Type to search

تجزیہ حکومت سیاست

ریاست کس منہ سے وکلاء کو قانون کی پاسداری کا کہے گی؟

ہم اکثر اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔ تعلیم سے عوام کا شعور بلند ہوتا ہے۔ تعلیم سے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے تعلیم سے مثبت تبدیلی آسکتی ہے لیکن لاہور میں ہسپتال پر وکلا کے حملے کے بعد یہ بات اب سب پرعیاں ہوجانی چاہیے اور اس میں اب کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ تربیت کے بغیر تعلیم کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

تربیت بھی تین قسم کی اہم ہوتی ہے، ایک تربیت وہ جو گھر میں والدین بچوں کو دیتے ہیں۔ دوسری وہ جو تعلیمی اداروں میں دی جاتی ہے۔ تیسری وہ جو مجموعی معاشرے سے حاصل کی جاتی۔ ان تینوں میں سب سے اہم وہ تربیت ہے جو مجموعی معاشرے سے ملتی ہے کیونکہ نہ تو کوئی ماں باپ اپنے بچوں کو برائی سکھا سکتا ہیں اور نہ ہی اساتذہ، زندگی میں اگر کسی انسان کا کوئی بے لوث خیر خواہ ہوسکتا ہے تو وہ ماں باپ اور اساتذہ ہوتے ہیں جن کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی ہے کہ ان کے بچے بڑے ہو کر ایک اچھے انسان بنیں تاکہ ان کا اور ملک کا نام بھی روشن ہو۔ دراصل ماں باپ اور اساتذہ معاشرے میں زندگی گزارنے کے لیے تعلیم اور تربیت دیتے ہیں۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پھر مسئلہ کہاں ہے؟ کیوں ہمارے ملک کا سب سے پڑھا لکھا طبقہ خاص طور پر ڈاکٹرز، وکلا اور طلبہ آپس میں غنڈوں کی طرح گینگ بنا کر لڑ رہے ہیں؟ صرف طلبہ، ڈاکٹرز اور وکلاء ہی نہیں بلکہ اس ملک کا ہر طبقہ ایک مافیا کی طرح عمل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ کسی خاص وقت میں ایک خاص طبقہ منظر عام پر آ جاتا ہے اور کبھی دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے، اسی طرح ہماری تنقید کا رخ بھی بدلتا رہتا ہے لیکن ہم بیماری کی جڑ پر کبھی پہنچ نہیں پاتے اور نہ سمجھ پاتے ہیں کہ آخر بگاڑ کہاں ہے؟ کم از کم ایک بات پر تو اب ہمیں متفق ہو جانا چاہیے کہ ہماری قوم کی تربیت میں کچھ کمی رہ گئی ہے۔

میری نظر میں قصور گھر کی تربیت یا تعلیمی اداروں کی تربیت کا نہیں دونوں ہمیں اچھی اچھی باتیں ہی سکھاتے ہیں۔ قصور مجموعی معاشرے کا ہے، آئیے اب ذرا معاشرے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک معاشرے میں، ہماری ماں ریاست ہوتی ہے اور ہمارا باپ حکومت جبکہ ریاستی ادارے ہمارے رشتہ داروں کا درجہ رکھتے ہیں۔

یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان کو آپ لاکھ اچھے اخلاق کا درس دیتے رہیں وہ کبھی بھی اس پر عمل نہیں کرے گا جب تک کہ وہ اور لوگوں کو ان اخلاقیات پر عمل کرتا ہوا نہیں دیکھے گا۔ مثلا اساتذہ اور والدین ہمیں جن اخلاقیات کا درس دیتے ہیں اگر وہ خود ان پر عمل نہیں کرتے تو ہم کبھی بھی ان کے دیئے ہوئے درس پر عمل نہیں کرینگے یعنی جو اخلاقیات ہم دیکھ کر سیکھتے ہیں وہ درس گاہوں، کتابوں اور والدین کے حکم سے کبھی بھی نہیں سیکھ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم پاکستانی لوگ کسی اور ملک میں جاتے ہیں جہاں لوگ قانون کی پاسداری کرتے دکھائی دیتے ہیں اور خلاف ورزی پر یقینی سزا ملتی ہے، تو یہی پاکستانی چاہے پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ سب مہذب بن جاتے ہیں اور قانون کی پاسداری کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ آیئے اب ہم غور کرتے ہیں کہ ہم کیا کیا دیکھتے ہیں کیونکہ جو ہم دیکھتے ہیں وہ سب سے زیادہ اہم ہے۔

جب ہم ٹی وی دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہےکہ سب کرپٹ ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتی ہیں پھر کچھ عرصے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کرپٹ سیاست دان کرپشن کے الزام میں پکڑے گئے ہیں اور جب ہمیں اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ یہ کرپشن دراصل ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے کی گئی ہے تو ہم بھی کسی کا حق مارتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے کیونکہ دن رات ہم یہ خبر سنتے ہیں ہمارا حق مارا جارہا ہے اور ہمارے ٹیکسوں کا پیسہ لوٹا جا رہا ہے۔

پھر ہم کچھ عرصے بعد دیکھتے ہیں کہ وہ سیاستدان جس پر کرپشن کے چارجز تھے، دراصل وہ غلط تھے اور سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تھے اس طرح کل تک جیل میں رہنا جس کے لیے بدنامی تھی آج وہ سیاسی جدو جہد میں تبدیل ہوگئی ہے یوں جیل میں رہنا ہمارے لیے ایک فخریہ مثال بن گئی ہے۔

ان کرپشن کہانیوں میں کتنی حقیقت ہوتی ہے کتنا فسانہ یہ ہم آج تک سمجھ نہیں سکے لیکن ہمارے ذہن پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مزید یہ کہ جب ہم گھر سے نکلتے ہیں تو راستے میں ٹریفک پولیس روک لیتی ہے، ہم انہیں رشوت دے کر جان چھڑاتے ہیں اور اگر ان سے بچ جائیں تو سیکیورٹی پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ ان سے جان چھڑا کر آفس پہنچتے ہیں تو آفس میں ایک الگ ہی سیاست چل رہی ہوتی ہے۔ ملکی معیشت زوال کا شکار ہے ہر ادارہ ڈاؤن سائزنگ کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہر انسان اپنی جاب سیکیورٹی کی جدو جہد کرتا پایہ جاتا ہے جس کے لیئے وہ جھوٹ بھی بولتا ہے دھوکہ بھی دیتا ہے ٹانگیں بھی کھینچتا ہے طاقت ور کی خوش آمد بھی کرتا ہے اور طاقت کا غلط استعمال بھی۔

ان سب چیزوں سے بچ کر آپ جب گھر لوٹتے ہیں تو بازار سے گھر کا سودا سلف لینے جاتے ہیں نہ آپ کو دودھ خالص ملتا ہے نہ آٹا، ہر شے میں ملاوٹ ہے۔ جو ملتا ہے وہ اس قدر مہنگا ہے کہ آپ کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں، پھر گھر جاتے ہوئے آپ کا موبائل اور پیسے چھن جاتے ہیں۔ گھر پہنچ کر آپ ٹی وی آن کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ جو خریداری پر آپ نے ٹیکس ادا کیا وہ سیاست دان لوٹ کر کھا رہے ہیں اور پاکستان سے باہر جائیدادیں بنا رہے ہیں۔

پھر ہم مزید دیکھتے ہیں کہ قانونی طور پر وزیراعظم اس ملک کا چیف ایگزیکیوٹیو ہے لیکن اس کی اس قانونی حیثیت کو طاقت کے بل پر کچلا جاتا ہے اور باقی ریاستی ادارے اس عمل کو قانونی شکل دے کر طاقت ور کو بچاتے ہیں۔

پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہاں عدالت کے ججز کی ویڈیوز اور فون کالز لیک ہوتی ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ججز سے بھی طاقت کے زور پر فیصلے لیے جاتے ہیں۔ اور ہم نے یہ بھی دیکھا ہے پاکستان میں طاقت کے زور پر حکومت پر قبضہ بھی ہوجاتا ہے۔

پھر ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کراچی میں ہزاروں لوگ ٹارگٹ کلنگ کی نظر ہوتے رہے اور جو بچ گئے وہ ماورائے عدالت مارے گئے اور انصاف کم ہی کسی کو ملا۔

معاشرے میں یہ سب ہوتا دیکھ کر ہم قانون کی پاسداری کے کی طرف کیسے اور کیونکر راغب ہوسکتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اب صرف وہی شریف ہے جس کو موقع نہیں ملا یا جس کا بس نہیں چلتا یا پھر جو کمزور ہے کیونکہ انسان کے اندر کا شیطان اس وقت باہر آتا ہے جب وہ کسی خاص جگہ کسی خاص موقع پرطاقت میں ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی چھوٹے سے چھوٹے عہدے پر بیٹھے کسی شخص کو بھی بغور دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی اپنی حدود میں ایک فرعون ہے۔ اگر کوئی کار کی کرسی پر بیٹھا کار چلا رہا ہوتا ہے تو وہ سائیکل، موٹر سائیکل اور پیدل افراد کو کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے

اگر کوئی ٹرک کی سیٹ پر بیٹھا ہو تو وہ کار والے کو بھی حقیر سمجھ کر کچل ڈالتا ہے۔ سائیکل اور پیدل والے تو وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں رکھتا۔

میری نظر میں ریاست کو آئین اور قانون پر سختی سے عمل کرنے اور خلاف ورزی پر یقینی سزا کے کلچر کو فروغ دینا ہو گا۔ کسی کو مقدس گائے بننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور ہم سب کو بھی اپنے اپنےگریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم سب اپنے اپنے دائرہ اختیار میں ایک سے بڑھ کر ایک ظالم ہیں۔  اگر طرز عمل درست نہیں کیا گیا تو ہم کس منہ سے کسی کو قانون کی پاسداری کا حکم دینگے ؟

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *