائے کیونکہ بلآخر طلبہ یونین کی بحالی کے لیئے قانون سازی انہوں نے کرنی ہے۔

مظاہروں میں تقریر کی اجازت مخصوص لوگوں کو ہی دی جائے جن کے تقریر کے نقاط پہلے سے طے شدہ ہوں، طے شدہ نقاط کے علاوہ کسی اور موضوع پر تقریر کی اجازت نہ ہو۔

تحریک میں اسلام بیزاری اور اسلام سے دوری کا عنصر آپ کو کامیابی سے دور کر دے گا، پاکستان میں  آج تک کوئی بھی لبرل تحریک یا جماعت کبھی عروج حاصل نہیں کرسکی لوگ پیپلز پارٹی کو لبرل کہتے ہیں لیکن بھٹو کا منشور شروع ہی اسلام سے ہوتا تھا "اسلام ہمارا دین ہے، سوشلزم ہماری معیشت اور جمہوریت ہماری سیاست ہے” ایسا صرف اس لیے کیا گیا تاکہ لبرل ازم کو لادینیت سے تشبیہ نہ دی جاسکے، صرف یہیں بس نہیں ہوتا بھٹو نے آئین کے اندر بھی اسلامی دفعات پر اتفاق کیا اور بہت سے ایسے اقدامات کیے جن کو آج بھی مذہبی حلقوں میں سراہا جاتا ہے، جس میں مسلم دنیا کا اتحاد اور اسلامی جمہوری آئین پر اتفاق سرفہرست ہیں لیکن پھر بے نظیر نے جب قیادت سنبھالی تو انہوں نے پیپلزپارٹی کو مکمل لبرل جماعت بنا دیا لیکن جیسے جیسے یہ جماعت لبرل بنتی گئی، ویسے ویسے سکڑتی بھی رہی اس کی دیگر وجوہات بھی ہیں لیکن ایک وجہ یہ بھی ہے۔ لیکن پھر بھی بے نظیر کو اس بات ادراک تھا کہ وہ ایک مسلم معاشرے کی لیڈر ہیں اس لیے باوجود اپنی جوانی انتہائی ماڈرن انداز میں گزارنے والی پنکی نے سیاست میں آنے کے بعد کبھی اپنے سر سے دوپٹہ اترنے نہیں دیا، اگر آپ بھٹو اور بے نظیر کی سیاست پر غور کریں تو آپ کو سیاست میں سیکھنے کو بہت کچھ ملے گا اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان بنانے کے لیے بھی مسلم اور اسلام کا سہارا لیا گیا، اس کے علاوہ برطانیہ کی شہزادی جب پاکستان آئی تو انہوں نے پاکستان کے روایتی لباس زیب تن کیے ایسا صرف اکثریت کے احترام میں کیا گیا۔ کلچر کے احترام میں کیا گیا، میری نظر میں اگر اکثریت جاہل بھی ہو تب بھی اس کا احترام کیا جانا چاہیے اور دانشمندی سے تبدیلی کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اس لیے اپنی تحریک کا تاثر کبھی بھی یہ نہ بننے دیں کہ یہ ایک لادین طبقے کی تحریک نظر آئے۔

اللہ آپ کا حامی ناصر ہو مجھے بھی شدت سے اس دن کاانتظار ہے جب طلبہ یونین بحال ہو گی جہاں سے حقیقی لیڈر شپ ابھر کر پاکستان کی سیاست میں مثبت کردار ادا کرے گی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *