Type to search

بلاگ تجزیہ معاشرہ نوجوان

جب بہن کی شادی نے میری نشے کی جان لیوا لت چھڑا دی

میں اسلام آباد کے ہر فٹ پاتھ پر سویا ہوں، مجھے آج بھی وہ ہر ٹریفک سگنل یاد ہے۔ جب میں 30 سال کا تھا اچھا اور مضبوط جوان، لیکن لوگوں سے بھیگ مانگتا تھا۔ کھانے کے لئے ہاتھ پھیلاتا تھا اور جب نشے کے لئے پیسے نہیں ملتے تھے تو چوریوں میں لگ گیا۔ ہر وہ غلط کام کیا جس کا ابھی سوچ کر گن آتا ہے کہ میں نے اپنے لئے کس راستے کا انتخاب کیا تھا۔ میں کتنا گرا ہوا تھا، لوگوں کی نظروں میں کتنا ذلیل تھا۔ مگر میری چھوٹی بہن کی شادی نے میری زندگی میں دھماکہ کیا اور میں نے غیرت کر کے ہیروئین کا نشہ چھوڑ دیا۔

زندگی کی یہ درناک کہانی 47 سالہ معروف کی ہے، جن کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور وہ پینٹنگ کا کام کرتے ہیں۔

معروف آج سے 47 سال پہلے سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور پھر اپنے والد کے ساتھ کاروبار کے سلسلے میں پشاور شفٹ ہو گئے، جہاں نمک منڈی میں ان کا کاروبار تھا مگر کاروبار میں نقصان کی وجہ سے وہ واپس اپنے گاؤں چلے گئے۔ بعد میں ان کے والد کے ایک دوست نے ان کو اسلام آباد لے جانے کی فرمائش کی اور وہ 25 سال کی عمر میں اسلام آباد آ گئے۔ وہ محنت مزدوری کرتے تھے جبکہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔

معروف نے کہا کہ ایک دن میں کام سے تھکا ہارا آیا تو دوستوں کی محفل لگی تھی اور وہ سگریٹ پی رہے تھے۔ ایک دوست نے مجھے کہا لو یہ پی لو اور غم بھلاؤ۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ہیروئین کی سگریٹ ہے، جب میں نے پی لی تو نیند آ گئی اور اگلے دن اسی وقت میرے بدن میں عجیب سے دھماکے شروع ہوئے اور میں بے چین ہونے لگا۔ دوبارہ دوستوں کی محفل میں پہنچ کر ہیروئین سے بھری سگریٹ پی جس کے بعد بدن میں سکون آیا اور نیند آ گئی۔ یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا گیا اور دوستوں کو پتہ چلا کہ میں پکا عادی ہو گیا ہوں تو انھوں نے مجھے سگریٹ دینے سے انکار کیا اور کہا کہ اپنا مال خریدو۔

میں پینٹنگ کا کام کرتا تھا اور مزدوری کے پیسوں کی آدھی رقم نشے پر لگاتا رہا اور گھر پیسے کم بھیجتا رہا کیونکہ نشہ کر کے مجھے سکون آتا تھا اور زیادہ ہیروئین پینے کا دل کرتا تھا۔  ہیروئین کی لت پڑنے کے بعد میں جب پہلی بار گھر گیا تو بہت کمزور ہو چکا تھا، میرا رنگ بلکل زرد تھا۔ جس پر میرے گھر والوں کو پتہ چلا کہ میں ہیروئین پیتا ہوں، یہ جان کر میرے والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ گھر والوں نے مجھے ہسپتال داخل کیا مگر میں باہر آ کر اور ہیروئین پیتا رہا اور دل کرتا تھا کہ اور ہیروئین پیو۔

انھوں نے مزید کہا کہ جب گھر والے تھک گئے تو مجھے گھر سے نکال دیا، جبکہ گاؤں میں لوگ میرا مذاق اُڑاتے تھے، جس کی وجہ سے میں اسلام آباد آ گیا۔ پہلے جتنی مزدوری کرتا تھا ہیروئین پینے پر لگاتا تھا مگر آہستہ آہستہ مزدوری کرنے سے بھی دل اُکتا گیا اور میں نے اپنی عزت نفس کو قتل کر کے بھیک مانگنا شروع کر دیا تاکہ نشے کے لئے پیسے ملیں۔ ہم مختلف ٹریفک سگنلز پر بھیگ مانگتے تھے، لوگ بہت دھتکارتے تھے، برا بھی لگتا تھا مگر نشہ کرنے کے لئے برداشت کرتے تھے۔

معروف نے بتایا کہ زندگی کا سب سے دہشت والا دن وہی ہوتا تھا جب ہمارا کوئی نشئی دوست مر جاتا تھا اور ہم یہی سوچتے تھے کہ ہمارا انجام بھی وہی ہو گا جو ان کا ہے تو عجیب سی کیفیت طاری ہوتی تھی اور بدن کانپنے لگتا تھا۔

معروف کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں درجنوں گھروں میں ہیروئن کا کاروبار ہوتا ہے اور ہر قسم کے ڈرگز آسانی سے مل جاتے تھے۔ کبھی گھر پہنچ کر پیسے دے کر نشہ لیتے تھے تو کبھی فون پر آرڈر دے کر بندہ پہنچا دیتا ہے۔ یہاں ہیروئین، آئیس اور چرس ملنا اتنا مشکل کام نہیں، ہر پانچویں گھر میں نشے کے آڈے ہیں، ہم نے کئی بار پولیس والوں کو دیکھا کہ وہ آئے، مال چیک کیا اور کچھ نوٹ لے کر غائب ہو گئے۔

معروف نے بتایا کہ وہ نشہ کرنے کے بعد ایک دکان کے سامنے سوتا تھا اور گھر والوں کو دکاندار کا ٹیلیفون نمبر دیا تھا کہ اگر کوئی فوتگی ہو جائے تو مجھے اسی نمبر پر اطلاع دیں۔

ایک دن میں صبح دکان کے سامنے فٹ پاتھ پر سویا ہوا تھا کہ دکاندار نے مجھے آواز دی کہ بھائی کی کال ہے۔ میں کمبل ہٹا کر دکاندار کی طرف بھاگا تو بھائی نے کہا تیری شہزادی کی اتوار کو شادی ہے، میں کل بس سٹاپ پر 10 بجے انتظار کروں گا۔ یہ سن کر میں شرمندہ ہوا کہ گھر والوں کے سامنے کیسے جاؤں گا کیونکہ میری شکل تو پکی نشئی والی ہے اور ساتھ ساتھ بہن کے سسسرال کو منہ کیسے دکھاؤں گا کیونکہ میں کئی سالوں سے گھر نہیں گیا تھا۔

میں شرمندہ تھا کہ کیسے گاؤں والوں کو منہ دکھاؤں گا اور اگر بہن پوچھے کہ تم میرے لئے کیا لائے ہو تو میں کیا جواب دوں گا۔ میں نے کئی بار نہ جانے کی ٹھان لی مگر پھر کہا کہ نہیں اس بار میں ہیروئین سے جان چھڑاؤں گا۔ میں اپنا بستر پھینک کر سیدھا بس سٹاپ پر پہنچا، جہاں پہلے سے میرے بھائی انتظار کر رہے تھے اور میں ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گاؤں چلا گیا۔

شام کو ہم گاؤں پہنچے تو جس ٹائم میں نشہ کرتا تھا اسی وقت میرے بدن میں دوبارہ سے دھماکے شروع ہوئے، مگر میں نے بھائی سے کہا مجھے ڈاکٹر کے پاس لے چلو جہاں ڈاکٹر نے مجھے نیند کے انجیکشن لگا دیے جن سے مجھے نیند آ گئی۔ یہ سلسہ تین روز تک چلتا رہا اور پھر میں نے انجیکشن لگوانا چھوڑ دیے اور خود میں غیرت پیدا کی کہ اب نہیں کروں گا۔

معروف نے بتایا کہ جب بھی ہیروئین پینے کو دل کرتا تھا تو وہ ٹھنڈے پانی سے نہا لیتے تھے۔ ایسے دن بھی آئے کہ انہوں نے ایک دن میں 100 بار ٹھنڈے پانی سے غسل کیا مگر نشے کی طرف نہیں گئے۔

معروف کا کہنا تھا کہ میں نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ بہن کو رخصت کیا مگر میرے پاس دینے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ میں واپس اسلام آباد آیا اور پینٹنگ کا کام شروع کیا مگر آج بھی کوئی کہتا ہے کہ تم تو ہیروئین پیتے تھے تو بہت ناگوار گزرتا ہے۔ اس شخص سے نفرت ہونے لگتی ہے کیونکہ میں تین سال پہلے نشہ چھوڑ چکا ہوں۔

بس اس بات پر بہت خوش ہوں کہ نشہ میں نے والد کی زندگی میں چھوڑ دیا اور مرنے سے پہلے وہ مجھ سے بہت خوش تھے۔ ہر مہینے میں ان کو 10 ہزار روپے بھیجتا تھا۔ بس اب شادی کر کے اچھی زندگی گزاروں گا مگر میری بہن کی شادی نے میری زندگی تبدیل کی۔

نوٹ: اس تحریر کے تمام کردار و واقعات حقیقی ہیں۔ تاہم سیکیورٹی کی غرض سے افراد اور جگہوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *