امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم کچھ اور کرنے جا رہے ہیں، جو بہت، بہت اچھا ہونے جا رہا ہے. ہم ’گولڈ کارڈ‘فروخت کرنے جا رہے ہیں، آپ کے پاس گرین کارڈ ہے، یہ گولڈ کارڈ ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس کارڈ کی قیمت تقریباً 5 ملین ڈالر (تقریباً ایک ارب 35 کروڑ روپے) لگانے جا رہے ہیں اور اس کارڈ کے حامل غیر ملکی افراد کو گرین کارڈ کی مراعات ملیں گی، اس کے علاوہ، یہ امریکی شہریت کا ایک راستہ بننے جا رہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ کمپنیاں لوگوں کو لانے کے لیے ادائیگی کریں گی، مثال کے طور پ، آپ آج وارٹن اسکول آف فنانس یا ہارورڈ یا اسٹینفورڈ یا کسی بھی کالج سے فارغ التحصیل ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ آپ کسی کمپنی کے لیے کام کرنے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایپل اور یہ تمام کمپنیاں جو چاہتی ہیں کہ ذہین لوگ ان کے لیے کام کریں، وہ ان لوگوں کے لیے ایک کارڈ خریدسکیں گی، جو ٹاپ اسکولوں کی کلاس میں نمبر ون رہے ہیں، آپ جانتے ہیں، میں اس گولڈ کارڈ کو ان چیزوں میں سے ایک کے طور پر دیکھتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ لہٰذا آپ کو بڑے ٹیکس دہندگان، بڑے روزگار پیدا کرنے والے مل رہے ہیں، اور ہم ان میں سے شاید 10 لاکھ کارڈ فروخت کرنے کے قابل ہوں گے، شاید اس سے بھی زیادہ بیچ سکیں، اور اگر آپ اعداد و شمار شامل کرتے ہیں تو، وہ بہت اچھے ہیں۔
ٹرمپ نے مثال دی کہ ایک ملین کارڈز کی مالیت 5 کھرب ڈالر ہوگی، 5 کھرب، واہ ! اور اگر آپ 10 ملین کارڈ فروخت کرتے ہیں تو، یہ فگر 50 کھرب ڈالر ہوگا، ٹھیک ہے، ہم پر 35 کھرب ڈالر کا قرض ہے، یہ اچھا ہوگا، تو ہم اسے دیکھیں گے۔
ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا روس کے امرا گولڈ کارڈز کے لیے اہل ہوں گے؟ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہاں، شاید، میں کچھ روسی امرا کو جانتا ہوں جو بہت اچھے لوگ ہیں، یہ ممکن ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امیگریشن پروگرام، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ قانونی ہے، تقریباً 2 ہفتوں میں شروع ہو سکتا ہے، یہ ممکن ہے کہ روسی اشرافیہ گولڈ کارڈ کے لیے اہل ہو۔
ای بی 5 پروگرام نے غیر ملکیوں کو امریکی کاروباروں میں سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے گرین کارڈ دیے، ٹرمپ نے کہا کہ اس پروگرام کو ایک نام نہاد گولڈ کارڈ سے تبدیل کیا جائے گا، جسے لوگ امریکی حکومت سے تقریباً 5 ملین ڈالر میں خرید سکیں گے۔