Type to search

تجزیہ کھیل

کرکٹ بحالی کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

دنیا بھر میں کرکٹ ٹیمیں دوسرے ممالک کے دورے کرتی ہیں، اور ہر جگہ ہی ان کو جہاں سکیورٹی دی جاتی ہے، وہیں انہیں ان ملکوں میں گھومنے پھرنے کے مواقع بھی دیے جاتے ہیں۔ 1998 میں آسٹریلوی ٹیم آخری مرتبہ پاکستان آئی تھی تو اسے لاہور میں مختلف جگہوں کا دورہ کروایا گیا تھا۔ اندرون شہر کے مشہور Cooco’s Den میں کھانا بھی کھلایا گیا۔ اکتوبر 2003 میں ساؤتھ افریقہ کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تو اسے بھی لاہور کے مختلف علاقوں کی سیر کروائی گئی تھی۔ مال روڈ پر پینو راما مال میں آج بھی وہ دکان موجود ہے جہاں سے سابق جنوبی افریقی آل راؤنڈر یاق کیلس نے اپنے لئے جوگر خریدا تھا۔ اس دکان میں جوتا خریدتے ہوئے ان کی تصویر بھی آج تک موجود ہے۔

لیکن 2002 میں کراچی میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان پر بتدریج بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہونا شروع ہو چکے تھے۔ 2002 ہی میں آسٹریلوی ٹیم نے پاکستان کا دورہ منسوخ کرنا چاہا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو چار و ناچار ایک ٹیسٹ کولمبو اور دو ٹیسٹ شارجہ میں کروانا پڑے تھے۔ 2004 اور پھر 2006 میں بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان آئی، 2005 میں ویسٹ انڈیر اور انگلینڈ نے بھی دورے کیے، اور بعد ازاں جنوبی افریقی ٹیم بھی 2007 میں پاکستان آئی۔ لیکن ملک میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے بعد بین الاقوامی کرکٹ تقریباً ختم ہوتی چلی گئی۔ 2009 میں سری لنکن ٹیم نے بھی جذبہ خیر سگالی کے تحت بڑی مشکل سے پاکستان آنے کی حامی بھری مگر ایسا صدارتی سطح کی سکیورٹی کی گارنٹی کے تحت ہی ممکن ہو پایا۔ اور پھر اس دورے کے دوران ہی دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے روز سری لنکن ٹیم کی بس پر قذافی سٹیڈیم کے قریب حملہ ہوا جس میں چھ سری لنکن کھلاڑی زخمی ہو گئے، چھ پاکستانی پولیس اہلکار اور دو شہری شہید ہوئے، سری لنکن ٹیم کے ساتھ دو سٹاف ممبران اور ایک ریزرو امپائر بھی اس واقعے میں زخمی ہوئے۔ اور بس ڈرائیور کی حاضر دماغی اور فرض شناسی ہی تھی کہ ملکی دورے پر آئی ٹیم مزید جانی نقصان کے بغیر ہوٹل تک پہنچ سکی ورنہ کوئی اس سے بھی بڑا حادثہ ممکن تھا۔

2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے جو دروازے بند ہوئے تھے، وہ چھوٹی موٹی ون ڈے اور ٹی 20 سیریز کے ذریعے کھلتے کھلتے دس سال بعد بالآخر مکمل طور پر کھل گئے ہیں اور سری لنکا کی ٹیم ہی ایک مرتبہ پھر پاکستان کا دورہ کرنے جا رہی ہے۔ گذشتہ دس سال کے دوران جہاں ریاستِ پاکستان دہشتگردی کے خلاف ایک طویل جنگ سے نبرد آزما رہی، وہیں پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھی جلا وطنی کی صورتحال سے دو چار رہی۔ قومی ٹیم متحدہ عرب امارات اور انگلینڈ میں اپنی ہوم سیریز کھیلنے پر مجبور رہی۔ اسی عرصے میں جہاں پاکستان ٹیم نے 2010 کا سپاٹ فکسنگ سکینڈل بھگتا، وہیں 2009 میں ٹی 20 ورلڈ کپ بھی جیتا 2015 میں پہلی مرتبہ دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بھی بنی، 2017 میں چیمپیئنز ٹرافی کی فاتح بھی رہی۔ اسی دوران پاکستان سپر لیگ کا انعقاد بھی ممکن ہو سکا، جس نے نہ صرف قومی ٹیم کو شاداب خان، فخر زمان، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ جیسے کھلاڑی دیے ہیں بلکہ ملک میں کرکٹ کی واپسی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ کرکٹ کی بحالی کا سلسلہ 2015 سے جاری ہے، جب زمبابوے کی ٹیم تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لئے لاہور آئی۔ ان تین دنوں کے لئے لاہور شہر جزوی طور پر بند کر دیا گیا، اور زمبابوے ٹیم کو صدارتی سطح کی سکیورٹی دی گئی۔ اس کے بعد ورلڈ الیون ٹیم بھی پاکستان آئی، اور ایک مرتبہ پھر شہر کو جگہ جگہ سے سیل کر دیا گیا۔ ابھی دو ماہ قبل سری لنکا کی ٹیم ایک بار پھر پاکستان آئی، تو بھی شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کھیلا گیا تو تب بھی شہر کو اسی طرح بند کیا گیا۔ اس کے بعد کراچی میں کرکٹ کی بحالی کا کام شروع ہوا تو کراچی کے باسیوں کو بھی اس تکلیف دہ مرحلہ سے گزرنا پڑا۔ اب ایک بار پھر سری لنکن ٹیم پاکستان آئی ہے اور 11 دسمبر سے 15 دسمبر تک پہلا ٹیسٹ راولپنڈی میں اور 19 دسمبر سے 23 دسمبر تک دوسرا ٹیسٹ کراچی میں کھیلنے جا رہی ہے۔

ایک بار پھر سری لنکن ٹیم سے صدارتی سطح کی سکیورٹی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ راولپنڈی اور کراچی میں ان ٹیسٹ میچوں کے دوران ایک بار پھر جگہ جگہ ٹریفک بند کر کے اور diversions لگا کر دونوں شہروں کے شہریوں کی زندگی اجیرن کی جائے گی۔

سوال یہ ہے کہ آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا؟ اگر چاروں طرف سے شہر میں ٹریفک بند کر کے ہی کرکٹ کروانی ہے، سڑک کے دونوں اطراف دکانوں کو بند کر کے ہی دوسرے ملکوں سے آئی ٹیموں کا کرکٹ گراؤنڈ تک پہنچنا ممکن ہے تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ اس میں فائدہ زیادہ ہے یا نقصان۔ یہ درست ہے کہ کرکٹ ملک میں یکدم بحال نہیں ہو سکتی، لیکن ایسی بحالی کا کیا فائدہ ہوگا جس میں شائقین کو میچ دیکھنے کے لئے سٹیڈیم تک پہنچنے میں بھی اتنی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو کہ وہ گھر بیٹھ کر ٹی وی پر ہی میچ دیکھنے کو بہتر تصور کریں؟ سڑک کے دونوں اطراف دکانیں بند کروا کے، چپے چپے پر پولیس کے جوانوں کو کھڑا کر کے آخر ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم کرکٹ کے لئے ایک محفوظ ملک ہیں، یا یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ایک غیر محفوظ ملک ہیں جہاں دوسرے ممالک سے آئے لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے ہمیں سیکڑوں پولیس والے درکار ہیں اور ٹریفک اور مارکیٹیں بھی بند کرنا پڑتی ہیں؟ لحاظ برطرف، ایسے تو کسی وار زون میں بھی کرکٹ میچ کروایا جا سکتا ہے۔

اور پھر دیکھنا یہ ہوگا کہ حاصل کیا ہو رہا ہے؟ سری لنکن ٹیم کا دورہ تو ہو گیا۔ زمبابوے بھی آ گئی۔ وزیر اعظم عمران خان کے بقول چند ریلو کٹے پی ایس ایل کھیلنے بھی آ جائیں گے۔ لیکن دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیمیں، مثلاً بھارت، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ تو ابھی بھی آنے کے لئے تیار نہیں۔ بنگلہ دیش 2003 سے پاکستان آنے سے انکاری ہے۔ لے دے کر ایک سری لنکا ہی بچتی ہے جسے کسی طریقے سے گھیر گھار کر پاکستان لے آیا جاتا ہے۔

معاملہ یہ ہے کہ ہمیں مسئلے کی اصل جڑ تک پہنچنا ہوگا۔ نیوزی لینڈ ٹیم پر حملہ ہو یا سری لنکن ٹیم پر، یہ حملے دہشتگردوں نے کیے، اور دہشتگردی ہی وہ مسئلہ ہے جس سے نمٹ کر ملک میں حقیقی معنوں میں کرکٹ بحال ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں لابی کو مضبوط کرنا ہوگا۔ یہ سچ ہے کہ آئی سی سی پر بھارتی کرکٹ بورڈ کی اجارہ داری ہے اور بھارت کسی صورت پاکستان میں کرکٹ کی بحالی نہیں چاہتا۔ اس سیاسی و سفارتی جارحیت کا مقابلہ بہترین سفارتکاری کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی صورتحال کو بہتر بنا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ نہ صرف ملک کو دہشتگردی سے پاک کرنا ہوگا بلکہ ساتھ دنیا کے سامنے اپنا امیج بھی ایک دہشتگردی سے پاک ملک کا بنانا ہوگا۔ اس کے لئے ریاستی سطح پر پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے سالوں میں یہ کوششیں بارآوار ثابت ہوں گی اور کرکٹ ٹیمیں پاکستان آنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنا چھوڑ دیں گی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *