Type to search

بڑی خبر تعلیم جدوجہد خبریں سیاست فيچرڈ

”تعلیمی نظام بہتر ہوتا ہے تو اس سے بھارت کو کیا فائدہ ہو گا؟“

گزشتہ جمعے کو لاہور سمیت پاکستان بھر میں سینکڑوں طلبا نے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے مارچ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ مارچ کے منتظمین عمار علی جان، فاروق طارق، (مشال خان کے والد) اقبال لالا، (پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور ایم این اے علی وزیر کے بھتیجے) عالمگیر وزیر، محمد شبیر اور کامل کے علاوہ 250 سے 300 نامعلوم شرکا کے خلاف مقدمہ درج  کیا گیا۔

طلبہ یکجہتی مارچ: مشال خان کے والد اقبال لالا، عمار علی جان اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج

بعدازں لاہور کی سیشن کورٹ نے سٹوڈنٹس مارچ میں شرکت کرنے والے سماجی کارکنوں عمار جان اور کامل خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کیا ۔

تدریس کے شعبے سے وابستہ سکالر اور ایکٹوسٹ پروفیسر عمار علی جان نے نیادور میڈیا سے خصوصی گفتگو کی، انہوں نے طلبہ تحریک پر اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیا۔

غداری کے الزامات

عمار علی جان نے کہا”طلبہ یکجہتی مارچ کو ہر طبقے نے سپورٹ کیا، وزیر اعظم نے بھی اس کے حق میں ٹویٹ کی تاہم اگلے روز پتہ چلا کہ کہ یہ تحریک غداری پر مبنی ہے، ایک طالب علم کو یونیورسٹی سے اٹھا لیا گیا۔“

ان کا کہنا تھا کہ ”ایک بات بڑی اہم ہے کہ حکومت کے اپنے اندر بھی تضاد ہے، لگتا یوں ہے کہ حکومت، حکومت نہیں کر رہی ہے۔ “

پروفیسر عمار علی جان نے کہا ”ہمارے ملک میں مادر ملت اور بے نظیر بھٹو کو بھی غدار قرار دیا گیا، تعلیمی نظام بہتر ہوتا ہے تو اس سے بھارت کو کیا فائدہ ہو گا؟  ہماری سوچ بہت سازشی ہو چکی ہے۔ “

 

ان کا کہنا تھا کہ ”طلبہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے مارچ کررہے تھے، اسرائیل کیوں چاہے گا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام بہتر ہو، پاکستان میں ہر پاپولر تحریک پر غداری کے الزامات لگ جاتے ہیں۔“

عالمگیر وزیر کی تقریر پر اعتراض

عمار علی جان کا کہنا تھا کہ میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ اپنی بات کو بہتر انداز میں کرنا چاہیے، ہمارے ہاں جذباتی نعروں کی ایک تاریخ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ”یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ایک شخص کے ساتھ اگر زیادتی ہوئی ہے، ایک نوجوان جو فاٹا سے ہے جس کے باپ کو طالبان نے قتل کیا ہو، اس کے خاندان کے پندرہ افراد کو قتل کیا گیا ہے، اگر اس نے  جذباتی انداز میں اپنے غم و غصے کا اظہار کیا تو ریاست کو اپنا دل بڑا کرنا چاہیے، ایک دو منٹ کی تقریر سے ریاست کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔“

طلبہ یکجہتی مارچ: امید کی کرن؟

انہوں نے کہا ”طلبہ مارچ میں کئی شہروں اور علاقوں کے طلبہ نے شرکت کی۔ ریاست کبھی نعروں سے نہیں ٹوٹتیں، ریاست ہمیشہ جبر سے کمزور ہوتی ہیں۔“

مارچ میں نظریاتی باتیں کیوں ہوئیں؟

پروفیسر عمار علی جان سے جب پوچھا گیا کہ مارچ میں سیاسی باتیں کیوں ہوئیں؟ تو انکا کہنا تھا کہ ”پاکستان کے طلبہ نے پہلی بار سیاسی نعرہ نہیں لگایا، طلبہ یکجہتی مارچ کو مخالف کے طور پر کیوں دیکھا جا رہا ہے، ہم کسی کے مدمقابل سیاسی قوت نہیں ہیں۔

سرخ طلبہ تحریک کے نام

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو کسی تحریک کو جنم دیتے ہیں ان کے نظریات تو نمایاں طور پر سامنے آتے ہی ہیں، طلبہ یکجہتی مارچ کو بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے آرگنائز کیا تھا، ان کا نظریہ سامنے آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے تاہم بنیادی مطالبہ ایک ہی ہے کہ طلبہ یونیز کو بحال کیا جائے۔“

لال، لال کیا ہے؟

عمار علی جان نے کہا ”لال رنگ کی ایک تاریخ ہے، کسی بھی انقلابی تحریک میں لال رنگ نمایاں ہوتا ہے، لال رنگ انقلاب کی علامت ہے، شکاگو کے مزدوروں سے لیکر نمایاں انقلابی تحریکوں میں لال رنگ ہی نظر آیا۔ شکاگو میں مزدوروں کو احتجاج پر قتل کر دیا گیا اور ان کے کپڑے خون سے سرخ ہو گئے، جس کے بعد لال رنگ ایک انکار کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔“

ان کا کہنا تھا کہ  ” طلبہ نے لال کے ذریعے مزاحمت کی تاریخ سے جڑنے کی کوشش کی ہے، وہ اپنے بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں جس کے لیے وہ مسلسل کوشش کر رہے ہیں، لال رنگ سوشلسٹ تحریک کی بھی علامت رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں میں بھی لال رنگ موجود ہے جو اسی طرف اشارہ کرتا ہے تو پریشانی کی کیا بات ہے۔“

طلبہ یکجہتی مارچ میں نمایاں لال رنگ کا مطلب کیا ہے؟

خواتین کے مرد کو گھسیٹنے کے الزامات

عمار علی جان سے جب پوچھا گیا کہ طلبہ یکجہتی مارچ پراس وقت ایک اعتراض اٹھا جب ایک تصویر وائرل ہوئی ، کہا گیا کہ تھیٹر  شو کے دوران ایک عورت نے مرد کو گھسیٹا، تو ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں بہت گہری تبدیلی آ رہی ہے، اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جو چیز سمجھ نہیں آتی اسے بیرونی سازش قرار دیدیا جاتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارا معاشرہ جمود کا شکار ہے ایسے میں مثبت تبدیلی خوش آئند ہے۔

انہوں نے پیغام دیا کہ تلخیاں پیدا نہیں ہونی چاہیے، اسلام آباد میں جو ہوا وہ سب علامتی چیز تھی کہ ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ہمیں فکشن پر اعتراض ہے تاہم نوجوانوں کے ساتھ اصل میں جو ظلم ہو رہا ہے اس پر بات نہیں کی جا رہی۔

یاد رہے کہ طلبہ مارچ کے منتظمین کے خلاف مقدمات کے بعد انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ طلبا کے پرامن مظاہروں پر کیا جانے والا کریک ڈاؤن بند کریں، مبینہ طور پر زیر حراست طالبعلم عالمگیر خان کو رہا کریں اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں سٹوڈنٹ رہنماؤں اور سماجی کارکنان کے خلاف درج کیا گیا مقدمہ ختم کریں۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *