Type to search

تجزیہ حکومت سیاست میڈیا

کیا ملک ریاض پاکستان سے بڑا ہے؟

  • 159
    Shares

منگل کی صبح برطانیہ سے ایک اچھی خبر آئی کہ برطانوی تحقیقاتی ادارے نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور پراپرٹی کاروبار کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ملک ریاض کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے مطابق ملک ریاض 190 ملین پاؤنڈ برطانوی حکومت کو دیں گے جب کہ یہ رقم ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان کو دے دی جائے گی۔

اس خبر کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر مشیرِ احتساب شہزاد اکبر نے Assets Recovery Unit، جس کے وہ سربراہ ہیں، کی پریس ریلیز جاری کی، اور قوم کو یہ خوشخبری سنائی، جس کے بعد ہر طرف سے مبارکبادوں کا تانتا بندھ گیا۔ 190 ملین برطانوی پاؤنڈ پاکستانی روپوں میں تقریباً 40 ارب بنتا ہے، اور یہ رقم یقیناً پاکستان کے قومی خرانے میں آئے گی تو ملک کی اقتصادی حالت میں کچھ نہ کچھ بہتری آئے گی۔

تاہم، سوشل میڈیا اور ٹی وی پر کچھ حکومت نواز لوگوں نے اس خبر میں سے اپنی منشا کے مطابق نیا بیانیہ گھڑ لیا ہے۔ ایک کہانی کے مطابق یہ رقم دراصل نواز شریف خاندان کسی ڈیل کے تحت حکومتِ پاکستان کو ملک ریاض کے نام پر دینے پر رضامند ہوا تھا۔ اس کے پیچھے منطق یہ تھی کہ 2016 میں یہ پراپرٹی پاناما سکینڈل سے چند روز قبل حسن نواز نے ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کو بیچی تھی۔ افواہوں کے مطابق یہ رقم دراصل حسن نواز ادا کر رہے تھے، جب کہ ملک ریاض ان کے فرنٹ مین تھے۔

 

صحافی ارشد شریف نے بھی اپنا 2016 کا ایک کلپ ٹوئٹر پر اپلوڈ کیا، جس میں یہی خبر دی گئی تھی کہ یہ جائیداد حسن نواز نے ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کو بیچی تھی۔

دوسری جانب ملک ریاض کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ دراصل یہ رقم وہ ایک سیٹلمنٹ کے تحت برطانوی حکومت کے ذریعے پاکستانی حکومت کو دے رہے تھے، کیونکہ مارچ 2019 کے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق ان کو بحریہ ٹاؤن کراچی کے اراضی قبضہ کیس میں 460 ارب روپے ادا کرنے تھے، اور اس رقم کو وہ برطانیہ میں اپنی جائیداد کی سیٹلمنٹ کر کے پاکستانی حکومت کو ادا کرنے والے ہیں۔

ملک ریاض سے 19 کروڑ پاؤنڈز کی برآمدگی، حکومت تفصیلات فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہے؟

حقیقت لیکن کچھ اور ہے۔ یہ پراپرٹی حسن نواز سے مبینہ طور پر 2016 میں خریدی گئی تھی۔ حسن نواز برطانیہ میں دیگر بہت سے پاکستانی سیاستدانوں اور کاروباری افراد کی طرح جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں۔ اور یہ جائیداد بھی انہوں نے ہی ملک ریاض خاندان کو بیچی تھی۔

ملک ریاض خاندان پر منی لانڈرنگ قوانین کے تحت 2015 میں برطانیہ میں انکوائری شروع کی گئی تھی۔ اس میں ان سے بہت سے سوالات کیے گئے تھے۔ تقریباً چار سال انکوائری جاری رہنے کے بعد ان کے خاندان کو برطانوی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے پیشکش کی گئی کہ وہ یا تو اپنے خلاف الزامات کا عدالت میں سامنا کریں، یا پھر برطانوی حکومت کے ساتھ عدالت سے باہر کوئی سمجھوتہ کر لیں۔

ملک ریاض نے سمجھوتے کو ترجیح دی، اور 190 ملین پاؤنڈ ادا کرنے پر تیار ہو گئے۔

مگر یاد رہے کہ سمجھوتہ دونوں اطراف سے ہوتا ہے۔ ملک ریاض کی جانب سے تو 190 ملین پاؤنڈ ادا کیے گئے ہیں، یہ بات سامنے آ چکی ہے۔ لیکن بدلے میں ان کو کیا ملا، یہ میڈیا میں تاحال کہیں رپورٹ نہیں ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملک ریاض کی برطانیہ میں باقی تمام جائیداد کو قانونی قرار دینے کے بدلے میں تقریباً 40 ارب پاکستانی روپے انہیں برطانوی حکومت کو دینا ہوں گے، جو بعد ازاں پاکستان کے قومی خزانے میں جمع ہو جائیں گے۔

نیشنل کرائم ایجنسی نے برطانیہ میں ملک ریاض کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز کی پیشکش قبول کر لی

لیکن پاکستانی میڈیا خبر کے اوپر اپنے ایجنڈے کو مقدم رکھتا ہے۔ اب اسی معاملے کو لے لیجئے، بجائے یہ سوال کرنے کے کہ یہ رقم ملک ریاض کے پاس کہاں سے آئی، پاکستان میں انہوں نے کتنا ٹیکس چوری کیا جس کی وجہ سے انہیں برطانیہ میں یہ رقم واپس کرنا پڑی، پاکستان کے کسی بینکنگ چینل سے اگر یہ رقم برطانیہ نہیں گئی تو یہ جرم کس طرح سرزد ہوا، ان میں سے کوئی سوال میڈیا پر پوچھا نہیں جا رہا۔

کہیں یہ مطالبہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ ایک شخص اگر اپنے جرم کا اعتراف کر کے 190 ملین پاؤنڈ مالیت کا سمجھوتہ برطانوی حکومت کے ساتھ کر رہا ہے، تو اس کی پاکستان میں موجود تمام تر جائیداد بحقِ سرکار ضبط کی جائے۔

کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ بیس سال پہلے ایک سکوٹر پر پھرنے والا شخص ایسا کون سا کاروبار کر رہا ہے کہ اس کے پاس 190 ملین پاؤنڈ تو صرف جرمانے کی مد میں ادا کرنے کے لئے موجود ہیں۔

460 ارب تو وہ محض ایک سکیم میں کی گئی بدعنوانی کی سیٹلمنٹ میں سپریم کورٹ کو دے دیتا ہے، تو آخر کتنی رقم ہوگی جس کا کوئی سوال جواب ہی نہیں؟

زور صرف اس بات پر ہے کہ یہ پراپرٹی کس سے خریدی گئی۔ ایسا کیوں ہے؟ یہاں ایک تیر سے دو شکار کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف تو حسن نواز کا اس جائیداد سے تعلق جوڑ کر حکومت کے ایک مخالف کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ اور دوسری طرف میڈیا مالکان کو اشتہاروں اور دوسری نوازشات کے ذریعے اپنی جیب میں رکھنے والے ملک ریاض کی کرپشن سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔

کیا اس ملک میں احتساب کا نعرہ صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے کام ہی آئے گا؟ کیا حکومت صرف اپنے مخالفین کو جھوٹے سچے مقدمات میں پھنسا کر، ان کی کردار کشی کر کے اصل مجرموں کی کرتوتوں پر پردے ڈالتی رہے گی؟

آخر کیوں یہ شخص جو اس ملک کے غریب عوام کی ملکیت زمین پر قابض ہو کر سپریم کورٹ سے اصل قیمت کا چند فیصد دے کر صاف بچ نکلتا ہے؟ آخر کیوں اس کی منی لانڈرنگ چھپانے کے لئے سیاستدانوں کو گندا کیا جاتا ہے، تاکہ اپنا خاص آدمی صاف بچ نکلے؟ آخر کیوں یہ شخص حکومتی وزرا اور آرمی چیف سے ملنے والے کاروباری افراد کے وفد میں معتبر بنا بیٹھا ہوتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت، کوئی حکومت اس شخص کا احتساب نہیں کر پاتی؟ کیا وجہ ہے کہ فوج ہو، عدلیہ ہو، سیاستدان ہوں یا میڈیا، سب ملک صاحب کو بچانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں؟ کیا ملک ریاض پاکستان سے بڑا ہے؟

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *