Type to search

تجزیہ سیاست میڈیا

تحریک انصاف کی فاشسٹ طرزحکمرانی

  • 11
    Shares

پاکستان بلکہ نئے پاکستان میں جمہوری رویوں اور روایات پر فسطائی جبر بڑی تیزی سے غالب آ رہا ہے۔ اسی فسطائیت یا انگریزی میں فاشزم کی وجہ سے ہمیں غیر جمہوری، تکبر، عدم رواداری اور انتقام پر مبنی طرز حکمرانی ہر طرف نظر آتا ہے۔ عمران خان جو کے بادی النظر میں نئے پاکستان کے بانی ہیں، اُن کے نظریات اور سیاست  پاپولر نعروں پر ذیادہ رہی ہے، اور ان کا واسطہ جمہوریت اور اس کے مجوزہ اصولوں سے کم رہا ہے۔

 وہ اقتدار کے حصول کے لئے سیاسی مخالفین کے خلاف ہر حد تک گئے ہیں، تحریک انصاف کے دھرنوں میں وہ پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوئے، سول نافرمانی کی بات ہوئی، یوٹیلیٹی بلز جلائے گئے، اور قانون نافذ کرنے والوں کے خلاف تشدد بھی کیا گیا۔

آج جو وہ اقتدار میں ہیں، تو فاشزم پر مبنی طرز حکمرانی بڑی واضع انداز میں دکھائی دیتی ہے۔ اور اس سے ہر ادارہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔اپوزیشن سے لے کر میڈیا، میڈیا سے لے کر عدلیہ اور عدلیہ سے لے کر اس قوم کے معمار یعنی طلبہ۔۔

یقینآ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا نے تحریک انصاف کی کامیابی اور عمران خان کو وزیراعظم بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ عمران خان کے پاس قومی اسمبلی کی ایک سیٹ تھی، مگر میڈیا نے ہر ٹاک شو میں بٹھایا، سولو ٹاک شوز کئے گئے، پی ٹی آئی کے دھرنوں کی بال ٹو بال کمنٹری نشر کی گئی۔

جواز پیش کیا گیا، دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو موقع مل چکا ہے، دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادتیں کرپٹ ہیں، دونوں کو آزمایا جا چکا ہے، اب تیسری پارٹی جس کا لیڈر ہر طرح کی کرپشن اور برائی سے پاک ہے اس کو موقع دیا جائے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جب پی ٹی آئی اقتدار میں آتی ہے تو اس کے فسطائی اور غیر جمہوری طرزحکمرانی کا سب سے پہلا نشانہ میڈیا بنتا ہے۔

جو فاشسٹ نقطہ نظر یا کردار رکھتے ہیں وہ مخالف نقطہ نظر برداشت نہیں کرتے، اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس نقطہ نظر کو ہر صورت اور ہر طریقہ کار سے دبا دیا جائے۔ جس کے لئے سنسرشپ کے مختلف ہتھکنڈے آزمائے جاتے ہیں۔ اس ساری واردات میں بہت سے صحافیوں کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا، کئی اینکر حضرات جن کے نظریات نئے پاکستان کی فسطایت سے نہیں ملتے تھے، ان کے ٹاک شوز بند ہوئے یا کسی اور اینکر جس نے اپنے خیالات کو نئے پاکستان سے مطابقت دی کے حصے میں آگئے۔

تحریک انصاف کی فسطایت کا نشانہ بننے والے صحافیوں کو مجبوراً یوٹیوب چینلز کے زریعے اپنے خیالات، تجزیات عوام تک پہنچانے پڑے۔چینلوں کی بندش، اخباروں کی ترسیل میں خلل، اشتہارات میں کمی، کیبل نیٹ ورک پر چینل کی نمبرنگ، میڈیا ٹریبونلز کے قیام کا اعلان، اور کئی بلیک میلنگ کے ایسے ہتھیار ہیں، جس کی مدد سے میڈیا میں جانے والے خیالات کو نئے پاکستان کے نقطہ نظر سے مطابقت دی گئی ہے۔

نئے پاکستان میں پہلے ہی میڈیا پر بہت سی غیر اعلانیہ پابندیاں اور جبر کی صورتیں ہیں، آپ کسی بھی میڈیا پرسن سے بات کریں وہ آپ کو بتا دے گا کہ کسی طرح سے یہ پابندیاں اس مقدس پیشے کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہیں۔

نئے پاکستان میں آزادانہ صحافت کی بجائے مثبت رپورٹنگ پر اصرار ہے، یعنی سب اچھا دیکھایا جائے، اگر پنجاب کا وزیراطلاعات عثمان بزدار کو شیر شاہ سوری یا وسیم اکرم پلس بتائے تو بغیر کوئی سوال کئے اس کو مان لیا جائے، بحث نہ کی جائے۔

اس سے آپ کو محب وطن کا سرٹیفیکیٹ بھی ملے گا اور میڈیا ہاوُس چلانے کا ایندھن بھی۔ اس فاشسٹ طرز حکمرانی میں آپ دہشت پسند تنظیموں کے سربراہان کو تو میڈیا پر دیکھا سکتے ہیں، مگر حزب اختلاف کے رہنماوُں کے انٹرویوز نشر نہیں کئے جاسکتے۔

میڈیا سابق صدر آصف زرداری کا انٹرویو نہیں دکھا سکتا۔ مولانا فضل الرحمان، مریم نواز کی تقریر اور پریس کانفرنس دکھانے پر چینل بند ہو سکتا ہے۔ اس پاداش میں 3 چینلز بند ہوئے۔ اس ملک کے کیبل آپریٹر بھی طاقتوروں کے اشاروں پر چینلز کے نمبرز آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں۔

ابھی اس ہفتے ڈان میڈیا گروپ اسی فسطائی جبر کا نشانہ بنا۔ گلوبل میڈیا واچ ڈاگز کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) اور رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے پاکستانی حکام سے اسلام آباد میں ڈان کے دفاتر کے گھیراؤ کی مذمت کرنے اور اخبار کے خلاف مظاہروں کو پرتشدد ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں ڈان کے دفاتر کا دورہ کیا اور نامعلوم افراد کے گھیراؤ کا شکار بننے والے ملازمین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے ڈان کے دفاتر کے گھیراؤ کی مذمت کی اور کہا تھا کہ یہ میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش تھی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ’ میڈیا اداروں کو دھمکایا جارہا ہے لیکن ہم کسی کو آزادی صحافت پر قدغن لگانے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب دارالحکومت میں اس طریقے سے ڈان کے دفاتر پر حملہ کیا گیا‘۔ جمہوریت اور آزاد میڈیا لازم وملزوم ہیں اور ان کا کمبی نیشن جدید معاشروں کی روح ہے۔جمہوریت میں مخالف نقطہ نظر کو دبایا نہیں جاتا، بلکہ مختلف دستیاب فورمز پر بحث کے ذریعے کسی متفقہ حل کی طرف بڑھا جاتا ہے۔

جمہوریت میں پارلیمنٹ سب سے بڑا ادارہ ہوتا ہے، جو عوام کی نمائندگی کرتا ہے، پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی اہمیت مسلمہ ہے، اپوزیشن کے کردار کے بغیر پارلیمنٹ اور معاشرے آگے نہیں بڑھ سکتے، اور نہ ہی عوامی ایشیوز یا مفاد عامہ پر کوئی موثر قانون سازی ممکن ہے۔ حکومت کا یہاں کردار بہت تکبرانہ اور جابرانہ ہے۔ وہ اپوزیشن کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ پارلیمنٹ میں جب بھی کوئی اہم مسئلہ آتا ہے، تو اس کا اختتام وزرا اور حکومت بینچز کی جانب سے ہونے والی اُن تقریروں پر ہوتا ہے جس میں اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران کو چور، ڈاکو، لٹیرے اور مافیا کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اور یوں یہ ساری مشق بے نتیجہ رہتی ہے۔ اس سے حکومت کا بھی نقصان ہے اور پاکستان کا بھی۔

فسطائی سیاست پر چلتے ہوئے سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے بے بنیاد مقدمات قائم کئے گئے، نیب سے گٹھ جوڑ کر کے محض الزامات کی بنیاد پر گرفتاریاں کی گئیں۔

سابق صدر زرداری کو اربوں، کھربوں روپے کی کرپشن کے الزامات اور میڈیا ٹرائل کے بعد، محض ڈیڑھ کروڑ روپے کرپشن کے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے اس پر کہا کہ ان کے والد کو ’’1973ء کے آئین اور بالخصوص اٹھارہویں ترمیم واپس لیے جانے کی مخالفت پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے‘‘۔

سیاسی مخالفین کی خواتین بھی اس فسطائی سیاسی انتقام کا نشانہ بنیں۔ مریم نواز گرفتار ہوئیں۔ فریال تالپور کو آدھی رات کے وقت ہسپتال سے اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں لیکن حکومتی وزرا اور تحریک انصاف کے لاڈلے رہنماؤں کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ نیب چئیرمین جواز یہ پیش کررہے ہیں کہ اگر حکومتی اراکین کے خلاف کاروائیاں عمل میں لائی گئیں تو حکومت گرسکتی ہے۔

تو اب ہم اس کو کیسے انصاف پر مبنی احتساب کہیں؟ اور اس کو سیاسی انجئینرنگ اور انتقامی سیاست نہ کہیں؟

فسطائی ذہنیت اور طرز حکمرانی کی ایک صورت تب سامنے آئی جب لاہور میں اپنے حقوق کے لئے مارچ کرنے والے طلبہ وطالبات اور آرگنائزرز پر غداری کے مقدمات قائم کر دئیے گئے، اگرچہ یہ مارچ پاکستان بھر میں ہوئے مگر مقدمات عمران خان کے محبوب وسیم اکرم پلس کے صوبے میں قائم ہوئے۔ اس سے پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح سے اس فسطائی دور میں انسانی آزادیاں غضب کی جارہی ہیں۔ بجائے سٹوڈنٹس کو انگیج کرنے کے ان کے خلاف مقدمات قائم کئے جارہے ہیں۔ ان فسطائی رویوں سے حکومت کس قسم کی نئی نسل تراشنے جارہی ہے؟

جب تک عدالتیں تحریک انصاف کے حق میں یا ان کے نظریے کی مطابقت سے فیصلے دیتی ہیں تو اُس وقت تک عدالتیں ٹھیک ہیں، مگر جیسے ہی فیصلہ مختلف آتا ہے، تو جج صاحبان کو سی آئی اے، را، موساد کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔

ان کے خلاف پی ٹی آئی کے ٹائیگرزسوشل میڈیا پر ففتھ جنریشن وار شروع کردیتے ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو عمران خان کی تنقید پر کہنا پڑا کہ کہ ججوں پر اعتراض کرنے والے ’تھوڑی احتیاط کریں اور طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں۔‘

اس حکومت پر صرف فاشسٹ طرز حکمرانی کے ہی الزامات ہی نہیں ہیں، بلکہ یہ اپنے ماتھے پر نااہلی اور نالائقی کا جھومر بھی سجائے ہوئے ہے، اس کا اظہار اس وقت ہوا، جب یہ حکومت چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کاا یک نوٹیفکیشن بھی  نہ نکال کر عدالت میں پیش کرسکی۔ تینوں سمریاں مسترد ہوئیں۔

یہ فاشسٹ طرز حکمرانی پاکستان کو جمہوریت سے دور لے کر جارہی ہے۔ جس سے بہت نقصان ہوچکا ہے اور بہت نقصان ہونے جا رہا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *