Type to search

بلاگ تجزیہ حکومت سیاست

اب تو عمران خان بھی ملک ریاض کی جیب میں ہیں

سوشل میڈیا پر عمران خان صاحب کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں وہ ملک ریاض صاحب کے بارے میں اپنے زریں خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں پاکستان میں تمام سیاستدانوں اور بیوروکریٹس  سمیت ہر بندہ ملک صاحب کی جیب میں ہے۔ اس لیے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ چاہے اس میں پنجاب کے جنگلات پر قبضہ ہو یا پھر انہی لوگوں کی مدد سے کوئی زمین ہڑپ کرنی ہو۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اب حالات کو بدلنا ہوگا کیونکہ پاکستان کا نظام ایسے نہیں چل سکتا۔

عمران خان صاحب نے اس ویڈیو میں بولا تو سچ ہے۔ مگر آدھا سچ بولا ہے۔ کیونکہ انھوں نے ان لوگوں کا نام نہیں لیا جو کہ ملک صاحب کے خاص الخاص ہیں۔ یعنی کے محکمہ زراعت کو لوگ، جن کے شفقت بھرے ہاتھ اور مدد کے بغیر شاید وہ اس مقام پر نہ پہنچ سکتے جس پر موجود ہیں۔ دوسرا خان صاحب کو ماضی میں دیے گئے اپنے بیانات کی طرح اس پر بھی یوٹرن لینا پڑا ہے۔ کیونکہ انھوں نے ملک صاحب کے پہلے کرتوتوں پر ان کےخلاف کوئی ایکشن تو کیا لینا تھا الٹا ملک صاحب نے جو نیا کرتوت ابھی برطانیہ میں منی لانڈرنگ کر کے دکھایا ہے، جس میں 38 ارب روپے جرمانہ وہاں سے حکومتِ پاکستان کو ملنے تھے وہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منگوا کر ان کے 460 ارب کے جرمانہ کی مد میں کٹوا دیے گئے ہیں۔

اس پر تو ملک صاحب کو داد دینا بنتی ہے کیونکہ جس طرح سے انھوں نے سپریم کورٹ کو بحریہ ٹاؤن کراچی کی بے پناہ بے ضابطگیوں کے بعد 460 ارب جرمانہ دینے پر راضی کر لیا اسی طرح سے انھوں نے منی لانڈرنگ کا جرم ثابت ہو جانے کے باوجود بیٹھے بٹھائے 38 ارب کا فائدہ اٹھا لیا ہے۔ وہ بھی اس عمران خان کے وزیرِاعظم ہوتے ہوئے جو کہ منی لانڈرنگ پر نا صرف پاکستان میں کئی مرتبہ لیکچر دے چکے ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اس کا ذکر کرچکے ہیں۔

اب ان کے مشیر بیرسٹر شہزاد اکبر چاہے جتنی مرضی وضاحتیں دے کر عوام کو جھوٹی تسلیاں دے لیں کہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ سے ملک صاحب کے پیسے حکومتِ پاکستان کے اکاؤنٹ میں بھیج دیے جائیں گے۔ بھئی اگر وہ پیسے حکومتِ پاکستان کے اکاؤنٹ میں آنے ہوتے تو ان کو پہلے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منگوانے کی کیا ضرورت تھی۔ سیدھے ہی حکومتِ پاکستان کے اکاؤنٹ میں آ جاتے۔ بس عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش ہے اور کچھ نہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح سے عمران خان اور ان کے مشیروں نے حکومت میں آنے سے پہلے عوام کو یہ کہہ کر بیوقوف بنایا کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو پاکستان سے لوُٹا ہوا پیسہ باہر سے واپس لے کر آئیں گے اور یہ جرم کرنے والوں کو سزا بھی دلوائیں گے۔ جن میں انھوں نواز شریف اور ان کے خاندان کا بار بار نام لیا تھا۔ بلکہ ملک صاحب کے کیس میں بھی پی ٹی آئی کے کئی لوگ یہ کہتے رہے کہ برطانیہ میں جن منی لانڈرنگ کے پیسوں کی تحقیق ہو رہی ہے وہ بھی نواز شریف اور ان کے خاندان کے ہیں۔ وہ تو بعد میں جب برطانیہ کی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے تفصیلات سامنے آئی اور اس میں ملک ریاض صاحب کا نام آیا تو بیرسٹر شہزاد اکبر کو کہنا پڑگیا کہ یہ کیس الگ ہے اور اس کا تعلق نواز شریف اور ان کے خاندان سے نہیں ہے۔

اب چاہے اس میں میاں صاحب اور ان کا خاندان ملوث بھی تھا اور پیسے بھی واپس آگئے ہیں مگر عمران خان صاحب اور ان کے ساتھیوں کی زبانوں پر تالے لگ چکے ہیں۔ کیونکہ شاید ملک ریاض صاحب جو گیڈر سنگھی پہلے باقی سب کو سنگھاتے رہے ہیں وہ انھوں نے عمران خان صاحب کو بھی سنگھا دی ہے۔ اب خان صاحب بھی اپنے کرپشن کے بیانیے پر مٹی ڈال کر ان کی جیب میں چلے گئے ہیں۔ اسی لیے تو بے فکری کے ساتھ ملک صاحب اپنے بحریہ ٹاؤن پشاور کے نئے منصوبے کا افتتاح بھی کرچکے ہیں۔ جہاں پر انھوں نے کہا کہ ان پر سب الزامات غلط ہیں۔ انھوں نے تو ہمیشہ عوام کی فلاح کے لیے کام کیا ہے۔ اس پر مجھے اردشیر کاوس جی کی ایک بات یاد آ رہی ہے۔

انھوں نے ایک مرتبہ ایک انٹرویو میں پاکستان کے لوگوں کی حالت اس طرح سے بیان کی تھی کہ یہاں پر لوگ حرام کی کمائی سے گھر بناتے ہیں اور اس پر ماشااللہ لکھ دیتے ہیں۔ جس سے ان کو لگتا ہے کہ ان کا گھر اب حلال ہو گیا ہے۔

اسی طرح ملک ریاض صاحب بھی لوگوں کی زمینوں پر طاقتور لوگوں کی مدد سے قبضے کرتے ہیں۔ ان سب طاقتور لوگوں کو ان کا حصہ دے کر راضی رکھتے ہیں۔ جرم ثابت ہونے پر جرمانے دیتے ہیں  اور ساتھ اپنے ہر منصوبے میں بہترین مساجد بنواتے ہیں۔ مفت دستر خوان لگواتے ہی ۔ لاکھوں روپے خیرات کرتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ جیسے انھوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔ تو جس سماج میں ایک عام آدمی حرام کی کمائی سے بنائے گھر پر ماشااللہ لکھوا کر مطمئن ہو سکتا ہے تو ملک صاحب بھی پھر اپنی جگہ پر ٹھیک ہی ہیں۔ بس ان کا مقام اور مرتبہ بہت اونچا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *