Type to search

تجزیہ سیاست

مائنس ون فارمولا، ان ہاؤس چینج

جب آپ میں کوئی سیاسی صلاحیت، انتظامی اہلیت اور حکمرانی کا تجربہ نہ ہو، اور پھر بھی آپ کی سلیکیکشن ہو۔ آپ کو سلیکیٹ کیا جائے کہ آپ نے ایک کام کرنا ہے۔ مگر جب وہ کام بھی آپ سلیقے سے نہ کرسکیں، اور جنہوں نے آپ کی سلیکشن کی ہو آپ ان کی جگ ہنسائی کا سامان لے آئیں۔ پھر تو آپ پر مزید نااہلیت اور نالائقی کے طعنے سُننا پڑیں گے۔

سلیکیشن پر مزید سوالات اٹھیں گے پھر تو آپ کے محسن بھی آپ کی طرف دیکھیں گے، اور سوچیں گے کہ کن نااہلوں اور نالائقوں کی سلیکیشن ہمارے زریعے ہوئی ہے۔

سلیکشن نے اس ملک کو سیاسی بے یقینی، عدم استحکام اور معاشی انحطاط دیا۔ اور اب یہ مرحلہ ایکسٹینشن کے بحران میں داخل ہو گیا ہے۔ حکومتی نان سیریس رویہ، صلاحتیوں کا فقدان، اپوزیشن سے ورکنگ ریلیشن شپ نہ ہونا اور مفادات کے لئے تاخیری حربے ایکسٹینشن کے معاملہ کو آسانی سے حل نہیں ہونے دیں گے، حکومت بھی جلدی میں نہیں، لہذا بظاہر یہی لگتا ہے کہ ایکسٹینشن سے شروع ہونے والا  بحران چھ ماہ تک رہے گا۔

حکومت کی نااہلی اور نالائقی جہاں مہربانوں کے لے رسوائی لائی، وہیں اس نے اپوزیشن جماعتوں کی بارگیننگ پاور کو بھی بڑھایا ہے۔ اپوزیشن بھی حکومت کو گرانے سے زیادہ اسے زخم لگا کر تھکانا اور رلانا چاہتی ہے۔

حکومت کی اپنی کمزوریاں بہت زیادہ ہیں، انتہائی تھوڑی مجوریٹی، اور اپنے اتحادیوں کے بل بوتے پر کھڑی حکومت کسی بھی لمحے جب ہوا کا رخ بدلے گا تو بدلتی ہوئی تیز ہوائیں اس کو لمحوں میں بکھیر کر رکھ دیں گی۔

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور دھرنے کے بعد حکومت کو اندازہ ہو چکا ہو گا کہ کون ہمارے ساتھ کتنی دور چلے گا، اور تحریک انصاف کی اپنی صفوں میں کون کون ہے، جس کے پاس وزیراعظم  بننے کیلئے درخواست کے ساتھ مکمل سی وی ہر وقت موجود ہے، اور کن کن کی وارڈ روب میں وزیراعظم کی شیروانی بھی ٹنگی ہوئی ہے۔

 جیسے ہی نگاہ کرم ہوتی ہے تو وہ شیروانی پہن کر حلف لینے کے لئے تیار ہے۔ عمران خان کو یہ بھی پتہ ہے کہ عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ کے خاتمے کا مطلب تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کا خاتمہ ہو گا اور پھر خاتمے کرنے والے مرکز فتح کرنے کی جانب پیش قدمی کریں گے۔

سو صورتحال نازک ہے اور اتحادیوں پر بھی اعتبار نہیں۔ سب سے بڑے اتحادی مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے بھی مولانا فضل الرحمان کو ایک ’انڈر اسٹینڈنگ‘ کے تحت بھیجا ہے، مولانا اسلام آباد میں وزیراعظم کا استعفیٰ لینے آئے تھے اور مولانا کو چوہدری پرویز الٰہی نے جو دے کر بھیجا وہ ’امانت‘ ہے۔ یہ ’انڈر اسٹینڈنگ‘اور’امانت‘ بھی جلد قوم کے سامنے آنے والی ہے اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ جس طرح اس معاملے میں سیکریسی رکھی گئی ہے اس میں حکومت کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہو گی۔

’انڈر اسٹینڈنگ‘اور’امانت‘ کے ساتھ ساتھ چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے سابق آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا پر ق لیگ کے رہنماؤں کو توڑ کر پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل کروانے کا الزام لگایا گیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا نے انکے بندے توڑ کر انہیں پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل کروایا، اس کے بعد تحریک انصاف کے اندر موجود دراڑیں مزید واضع ہونے لگیں، اس کے بانی رکن سینئیر رہنما نامور قانون دان حامد خان نے ایک انٹرویو میں چوہدری پرویزالٰہی کے دعوؤں کی تائید میں کہا  جہانگیرترین اور علیم خان کے علاوہ پرویزخٹک ٹائپ کے لوگوں کو بھی تحریک انصاف میں بھیجا گیا۔ پرویز خٹک کو ایجنسیوں نے پی ٹی آئی میں بھیجا تھا۔ایسے لوگوں کا نہ تو ماضی کلین ہے اور نہ ہی ان لوگوں نے پی ٹی آئی کی سوچ اور نظریے سے کبھی اتفاق کیا ہے۔

حامد خان نے کہا کہ پرویز الٰہی بڑی سوچ کو منظر عام پر لائے ہیں پی ٹی آئی میں لوگوں کو بھیجا گیا ہے۔ اتحادی بھی ناراض اور پارٹی اندر سے بھی خلفشار کا شکار۔۔حکومت کے اہم اتحادی اخترمینگل کہ اہمیت بھی موجودہ صورتحال میں بڑھ گئی ہے، وہ ناراض بھی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کومزیدمہلت دینےکاوقت گزر چکا ہے، پارٹی کی مشاورت سے اسمبلیوں سے استعفے بھی دے سکتے ہیں۔

انہوں نے ایک انٹرویومیں کہا کہ کسی کوخوش کرنے کے لیے ترمیم ہوسکتی ہے تو ہمارے نکات پر کیوں نہیں۔ حکومت پہلے ترمیم پر حمایت لینے کے لیے ہمیں قائل کرے۔ فاٹا ممبران بھی ناراض ہیں۔

ن لیگ کا بیانیہ بھی ’اب ووٹ کو عزت دو‘ سے تبدیل ہو کر ’بندے پورے کرکے، ان ہاؤس چینج کو اولیت دو‘ ہو چکا ہے۔ مریم نواز کا ٹویٹر خاموش ہے، مسلم لیگ نواز کی سیاست اب مکمل طور پر شہباز شریف کے ہاتھوں میں ہے، اور وہی مقتدرہ قوتوں سے ڈیل کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں ان ہاؤس چینج کیلئے لندن کو ہیڈکوارٹر بنایا گیا ہے۔ سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کچھ یوں پیش کیا ہے کہ پہلے وزیراعظم کی تبدیلی ہو گی، پھر ترمیم ہو گی۔ ایسی کمزور اور بے سمت نان سیریس حکومت کی موجودگی میں ملازمت میں توسیع کے حوالے سے پارلیمنٹ میں ترمیم ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ حکومتی تبدیلی شائد اس چیلنج کو آسان بنا دے۔

آج نہیں تو کل مائنس ون فارمولا بھی اپلائی ہونا ہے اور ان ہاوُس چینج بھی ہونا ہے کیونکہ عوام سلیکیٹیڈ حکومت کے مظالم زیادہ عرصہ برداشت نہیں کرپائیں گے اور سلیکیٹرز بھی اس نااہل اور نالائق حکومت کا داغ اپنے ماتھے پر زیادہ عرصہ سجانا نہیں چاہیں گے۔ اور پاکستان نے بھی آگے بڑھنا ہے۔ جمود اور بحران ملکی مفاد میں نہیں۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *