جب علاج بیماری سے بڑا خطرہ بن جائے

یہ ایسے جلاد ہیں، اگر کسی مریض پر دوا کا ری ایکشن ہو جائے یا ان کو نظر آ رہا ہو کہ اب اس کا بچنا ممکن نہیں، تو فوری طور پر جان چھڑانے کے لیے کہیں گے کہ اُسے کسی اچھے اسپتال لے جاؤ، جہاں جاتے ہوئے اکثر راستے میں ہی اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔

10:14 PM, 26 Sep, 2026

احتشام اعجاز بھلی

پاکستان کے پسماندہ یا غیر ترقی یافتہ علاقوں میں چلے جائیں تو ہر دوسرے کونے میں کوئی کلینک دکھے گا اور باہر کسی ڈاکٹر کا نام لکھا ہو گا۔ اندر جا کر پتا چلے گا کہ یہ ڈاکٹر نہیں بلکہ قصائی، یعنی عطائی، کا کلینک ہے جہاں بغیر احتیاطی تدابیر کیے، بغیر مناسب تشخیص کیے، نیم حکیم خطرۂ جان والا فارمولا اپنایا جاتا ہے۔ وہاں بیماریاں ختم ہونے کی بجائے بڑھتی ہیں۔

ہر بیماری کا علاج یا تو انجکشن یا پھر ہائی پوٹینسی والی دوا ہوتی ہے، جس سے وقتی طور پر عموماً فوری آرام آ جاتا ہے، مگر وہ جسم کے اندر قوتِ مدافعت کم کر کے اور بیماریوں کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔ انجکشن عموماً ایک ہی سوئی کے ساتھ ایک سے زیادہ مریضوں پر استعمال ہو رہا ہوتا ہے اور مریض چھوٹی بیماری کا علاج کرواتے کرواتے کوئی بڑی بیماری، جیسے ہیپاٹائٹس یا ایڈز وغیرہ، لے کر جاتا ہے۔

اس میں قصور ہم عوام کا بھی ہے، مگر صرف کچھ حد تک، کیونکہ ہمیں اگر کوئی سستا ڈاکٹر کہلانے والا اپنے محلے یا گلی میں مل رہا ہے، جس کی دوا سے عموماً وقتی طور پر آرام بھی آ جاتا ہے، بخار، کھانسی اور دیگر چھوٹی بیماریوں کا، جو ضرورت پڑنے پر تھوڑی بہت چیر پھاڑ کر کے اپنے گندے اوزاروں سے مرہم پٹی بھی کر لیتا ہے، تو ہم اُسی سہولت سے استفادہ حاصل کریں گے، کیوں کہ سرکار تو نہ کوالیفائیڈ ڈاکٹر دے رہی ہے اور نہ ان قصائی نما عطائی ڈاکٹروں کے خلاف ایکشن لے رہی ہے۔

میرے آبائی علاقے میں، جو کہ ضلع نارووال کا ایک قصبہ ہے، وہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ اگر باپ کا میڈیکل اسٹور یا عطائی کلینک ہے تو اس نے سب سے نکمے بیٹے کو کچھ مہینے پاس بٹھا کر کسی اور قریبی گاؤں میں ڈاکٹر کے ٹائٹل کے ساتھ ان غریبوں اور سادہ لوگوں کی زندگی سے کھیلنے کے لیے کلینک کھول دیا۔

ایسے ہی ایک بھائی اگر سرکاری کمپاؤنڈر ہے تو وہ پرائیویٹ کلینک بھی کھول کر بیٹھا ہے، جہاں وہ ڈاکٹر صاحب کے طور پر جانا جاتا ہے، اور اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو پورے اعتماد سے ایک اور کلینک کھول کر ڈاکٹر بنا کر بٹھا دیا۔ علاقے کے چند لوکل بااثر چودھریوں کو مفت میں اچھی دوا دے دی اور لوکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں سیٹنگ کر لی۔

اس کے بعد اللہ اللہ تے خیر سلا۔

یہ ایسے جلاد ہیں، اگر کسی مریض پر دوا کا ری ایکشن ہو جائے یا ان کو نظر آ رہا ہو کہ اب اس کا بچنا ممکن نہیں، تو فوری طور پر جان چھڑانے کے لیے کہیں گے کہ اُسے کسی اچھے اسپتال لے جاؤ، جہاں جاتے ہوئے اکثر راستے میں ہی اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔

اس سب میں سب سے زیادہ قصوروار ریاست اور نظام ہے، جہاں پیسہ چلتا ہے اور انسانی جانوں سے کھلواڑ کا لائسنس چند ٹکوں کے عوض دے دیا جاتا ہے۔ بنیادی طبی سہولیات اور عوامی آگاہی کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے سادہ لوح اور مجبور عوام ان قصائی نما عطائی ڈاکٹروں کی نیم حکیمی کی بھینٹ چڑھنے پر مجبور ہیں۔

اب یہ صرف ریاست کی مکمل ذمہ داری ہے کہ عوام کو صحت کی آگاہی کے ساتھ ساتھ بنیادی طبی سہولیات بھی مہیا کرے، تاکہ صحت پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکے، ورنہ یہ عطائی ایسے ہی موت بانٹتے رہیں گے۔

مزیدخبریں