Type to search

تجزیہ

فسطائیت اپنے پنجے گاڑ رہی ہے

پاکستانی فسطائیت کا چہرہ دو خطوط سے عبارت ہے، حماقت اور خودراستی۔ لیکن اندر سے یہ اپنے گنوں میں پوری ہے، یعنی اصلاً فسطائیت ہے۔ جتنا پاکستانی فسطائیت، فسطائی ہو سکتی ہے۔ میں نے حماقت کو اس لیے پہلے رکھا ہے کہ خودراستی کا دعویٰ ایک احمقانہ دعویٰ ہے۔ کیونکہ ہر سچ کو کچھ کہ کچھ معیارات پر پرکھا جانا ضروری ہے، اور انسانی دعوے کامل نہیں ہو سکتے۔

حماقت اس کی کرداری خصوصیت نہیں۔ یہ اس کے اس دعوے کی پیداوار ہے کہ یہ ’’عقلِ کل‘‘ ہے۔ لہٰذا، حماقتیں خود وارد ہوتی رہتی ہیں۔

اب اگر پاکستانی فسطائیت عقلِ کل ہے، تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باقی سب ’’عقلِ خام‘‘ ہیں، یعنی جاہلِ مطلق ہیں۔ پھر یہ بھی کہ آج تک جو بھی ہوا، وہ کرپشن (بدعنوانی) کی کمائی کا ثمر تھا اور غلط تھا۔ اب یہ فسطائیت ہر شے کو نئے سرے سے ایجاد کرے گی، اور کر رہی ہے۔ یہ جو کام کرتی ہے، وہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہوتا ہے۔ یہ جو بولتی ہے، وہ پہلی مرتبہ بولا جا رہا ہوتا ہے۔

مختصر یہ کہ پاکستانی فسطائیت اپنے خودراستی کے دعوے کی وجہ سے حماقت کا مرقع بنی ہوئی ہے۔

پاکستانی سیاست میں خودراستی کے دعوے کوئی نئے نہیں۔ یہ پہلے بھی کیے جاتے رہے ہیں، بالواسطہ انداز میں بھی، اور بلا واسطہ انداز میں بھی۔ ایسے دعوے افراد بھی کرتے رہے ہیں، اور جماعتیں بھی۔ مراد یہ کہ جب بھی فوجی یا سیاسی حاکم آمر و جابر بننے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ بالواسطہ انداز میں یہ دعویٰ کر رہا ہوتا ہے کہ وہ ’’عقلِ کل‘‘ ہے۔ یعنی وہ آئین، قانون، اخلاقیات، روایات، وغیرہ، سب سے بالاتر ہے۔ یعنی وہ ان چیزوں کے اندر جو صدیوں میں کشید کی گئی انسانی دانائی موجود ہے، اس کا انکار کر رہا ہوتا ہے۔

سیاسی شخصیات میں اس کی نمایاں مثال نواز شریف اور ان کی جماعت ہیں، جب وہ ’’امیرالمومنین‘‘ بننے کے شوق کے اسیر تھے۔ تاہم، تحریکِ انصاف کی صورت میں، اور خاص طور پر جب اسے مقبولیت ملنا شروع ہوئی، تب سے پاکستانی فسطائیت کو ایک ٹھوس جسم میسر آ گیا۔ یعنی ایک جماعت میسر آ گئی، جس نے اسے گلے لگا لیا۔

تحریکِ انصاف میں فسطائی رجحانات ابتدا ہی سے موجود تھے، اور وقت کے ساتھ ساتھ عیاں ہوتے گئے، لیکن 2011 کے بعد نمایاں ہو کر سامنے آ گئے۔ فسطائی رجحانات کی بڑی گواہی خود عمران خان کی شخصیت تھی اور ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اہلِ دانش اس کی نشان دہی کیا کرتے، الٹا انھوں نے تحریکِ انصاف کو ’’نجات دہندہ‘‘ بنا کر پیش کیا۔ یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔

اس فسطائیت کا ایک روپ وہ تھا، جب تک یہ اقتدار میں نہیں آئی تھی۔ ایک روپ یہ ہے، جو اب اقتدار میں آنے کے بعد منکشف ہو رہا ہے۔ گو ان دونوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ اس کا پہلا روپ دکھانے کے لیے تھا۔ یہاں یہ واضح رہے کہ ہر معاشرے کی طرح، پاکستان میں بھی فسطائی رجحانات ہمیشہ موجود رہے ہیں، اور ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ مگر چونکہ پاکستان کا ماحول مجموعی طور پر فسطائیت کے لیے سازگار نہیں، لہٰذا تحریکِ انصاف کو خود کو خوش نما اور لچھے دار باتوں اور نعروں میں چھپانا پڑا۔ اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ بڑے بڑے اہلِ نظر اس سے دھوکہ کھا گئے۔ (ویسے وہ اہلِ نظر ہی کیا ہوئے، جن کی نظر دھوکہ کھا جائے!)

خوشی کی بات یہ ہے کہ دو عام انتخابات میں تحریکِ انصاف لوگوں کا اعتماد نہیں جیت سکی۔ اور لوگوں کو کوستی رہی۔ کیا یہی ثبوت کافی نہیں کہ پاکستان کے شہریوں کی اکثریت فسطائی نہیں، اور یہاں فسطائیت، یعنی تحریکِ انصاف، ہٹلر کی نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی کے برعکس، لوگوں کے ووٹ حاصل نہیں کر سکی۔

متوقع طور پر جولائی 2018 کے عام انتخابات کا نتیجہ بھی یہی ہونا تھا مگر جیسا کہ انتخابات سے خاصا قبل اس نوع کے واقعات سامنے آنا شروع ہو گئے تھے، جن کی بنیاد پر یہ باور کرنا مشکل نہیں تھا کہ جیسے کہ مقتدرہ نے ’’تحریکِ انصاف‘‘ کو گود لے لیا ہے، اور اسے جتانے کے لیے زمین ہموار کی جا رہی ہے۔ آگے چل کر حالات نے جو رخ اختیار کیا اس سے یہی بات درست ثابت ہوئی۔ بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ چیز بھی سامنے آ رہی تھی کہ عدلیہ کے فیصلے بھی تحریکِ انصاف کی فسطائیت کو تقویت دے رہے تھے۔ اور بعدازاں، جو کچھ ہوا، اس سے بھی یہ چیز درست قرار پائی۔

یعنی ریاستی اشرافیہ کے مقتدر طبقات نے تحریکِ انصاف کی فسطائیت کو پاکستان کے سیاسی نظام پر مسلط کر دیا۔ جبکہ ہوا یہ کہ یوں خودراستی کے مغالطے پر استوار تحریکِ انصاف کی فسطائیت کا اصل چہرہ سامنے آ گیا۔

مگر ابھی تک لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ تحریکِ انصاف محض حماقتوں کا ایک سلسلہ ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ بظاہر ایسا ہی ہے۔ اور اصل میں بھی جن ظاہری چہروں کی مدد سے تحریکِ انصاف حکومت چلا رہی ہے، ان کی لیاقت و قابلیت اور بصیرت مشکوک ہے۔ مگر یہ اپنے فسطائی ہتھکنڈوں میں پوری طرح دانا و بینا ہے، اور عیار و چالاک بھی۔ اس کے فعل و عمل سے یہی ثابت ہو رہا ہے۔

اس ضمن میں دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ تحریکِ انصاف پیسہ (ٹیکس) کن لوگوں سے نچوڑ اور کھینچ رہی ہے، اور کن لوگوں کو دان کر رہی ہے۔

جن چیزوں پر ریاست کی اجارہ داری ہے، یعنی پیٹرول اور اس سے جڑی اشیا، بجلی، گیس، پانی، ان کی قیمتوں میں بےتحاشا اضافہ کیا گیا اور کیا جا رہا ہے۔ پھر یہ کہ مختلف ٹیکسوں کی شرحیں اتنا بڑھا دی گئی ہیں کہ عام تنخواہ دار لوگوں کا گھریلو بجٹ غیرمتوازن ہو کر رہ گیا ہے۔ افراطِ زر کی شرح اتنی بلند ہو چکی ہے کہ روزمرہ ضرورت کی اشیا لوگوں کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں۔

جبکہ دوسری طرف ٹیکسٹائل لابی، سٹاک ایکسچینج بروکروں، اور پسندیدہ گروہوں کو  اربوں روپیے مختلف ناموں سے بانٹے جا رہے ہیں۔ سی پیک کے لیے مختص رقم کو پارلیمان کے ارکان سے متعلق مختلف سکیموں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ سی این جی اور توانائی سکیٹر کو گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمینٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کی مد میں اربوں روپیوں کا ٹیکس معاف کیا گیا ہے (یہ کیس اب عدالت میں ہے)۔

پشاور بی آر ٹی ایک سفید ہاتھی بنا دی گئی ہے۔ یہ معاملات اپنی جگہ، جو اصلاً حکومت کے کام ہیں، یعنی اچھی حکمرانی، فوری اور کم قیمت انصاف کی فراہمی، جان و مال کا تحفظ، وغیرہ، ان سے متعلق ادارے پہلے سے کہیں بڑھ کر انحطاط کا شکار ہیں۔

سانحۂ ساہیوال، پولیس کے ہاتھوں صلاح الدین کا قتل، یہ تو ایسے بڑے واقعات ہیں، جن پر ریاست و حکومت کی چولیں ہل جانی چاہیں۔ مگر یوں لگتا ہے کہ فسطائیت اپنے ایجینڈے پر عمل درآمد میں اتنی مصروف ہے کہ اسے ’’آرائشی اقدامات‘‘ کی طرف توجہ دینے کی فرصت بھی نہیں۔

اور اس کے برعکس، ہو یہ رہا ہے کہ اختلاف اور احتجاج کو ’’ملک دشمنی‘‘ میں شمار کیا جا رہا ہے۔ جو بھی احتجاج کرتا ہے، خواہ وہ اساتذہ ہوں، یا محنت کش، یا طلبہ، یا پولیس کے ستائے عام لوگ، سب کے ساتھ تشدد کی زبان میں بات کی جا رہی ہے۔

ابھی 29 نومبر کو جو ’’طلبہ یکجہتی مارچ‘‘ منعقد ہوا، اس میں شامل سرکردہ لوگوں پر ریاست کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ یعنی یہ حربہ خیبر پختونخوا سے چلتا ہوا، پنجاب تک آ پہنچا ہے۔

جہاں تک میڈیا اور سوشل میڈیا کی آزادی کا معاملہ ہے، وہ تو ابھی جب تحریکِ انصاف حکومت میں بھی نہیں آئی تھی، تب سے ہی اس کے ہاتھوں بدترین دباؤ اور خوف کا شکار ہے۔ اور اب تو حکومتی اور فسطائی طاقت دونوں مل کر اسے ٹھکانے لگانے کے درپے ہیں۔

ایسے میں جو جماعتیں، گروہ، دانش ور اور لوگ فسطائیت کے خلاف تگ و دو کر رہے ہیں، انھیں بھی اور بالخصوص حزبِ اختلاف کو یہ بات سامنے رکھنی ہو گی کہ یہ فسطائیت مستقبل میں کیا کیا گل کھلائے گی۔یہ چیز نہایت ضروری ہے کہ ابھی سے حفظِ ماتقدم کے طور پر ایسے اقدامات کیے جائیں کہ فسطائیت اپنے پنجے نہ گاڑ سکے، گو کہ یہ تیزی سے اسی سمت میں عمل پیرا ہے۔

اس ضمن میں میری رائے یہ ہے کہ پاکستانی فسطائیت جس طرح پیش آ رہی ہے، اور اس کے جو تیور نظر آ رہے ہیں، ان سے یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ یا تو آئندہ انتخابات ہونے کا کوئی امکان نہیں، یا اگر انتخابات ہوئے تو گزشتہ برس کے انتخابات کی زیادہ کامیاب تکرار سے مختلف نہیں ہوں گے۔

یہ کوئی پیش بینی یا پیش گوئی نہیں۔ لیکن جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، اور تحریکِ انصاف اور اس کے فسطائی اتحادی جو کچھ کر رہے ہیں، اور جو کچھ کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں، ان چیزوں کے تجزیے سے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ مستقبل میں کیا ہونے جا رہا ہے۔ مراد یہ کہ فسطائیت جو کچھ کرنا چاہ رہی ہے، خود کو اس کے لیے پوری طرح بااختیار نہیں پا رہی۔ اور جیسا کہ یہ چینی ماڈیل کو پسندیدہ قرار دیتی ہے، تو اس سے کچھ بعید نہیں۔

یعنی یہ پوری طرح بااختیار بننے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔لہٰذا، فسطائیت کا راستہ روکنے کے لیے فوری طور پر نئے انتخابات کا مطالبہ شد و مد سے آگے بڑھانا ضروری ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی فوری انتخابات کے مطالبے کی قائل نہیں، کیونکہ فی الوقت یہ دونوں جماعتیں خود اپنی بقا کی جنگ تک محدود رہنا چاہتی ہیں۔ لیکن مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت پہلے ہی یہ مطالبہ بزور سامنے رکھ چکی ہے۔

بائیں بازو کو بھی اپنے نظریاتی خول سے باہر نکل کر اسی مطالبے پر سیاست کا ڈول ڈالنا چاہیے۔ ضروری ہے کہ رائے عامہ کو اس مطالبے پر مجتمع کیا جائے۔ اور ہر آئینی و قانونی اور اخلاقی طریقے کو بروئے کار لاتے ہوئے فوری طور پر نئے انتخابات کے لیے دباؤ بڑھانا چاہیے۔

جہاں تک سیاست کے بڑے دھارے کی بات ہے، اگر فسطائیت کو اس کے اندر رہتے ہوئے شکست سے دوچار کرنا ہے، تو فوری طور پر نئے انتخابات کا مطالبہ ایک بڑے مطالبے کے طور پر سامنے آنا ضروری ہے۔ کیونکہ نئے شفاف اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے فسطائیت کے زور کو توڑا جا سکتا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *