Type to search

تجزیہ

میڈیا آزاد ہو رہا ہے، یا کسی نئی ضرورت کے تحت نیا پراپیگنڈا کر رہا ہے؟

  • 29
    Shares

جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے مختلف نیوز چینلز اور اخبارات کے اشتہارات کم کر دیے گئے یا ختم کر دیے گئے جس کے نتیجے میں مختلف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا مالکان نے مالی بحران ظاہر کر کے ملازمین کی تنخواہیں روک لیں یا پھر  انہیں فارغ کر دیا۔ اس کے علاوہ اس حکومت کے آنے کے بعد سے مختلف مواقع پر اپوزیشن کے سیاسی رہنماؤں جن میں محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی، مریم نواز، نواز شریف، محسن داؤڑ، علی وزیر، مولانا فضل الرحمن و دیگر کی تقاریر کو سنسر کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومتی اشتہارات پر انحصار کرنے والا میڈیا کا نظام اس بات کا مظہر ہے کہ میڈیا اب تک اپنا معاشی نظام درست نہیں کر سکا۔ صحافتی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی سے میڈیا کے کے لئے ایک آزاد معاشی پلان ترتیب دیں جس پر عمل کر کے میڈیا حکومتی اشتہارات کا محتاج نہ رہے۔ جب تک میڈیا مالی طور پر خود مختار نہیں ہوتا تب تک میڈیا مکمل آزاد اور غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ میڈیا ہاؤس کے انتظامی معاملات میں مالکان کا عمل دخل کم سے کم ہونا چاہیے۔ اس کے لئے بھی صحافتی تنظیموں کی سطح پر اور حکومتی سطح پر بھی کچھ قوانین اور اصول وضع ہونے چاہئیں۔ مالکان کو میڈیا کے ذریعے منافع کمانے کا حق تو ہونا چاہیے لیکن انتظامی معاملات میں ان کا عمل دخل بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا میڈیا کبھی بھی آزاد اور غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صحافت کوئی کاروبار نہیں ہے اور نہ ہی اسے کاروباری مفادات کے تحت چلانا ملک کے مفاد میں ہو سکتا ہے۔

اس وقت واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کیا جا رہا ہے یعنی میڈیا آزاد نہیں ہے۔ لیکن میری نظر میں پاکستانی میڈیا کبھی بھی آزاد نہیں تھا اور نہ اب ہے۔ مختلف ادوار میں میڈیا کو مختلف ذرائع سے کنٹرول کیا جاتا رہا ہے۔ کبھی میڈیا مالکان کے ذریعے تو کبھی حکومت کی طرف سےاشتہارات کی مدد سے۔ کبھی پیمرا کے ذریعے، کبھی دھمکیوں کے ذریعے اور کبھی سوشل میڈیا پر کنٹرولڈ اکاؤنٹس کے کمنٹس اور لائیکس کی مدد سے ایک خاص قسم کا الوژن پیدا کر کے اور کبھی ریٹنگ کے نظام کو ہائی جیک کر کے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عام حالات میں ہمیں میڈیا آزاد دکھائی دیتا ہے لیکن جب بالکل ہی دن کو رات اور رات کو دن بنا کر دکھانا شروع کر دیا جاتا ہے تو تب کہیں جا کر کچھ لوگوں کو احساس ہو پاتا ہے کہ میڈیا پر پابندیاں ہیں، میڈیا آزاد نہیں ہے۔

میڈیا کبھی آزاد نہیں رہا۔ ہاں، کچھ صحافی ضرور آزاد ہوتے ہیں جو ہر دور میں ہوتے ہیں لیکن پھر انہیں اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے اور ہر میڈیا گروپ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ عام حالات میں کم از کم ایک آدھ سر پھرا صحافی ضرور رکھا جائے جس سے کسی میڈیا گروپ کی آزادی کا بھرم قائم رہے لیکن مخصوص حالات میں ان صحافیوں کو بھی فارغ کر دیا جاتا ہے یا دباؤ ڈال کران کا سافٹ ویئر ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

میری نظر میں میڈیا کی آزادی کی جو بحث اس وقت چل رہی ہے اس میں ایک بنیادی بات پر توجہ نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے عام آدمی یہ سمجھ نہیں پا رہا کہ آیا میڈیا آزاد ہے یا نہیں؟ اور میڈیا کی آزادی کو جانچنے کا آخر پیمانہ کیا ہے؟

کچھ پرانے زمانے کے صحافی پرانے دور سے نکل ہی نہیں پا رہے۔ ان کے نزدیک ماضی میں جب میڈیا پر پابندیاں لگتی تھیں تو خبر کو رکوا دیا جاتا تھا جس پر بطور احتجاج اخباروں میں خالی جگہ چھوڑ دی جاتی تھی۔ ان کے نزدیک اب صورت حال بہتر ہے۔ اب ایسا نہیں کیا جاتا۔ اب خبر رکتی نہیں۔ ہر طرح کی خبر چھپتی بھی ہے اور چلتی بھی ہے لہٰذا جس طرح کی ماتمی صورت حال کچھ صحافی بنا کر پیش کر رہے ہیں حالات اتنے زیادہ خراب نہیں ہیں۔

لیکن میری نظر میں یہ پیمانہ درست نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ ماضی کے جس دور کی بات کی جا رہی ہے اس وقت پرائیویٹ ٹی وی چینلز کا وجود ہی نہیں تھا۔ صرف سرکاری ٹی وی چینل اور ریڈیو سٹیشن ہوا کرتے تھے لیکن پرنٹ میڈیا موجود تھا اور پرنٹ میڈیا میں خبر رکوا دی جاتی تھی۔ اسی طرح سوشل میڈیا کی غیر موجودگی میں خبر کی تشہیر کا متبادل کوئی اور ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ طریقہ کارگر ثابت ہوتا تھا، لیکن آج کے حالات یکسر مختلف ہیں۔ آج اگر کوئی خبر روکنا چاہے بھی تو نہیں رک سکتی۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا اتنا طاقتور ضرور ہو چکا ہے کہ اگر مین سٹریم میڈیا کوئی خبر روکتا ہے تو وہ خبر سوشل میڈیا کے ذریعے پھیل جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے اگر خبر کو روکا جائے گا تو مین سٹریم میڈیا کی کریڈیبیلیٹی تباہ ہو جائے گی۔ اس لئے آج کے دور میں میڈیا کی آزادی کا پیمانہ خبر نشر کرنا یا نہ کرنا ہے ہی نہیں۔ آج کل میڈیا کی آزادی کا پیمانہ خبر پیش کرنے والے کا لہجہ، انداز، اور خبر کے ساتھ اور خبر کے بعد پیش کیا جانے والا تبصرہ، ٹاک شوز کے مہمان اور بحث کا موضوع اور کوریج کا ٹائم ہے۔ یعنی ایک ہی نوعیت کے مختلف واقعات کی کوریج میں خبر کو کس طرح پیش کیا گیا اور کس خبر کو کتنا ٹائم دیا گیا۔ خبر پر کن تبصرہ نگاروں کو تبصرہ کرنے کے لئے بلایا گیا اور انہوں کس قسم کا تبصرہ کیا۔

مثال کے طور پر مختلف اوقات میں ایک ہی نوعیت کے دو مختلف سیاسی دھرنے ہوتے ہیں، دونوں کی خبر میڈیا پر نشر ہوجاتی ہے اور اخبارات میں بھی چھپ جاتی ہے۔ اگر میڈیا کی آزادی کا پیمانہ خبر کا نشر ہونا ہی رکھا جائے تو میڈیا آزاد ہے لیکن اگر ان دونوں دھرنوں میں سے ایک کی کوریج چوبیس گھنٹے کی جاتی رہی ہو اور دوسرے دھرنے کی صرف خبر ہی نشر کی جائے جب کہ دونوں دھرنوں میں عوام کی دلچسپی یکساں پائی جاتی ہو تو اس پیمانے کے تحت میڈیا آزاد نہیں ہے، میڈیا پر دباؤ ہے یا میڈیا کا اپنا کوئی ایجینڈا ہے۔ اگر تمام میڈیا ہاؤسز کا ایک ہی جیسا طرز عمل ہو تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میڈیا کا اپنا کوئی ایجینڈا نہیں بلکہ حکومتی سطح پر کسی ایجینڈے کی تشہیر کرنے یا نہ کرنے کے لئے دباؤ ہے۔ اسی طرح اگر ایک دھرنے میں مظاہرین کی ڈی چوک کی طرف پیش قدمی کو احتجاج کا حق اور دوسرے دھرنے کے مظاہرین کے لئے بغاوت بنا کر پیش کیا جائے تو یہ طرز عمل بھی ظاہر کرتا ہے کہ میڈیا آزاد نہیں ہے۔

پنجاب میں اگر چیونٹی بھی مر جائے تو ذمہ دار شہباز شریف جب کہ اسی نوعیت کے واقعات کی بھرمار سندھ اور کے پی میں بھی ہو لیکن ان خبروں پر متعلقہ حکومتوں کے سربراہوں کو براہ راست تنقید کا نشانہ نہ بنایا جا رہا ہو یا کوریج کے ٹائم میں فرق ہو تو یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ میڈیا آزاد نہیں ہے۔ چھوٹے بچے اور بچیوں کے زیادتی کے بعد قتل کے واقعات پورے ملک میں ہوتے رہے ہیں لیکن شہباز شریف کے دور میں پنجاب میں ہونے والے واقعات کو خصوصی پراپیگینڈے کے ساتھ منظم انداز میں تحریک انصاف اور میڈیا کے گٹھ جوڑ کے ساتھ اٹھایا گیا اور ان واقعات کی ذمہ داری براہ راست شہباز شریف اور ن لیگ کے رہنماؤں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ کچھ ن لیگی حکومتی رہنما انٹرنیشنل گینگ کے کارندے ہیں اور چائلڈ پورن ویڈیوز کا کاروبار کرتے ہیں جس پر سابق چیف جسٹس نے ایک اینکر کو عدالت میں طلب کر کے سرزنش بھی کی لیکن اینکر صاحب اپنے بیانات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ لیکن اب سے کچھ دن پہلے کے پی سے ایک سرکاری ملازم ضرور گرفتار ہوا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ عالمی گینگ کا حصہ ہے لیکن میڈیا پر اس خبر نے وہ کہرام نہیں مچایا جو پنجاب میں شہباز شریف کے دور میں مچایا جاتا تھا۔

اس پیمانے پر اگر میڈیا کو پر کھا جائے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ  میڈیا کبھی بھی آزاد نہیں تھا اور نہ آج آزاد ہے۔

ایک بات پر اور غور کریں۔ آج جو نسل نواز شریف کے گھر کے باہر لندن میں نعرے بازی کر رہی ہے یہ نسل خبر کے نشر ہونے سے پیدا نہیں ہوتی۔ یہ نسل مسلسل منفی پراپیگینڈا کر کے پیدا کی جاتی ہے جسے نہ ملزم اور مجرم میں کوئی تمیز ہے نہ ضمانت اور رہائی میں کوئی تمیز ہے نہ جمہوریت اور آمریت میں کوئی تمیز ہے نہ سزا اور جزا کا فرق معلوم ہے نہ آزادی اور غلامی کا فرق معلوم ہے۔

ایک بات اور قابل غور ہے۔ جتنا پراپیگینڈا اور کوریج پنامہ لیکس کو دیا گیا، کیا اتنا ہی جج ارشد ملک کی ویڈیو لیک کو دیا گیا؟ اگر دونوں کی یکساں کوریج کی جاتی تو نواز شریف کو دی گئی سزا کا بھانڈہ بیچ چوراہے پھوٹ جاتا اور آج لندن میں نواز شریف کے خلاف احتجاج کرنے والے منہ چھپاتے پھر رہے ہوتے۔ لیکن نہیں۔ جو برین واشڈ نسل پیدا کی گئی ہے، اگر میڈیا آزاد ہو گیا تو ساری کی ساری سرمایہ کاری جو اس برین واشڈ نسل کو پیدا کرنے کے لئے کی گئی تھی ڈوبنے کا خطرہ ہے۔

میری نظر میں ایک بات تو طے ہے کہ مین سٹیریم میڈیا کا مقابلہ سوشل میڈیا سے کیا ہی نہیں جا سکتا۔ مثلاً پاکستان میں 80 فیصد گھر ایسے ہیں جن میں ایک ہی مشترکہ ٹی وی ہوتا ہے اور گھر میں اگر ایک بندہ خبریں سننا چاہتا ہے تو باقی سب کو بھی مجبوراً خبریں سننی پڑتی ہیں جن میں خاص طور پر بچے اور نوجوان اس ایجینڈے کا اثر لیتے ہیں جو میڈیا کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہوتی  ہے۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو آزما کر دیکھ لیں۔ اگر آپ کو یہ معلوم کرنا ہو کہ اس وقت میڈیا کا جھکاؤ کس جانب ہے تو کسی ایسے گھر کے چھوٹے بچے سے جسے سیاسی تاریخ کا کوئی علم بھی نہ ہو لیکن اس کے گھر میں روز نیوزچینل دیکھنا معمول ہو سے انٹرویو کر لیں تو بچے کے جواب آپ کو حیران کر دیں گے کہ کس طرح ہو بہو بچے کی زبان پر وہی ایجینڈا ہوگا جو کسی خاص وقت میں میڈیا کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہوگی۔

مثلاً اگر آپ 2013 سے 2018 کے درمیان جب نواز شریف وزیراعظم تھے اس وقت مختلف بچوں سے انٹرویو کرتے تو آپ کو جوابات حیرت میں مبتلا کر دیتے۔ اکثر بچوں کی رائے یہ ہوتی کہ نواز شریف چور اور عمران خان ہیرو ہے لیکن سوشل میڈیا کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت سوشل میڈیا استعمال ضرور کرتی ہے لیکن سیاسی خبروں کے لئے نہیں بلکہ زیادہ تر لوگ صارف صرف انٹرٹینمنٹ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ سیاسی طور پر متحرک نظر آنے والے بیشتر اکاؤنٹس تنخواہ دار صارفین کے ہیں۔ باقی کچھ سیاسی کارکنوں کے ہیں اور چند ایک عام عوام کے ہیں۔ اس لئے سوشل میڈیا پر سیاسی پراپیگینڈا عوام تک اپنا اثر اس طرح نہیں رکھتا جس طرح مین سٹریم میڈیا رکھتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے نظریات تبدیل نہیں کیے جا سکتے لیکن پہلے سے خاص نظریہ رکھنے والوں کو اس کے ذریعے مزید متحرک کیا جا سکتا ہے۔

لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب عمران خان حکومت میں ہیں اس لئے پراپیگینڈا اپنا اثر کھو رہا ہے۔ لوگ اب کارکردگی مانگ رہے ہیں۔ جواب میں صرف پراپیگینڈا دیا جا رہا ہے جس سے عمران خان کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔ اسی وجہ سے اب میڈیا عمران خان پر بھی تنقید کرنا شروع ہو گیا ہے اور کچھ بہت واضح طور پر عمران اور تبدیلی کی حمایت کرنے والے صحافی اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ایک وقت آئے گا کہ عمران خان اتنے غیر مقبول ہو جائیں گے کہ میڈیا ان پر کھل کر تنقید کرنا شروع ہو جائے گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ میڈیا آزاد ہو گیا ہے بلکہ یہ میڈیا کی مجبوری ہوگی یا کسی نئے ایجینڈے کی ضرورت۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *