" سر سجدے کے روپ ہزار" کے سلسلے میں ایک ثقافتی تقریب ادارہ برائے سماجی انصاف کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی۔ تقریب میں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اپنی مذہبی اور روایتی موسیقی پیش کی، جن میں سکھ نمائندوں کی جانب سے کیرتن، ہندو فنکاروں کے بھجن، مسیحی گیت اور زبور جبکہ کیلاش موسیقی کے منتخب کلام اور گائیکی پیش کی گئی۔
تقریب ایک تخلیقی ورکشاپ کا آخری حصہ تھی، جس میں ماہرینِ موسیقی اور محققین نے فنکاروں کے سامنے مذہبی موسیقی کے فکری پہلوؤں اور فنی تکنیک سے متعلق اپنی تحقیقات پیش کیں۔
معروف گلوکار اریب اظہر نے بھی پروگرام میں شرکت کی اور پاکستان میں مختلف عقائد کی مذہبی موسیقی کے مشترکہ پہلوؤں پر اپنی تحقیق پیش کی۔ اور بعد ازاں انہوں نے تقریب میں صوفی کلام بھی پیش کیا۔ تقریب میں نوجوانوں، فنکاروں، موسیقاروں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی، ڈاکٹر یعقوب بنگش اور صدرِ مجلس ،معروف شاعر نذیر قیصر نے اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیقی تمام انسانوں کی ایک مادری زبان ہے، اس لیے اسے زندگی میں اہم مقام دیا جائے تو معاشرے میں عدم برداشت جیسے عناصر میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اختتامی کلمات میں ادارہ برائے سماجی انصاف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے کہا کہ پاکستان میں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے نوجوان فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ضروری تھا،کیونکہ موسیقی اور فنونِ لطیفہ ان کے خیالات، جذبات کے اظہار کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع مختلف عقائد کے درمیان بہتر فہم، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی موسیقی پرتحقیق ادارہ برائے سماجی انصاف کی سرگرمیوں کا حصہ ہے جو پاکستان میں مختلف مذاہب کو سمجھنے اور سماجی ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔