Type to search

تجزیہ حکومت سیاست

بشیر میمن کو ہٹا کر واجد ضیا کو لگانا کس طرف اشارہ کرتا ہے؟

پچھلے 15 ماہ کے دوران پاکستان میں سیاسی انتشار کی ایک بڑی وجہ احتساب کے عمل کا متنازع ہونا ہے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں، یعنی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی، نے بار بار الزامات عائد کیے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور اپوزیشن رہنماؤں کو ناجائز طریقے سے قید و بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز جیل میں رہے اور سابق صدر آصف زرداری تاحال جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔

واجد ضیاء کی غیر معمولی تعیناتی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے

اسی طرح سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی نیب کی حراست میں 150 دن گزارے اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز جو لاہور سے صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں، پابندِ سلاسل ہیں۔ رانا ثنااللہ کو منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں جیل بھیجا گیا ہے اور اپوزیشن کے متعدد رہنما جن میں کئی بڑے بڑے نام شامل ہیں، وہ بھی جیل بھگت رہے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف اور اس کے جوشیلے کارکنوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ عمل بالکل شفاف ہے اور چاہے کوئی الزام ثابت ہو یا نہ ہو، پرانے پاکستان کے سیاسی طبقے کو جیل میں بند رکھنا چاہیے۔

میڈیا نے بھی بالعموم احتساب کی اس پالیسی کا ساتھ دیا ہے اور ماسوائے چند ایک ٹی وی اینکرز کے سب ہی نے الزام اور جرم کے فرق کو رائے عامہ میں مٹا دیا ہے۔ البتہ چند رپورٹرز ابھی بھی  سچ کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور ان میں سے ایک نام عمر چیمہ کا ہے جو تحریکِ انصاف کو سخت ناپسند ہیں کیونکہ ان کی رپورٹنگ حکومت کے بہت سے اقدامات اور بیانات کو چیلنج کرتی ہے۔ حالیہ دنوں میں عمر چیمہ نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن، جو کہ محکمہ پولیس کے ایک سینیئر افسر ہیں اور عنقریب ریٹائر ہونے والے ہیں، کے حوالے سے ایک رپورٹ لکھی ہے جو کہ قابل تشویش ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔

بشیر میمن کے بحیثیت ڈی جی ایف آئی اے تحریک انصاف حکومت سے اختلافات شدید نوعیت اختیار کر گئے تھے۔ اگرچہ عمر چیمہ کی رپورٹ کی 100 فیصد تصدیق ہونا باقی ہے، لیکن اس میں درج ہوشربا انکشافات نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ بقول سابق ڈی جی ایف آئی اے ان کو حکم دیا گیا کہ آپ شہباز شریف کو آشیانہ سکینڈل میں گرفتار کریں۔ ان کے انکار کی وجہ سے یہ ذمہ نیب کو سونپا گیا اور نیب نے بغیر تیاری کے شہباز شریف کو دھر لیا اور 150 دن اپنی حراست میں رکھا، جس کے دوران کوئی قابلِ ذکر تفتیش نہ ہو پائی۔ اسی طرح عمر چیمہ کی رپورٹ کے مطابق بشیر میمن کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پر مقدمہ بنانے کا حکم دیا گیا اور یہ تاکید کی گئی کہ اگر سرکاری کھاتوں میں کچھ نہ ملے تو پھر ان کے ذاتی بزنس کے حوالے سے ان پر کیس بنا دیا جائے۔

سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر علی جہانگیر صدیقی کو بھی گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا جو کہ میمن صاحب کے لئے پورا کرنا ممکن نہ تھا اور اس وجہ سے وہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے غصے کا سبب بھی بنے۔ آج وہی علی جہانگیر صدیقی پاکستان کے ambassador at large ہیں۔ مسئلہ شاید یہ تھا کہ علی جہانگیر صدیقی شاہد خاقان عباسی کے بزنس پارٹنر ہیں۔ اس وجہ سے ان کی گرفتاری سودمند ثابت ہو سکتی تھی۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بڑے طمطراق سے یہ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے خود شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ بشیر میمن کے انکشافات کی فہرست خاصی طویل ہے۔ لیکن اصل مسئلہ حکومت کی اپنی پالیسی کا ہے۔ ایک طرف تو وزیر اعظم عمران خان کا مستقل جواب یہ ہے کہ ان کے سیاسی حریفوں کو عدالتیں اور نیب جیل میں ڈال رہی ہیں، لیکن ان کے وزرا اور مشیران بارہا اعلان کرتے رہے ہیں کہ اب کون جیل جانے والا ہے۔

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ وزیر اعظم کا بحیثیت اپوزیشن لیڈر ایک مخصوص نعرہ تھا کہ ’میں ان سب کو رلاؤں گا‘۔ ان کی سیاسی حیثیت اپنی جگہ لیکن بحیثیت ایک وزیر اعظم کے جس کے لئے انہوں نے آئین میں موجود تمام شقوں کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہو، ایسے متنازع احتساب سے نہ صرف وہ وزیر اعظم کے عہدے کا تمسخر اڑا رہے ہیں بلکہ آئین میں درج آرٹیکل 10-اے جو due process کی ضمانت دیتا ہے، اس کا بھی پاس نہیں رکھ رہے۔

فرض کیجئے کہ عمر چیمہ کی رپورٹ میں موجود بشیر میمن کے انکشافات کسی ذاتی عناد کا نتیجہ ہیں۔ لیکن اگر اس میں سے ایک الزام بھی ٹھیک ہے تو بھی یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔

آج جب کہ پاکستان کو سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کی شدید ضرورت ہے، اس طرح کی سیاست اور احتساب قطعاً ملکی مفاد میں نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عمران خان صاحب کی حکومت کے لئے باعثِ نقصان ہے۔ اگر ایف آئی اے، نیب اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر چلائے جائیں گے تو پھر عمران خان صاحب ’نیا پاکستان‘ بنانے کا وعدہ کیسے پورا کریں گے؟ کیونکہ یہ سب تو پرانے پاکستان کے ہتھکنڈے ہیں۔ اگرچہ عدالتوں نے کسی حد تک حکومت کے اقدامات پر روک لگائی ہے لیکن عملاً ایک غیر فعال پارلیمان کی وجہ سے ملک میں ایک ہنگامہ اور تلاطم برپا ہے۔ پاکستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس طرح کی صورتحال زیادہ دیر نہیں چل پاتی، مثلاً ذوالفقار علی بھٹو کا دورِ حکومت یا نواز شریف کا دوسرا دور جس میں ایگزیکٹو بغیر کسی رکاوٹ کے من مانیاں کر رہی تھی تو دونوں مرتبہ نظام کو ہی چلتا کر دیا گیا تھا۔

ہم سب کے لئے تاریخ سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔ لیکن سب سے زیادہ ضرورت اس وقت جنابِ وزیر اعظم اور ان کے نادان دوستوں کو ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *