Type to search

انصاف جرم خبریں

وکلا اور ڈاکٹرز کے تنازع کی وجہ بننے والے ڈاکٹر عرفان سنیل مسیح قتل کیس میں بھی نامزد نکلے

  • 3.5K
    Shares

ذرائع کے مطابق ڈاکٹرعرفان پرگزشتہ سال ڈاکٹرز اور اسپتال عملے کے ساتھ مل کر سنیل نامی شہری کو تشدد کرکے قتل کرنے کاالزام ہے۔

سنیل مسیح اپنی حاملہ بہن کے ہمراہ سروسز ہسپتال گیا جہاں اس کی بہن نے علاج میں تاخیر پر لیڈی ڈاکٹر سے بحث کی تو لیڈی ڈاکٹر نے اسے تھپڑ مار دیا بعدازں معاملہ بڑھا تو لیڈی ڈاکٹر نے فون کرکے ساتھی ڈاکٹرز کو موقع پر بلا لیا جن کے تشدد سے سنیل مسیح شدید زخمی ہوا اور بعدازں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، سنیل مسیح قتل کے ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔

سنیل مسیح کے خلاف ظلم کی آواز مین سٹریم میڈیا تک پہنچ گئی۔

پاکستان کے ان مسیحیوں کو سلام جہنوں نے سوشل میڈیا کو محض ذاتی تفریح کی بجائے اپنے مسیحی بھائی سنیل مسیح کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کے لیے استعمال کیا۔ آج مین سٹریم میڈیا کو بھی سوشل میڈیا پر وائرل اس خبر کو رپورٹ کرنا پڑ گیا۔ نوائے مسیحی ٹیم سوشل میڈیا پر موجود کرسچنز ان پاکستان، آگاہی نیوز، کرسچن ٹائمز نیوز ان پاکستان، مسیحی میڈیا، گاسپل نیوز اینڈ ٹی وی، سلیم اقبال (آئزک ٹی وی )، سائرس بھٹی (نوائے مسیحی نیوز)کی کوششوں کو سلام پیش کرتی ہے ۔ ہمیں یوں ہی مل کر اپنے حقوق کی آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔ ہم نے یہ کر دکھایا!

Posted by Nawa-E-Masihi on Wednesday, March 28, 2018

واضح رہے کہ پنجاب انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاحملے کی بنیاد بننے والےگرینڈ ہیلتھ الائنس پی آئی سی کے چیئرمین رہنما ڈاکٹر عرفان کی تقریر تھی جس میں اس نے وکلاء کے مذاکرات کا مذاق اڑایا تھا،ڈاکٹر عرفان کا اپنی ویڈیو تقریر میں کہنا تھا کہ وکیل پولیس کے پاس بھی گئے لیکن کچھ نہیں ملا ، ایک وکیل لیڈر پولیس سامنے رو دیا کہ ڈاکٹروں نے بہت مارا ۔ ڈاکٹر عرفان نے شعر بھی پڑھے،ان کی اس تقریر پر وہاں کھڑے ساتھی ڈاکٹر اور میڈیکل سٹاف ہنستا رہا۔

سوشل میڈیا پر ہسپتال میں ڈاکٹرز اور عملے کی وکلاء سے لڑائی کے بعد ڈاکٹر عرفان کی تقریر کی ویڈیو جاری کی گئی تھی جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ، ویڈیو وائرل ہونے پر وکلاء مشتعل ہوگئے جنہوں نے یہ ویڈیو تمام وکلاء کو بجھوائی اور وکلاء اکٹھے ہو کر احتجاج کرتے ہوئے پی آئی سی پہنچے جہاں انتہائی ناخوشگوار سانحہ رونما ہوا

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *