Type to search

انسانی حقوق خبریں خواتین

”آفس میں ڈےکئیر کی کوئی سہولت نہیں ہے، اس لیے خاتون ملازم کو بچہ گھر پر چھوڑ کر آنے کا کہا گیا“

پشاور میں خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے کمیونٹی اپریزل اینڈ موٹیویشن پروگرام [کیمپ] کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ اپنے خاتون ورکر کو صرف اس وجہ سے نوکری سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا ہے کہ وہ اپنا شیرخوار بچہ بھی دفتر لایا کرتی تھی۔

خاتون نے ٹویٹر کے ذریعے ایک پوسٹ میں بتایا کہ ان کے خاندان کا کوئی فرد بھی پشاور میں نہیں رہتا، ایسے میں یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے 6 ماہ کے بچے کو گھر پر اکیلا چھوڑ کر آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم خواتین کے حقوق  کے نام پر کام کر رہی ہے تاہم ان کے اپنے ملازمین حقوق سے محروم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کی جانب سے ایک بچے اور اسکی ماں کی طرف رویہ افسوس ناک ہے، ایسی تنظیم جو اپنے آپ کو خواتین کے حقوق کا علمبردار کہتی ہے اور خواتین کے حقوق کے نام پر لوگوں سے فنڈز اکٹھے کرتی ہے۔

سماجی رابطوں کے ویب سائٹس پر آنے سے بھی اس معاملے پر ایک بحث چل پڑی ہے جن میں زیادہ تر صارفین متعلقہ این جی اوپر سخت تنقید کر رہے ہیں۔

دوسری جانب زینت بی بی کی ای میل کے جواب میں کیمپ کے سی ای او نوید شنواری نے انکا استعفیٰ منظور کیا ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ ای میل میں حقائق کے برعکس بات کی گئی ہے۔ نویدشنواری نے یہ اعتراف کیا ہے کہ خاتون ملازمہ کو اپنا بچہ گھر پر چھوڑنے کا کہا گیا تھا کیونکہ آفس میں ڈےکئیر کی کوئی سہولت نہیں ہے۔

 

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *