برطانوی میڈیا کی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذہنی امراض کے لیے زیرِ علاج سوتھا سواننتھم نے اپنی بیٹی کو اس خوف ے قتل کیا کہ کہیں اسے کورونا وائرس کی وبا نہ لگ جائے۔
بچی کی ماں نے کیا بتایا؟
جائے وقوعہ پر اپنی بیٹی کے ساتھ انھوں نے خود کو بھی زخمی کیا تھا جس کے نتیجے میں کئی ماہ تک ہسپتال میں ان کا علاج چلتا رہا۔ عدالتی ٹرائل کے دوران ہونے والی میڈیا رپورٹنگ کےدوران انہوں نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ قتل کے دن انھیں لگا کہ وہ نیند میں ہیں اور خواب دیکھ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا ’مجھے یہ احساس نہیں ہوا کہ میں اپنی بیٹی کو نقصان پہنچا رہی ہوں۔
ابتدائی طور پر سوتھا پر قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا مگر بعد میں کراؤن پراسیکیوشن سروس نے ان کے دفاع میں پیش کی جانے والی درخواست منظور کر لی تھی۔ یعنی مقتول کو دورانِ جُرم اس کا علم تھا نہ خود پر کوئی قابو۔
بچی کے والد نے عدالت کو کیا بتایا؟
عدالت کو دیے جانے والے بیان میں بچی کے والد نے کہا تھا کہ قتل سے قبل ان کے خاندان کی زندگی ’بھرپور اور خوشحال‘ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ ’ایک مثالی ماں تھیں جو اپنے بچوں کی پرورش کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی سختیوں کا ان کی اہلیہ کی صحت پر منفی اثر ہوسکتا ہے اور انھیں وائرس سے متاثر ہونے کا بہت زیادہ خوف تھا۔ ممکنہ طور پر عالمی وبا کے دوران لاک ڈاؤن سے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور انھیں یہ خوف تھا کہ وہ وائرس سے متاثر ہوسکتی ہیں۔
ملزمہ کی طبی تشخیص کیا رہی؟
عدلات کو بتایا گیا ہے کہ سماعت کے دوران بتایا گیا کہ اس واقعے کے دوران دو بچوں کی ماں سوتھا میں ذہنی صحت کا عارضہ زور پکڑ چکا تھا۔ ان کی جانب سے اپنی بیٹی کو قتل کرنے کے بعد ان میں سائیکوسس کے ساتھ شدید ڈپریشن کی تشخیص کی گئی۔