Type to search

تجزیہ سیاست

مشرف کی سزائے موت، اور عوام کا مورال

  • 212
    Shares

کل رات دو بجے تک سوشل میڈیا پر بھٹکتا رہا، لوگوں کی آرا پڑھتا رہا اور سوچتا بھی رہا کہ یہ مورال کیا چیز ہے۔ ہمارا تو خیال تھا کہ ہماری فوج کی اعلیٰ تربیت اس طرح کی گئی ہے کہ کوئی بھی دھچکا یا حادثہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جو رینجرز جوان واہگہ بارڈر پر بھارتی بی ایس ایف کے جوانوں کے سامنے ہر شام گیٹ بند کرنے کی تقریب میں سینے تان کر قوم کا مورال بڑھاتے رہے، کیا وہ ایک فیصلے سے اتنے سٹپٹا سکتے ہیں؟

ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ افواجِ پاکستان میں شدید غم و غُصہ پایا جاتا ہے کہ ان کے ایک ایسے سابق چیف کو غدار کہا گیا ہے جِس نے چالیس سال تک مُلک کی خدمت کی۔ کیا مُجھ جیسے کم عقل کو کوئی سمجھا سکتا ہے کہ جب مادرِ ملت فاطمہ جناح کے خلاف ایک فوجی آمر جنرل ایوب خان غداری کے الزامات لگا رہا تھا، اُن کے کاسہ لیس مولوی فاطمہ جناح پر کُفر کے فتوے لگا رہے تھے اور ایک دھونس دھاندلی کے الیکشن میں بانیِ پاکستان کی بہن فاطمہ جناح کو ہرا دیا گیا تھا، مادرِ ملت کی شِکست کا جشن منانے کے لئے آمر جنرل ایوب خان کا بیٹا قائداعظم کے مزار سے چند فرلانگ پر کراچی میں سڑکوں کو بلاک کر کے فائرنگ کر رہا تھا تو کیا عوام کا مورال ڈاؤن نہیں ہو رہا تھا؟

آپ کو یاد کرواتا چلوں کہ جب مشرقی پاکستان پر بھارت یلغار کر چکا تھا تو بھی جنرل یحییٰ خان کی رنگ رلیوں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ مشرقی پاکستان کے ڈھاکہ پلٹن گراؤنڈ میں جب ہمارے 26 ہزار بہادر فوجیوں نے صرف تین ہزار بھارتی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالے تو قوم کا مورال کہاں تھا، اُس کی ایک جھلک ریڈیو پاکستان کی براڈکاسٹ سے مِل جاتی ہے جب براڈکاسٹر کے جذبات نے اُسے صرف اتنا اعلان کرنے کی ہمت ہی دی کہ بھارتی فوج آج ایک معاہدے کے تحت ڈھاکہ میں داخل ہو گئی ہیں اور پھر ریڈیو کے سامنے بیٹھے عوام نے خاتون ریڈیو براڈکاسٹر کی سسکیاں سُنیں اور پوری قوم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

پھر سابق منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ہمارے اداروں کے مورال کی خاطر ہی بھارتی قید سے 90 ہزار پاکستانی فوجی جوانوں اور افسران کو رہا کروایا اور قسم کھائی کہ ہندوستان سے سو سال لڑنا بھی پڑا تو لڑیں گے، گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ لیکن پھر جب 5 جولائی 1977 کو سابق آمر جنرل ضیاالحق نے پاکستان کے پہلے مُنتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ اُلٹا تو اُن کے لاکھوں ووٹرز کے جذبات کیا تھے؟ جب 16 ستمبر 1977 کو کراچی میں المرتضیٰ ہاؤس کی دیواریں پھلانگ کر اور گھر کے گارڈز کو گن پوائنٹ پر رکھ کر ایک مُنتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تیسری بار گرفتار کیا گیا تو کیا پاکستانی عوام کا مورال اوپر گیا ہوگا؟ جب 4 اپریل 1979 کو ایک متنازع ٹرائل کے بعد تھرڈ ورلڈ، اسلامک بلاک، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے اور آئینِ پاکستان کے خالق سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا گیا تو کیا عوام کا مورال بُلند ہوا؟ اگر تب پاکستانی عوام میں اپنے پسندیدہ لیڈر کی پھانسی پر غم و غُصہ نہیں تھا تو لاڑکانہ میں کرفیو لگا کر ذوالفقار علی بھٹو کی تدفین کیوں کرنا پڑی؟ اگر تب عوام کے غم و غصے اور جذبات کا خیال نہیں رکھا گیا اور ایک مُنتخب وزیراعظم کو پھانسی چڑھا دیا گیا تو کیا تب عوام کے مورال کا خیال رکھا گیا؟

2008 کے عام انتخابات میں ایک کروڑ سے زائد ووٹ لے کر قومی اسمبلی میں 122 نشستیں حاصل کرنے والی پیپلز پارٹی کی چیئرمین اور دو دفعہ سابق وزیراعظم رہنے والی بینظیر بھٹو کو جب راولپنڈی کی سڑک پر ایک مشکوک خود کُش حملے میں شہید کر دیا گیا اور جائے وقوعہ کو دھو دیا گیا تو عوام کے جذبات کیا تھے؟ تین دِن تک پورا مُلک جلتا رہا۔ عوام کا غم اُن جلتی دکانوں، گاڑیوں اور ٹرینوں کی راکھ میں تلاش کیجئے۔ بعد میں اُن ایک کروڑ ووٹرز کے مُنتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل کر دیا گیا تو پھر ان کا کیا حال ہوا ہوگا؟

دو تہائی اکثریت رکھنے والی ن لیگ پر جب اکتوبر 99 میں شب خون مارا گیا تو تب ن لیگ کے ووٹر پر کیا گزری ہوگی اور پھر ن لیگ نے جب مئی 2013 کے انتخابات میں میں 1 کروڑ 48 لاکھ سے زائد ووٹ اور قومی اسمبلی میں 176 نشستیں جیت کر اپنے قائد نوازشریف کو تیسری دفعہ پاکستان کا وزیراعظم بنایا اور پھر جِس طرح سابق وزیراعظم نوازشریف پر مُقدمہ پانامہ کا بنایا لیکن نکالا اقامہ پر گیا اُس سے یقیناً اُن کے 1 کروڑ 48 لاکھ سے زائد ووٹرز بھی بڑے صدمے سے گزرے ہوں گے۔ پِھر نوازشریف کو ن لیگ کی صدارت سے بھی ایک عدالتی فیصلہ سے برطرف کیا گیا اور اُن کے دستخط سے جاری شُدہ سینیٹ کے ٹکٹ پر سے ن لیگ کا نام اُتار دیا گیا لیکن 1 کروڑ 48 لاکھ ووٹرز نے یہ بھی برداشت کر لیا۔

2018 کے عام انتخابات میں جب پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشنوں سے نکال کر رزلٹ دے دیا گیا تھا، وہ اس ذلت کو بھی چپ چاپ پی گئے۔

بینظیر بھٹو کو سکیورٹی رِسک کہا گیا اور اُن کے خلاف سکھوں کی فہرستیں بھارت کو دینے کا بے بُنیاد الزام لگایا گیا۔ افواجِ پاکستان کے سُپریم کمانڈر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری پر میمو گیٹ کے مشکوک کردار منصور اعجاز غداری کے الزامات لگاتا رہا۔ نوازشریف کو مودی کا یار کہہ کر مُلک کے چیف ایگزیکٹو کی حُب الوطنی کو مشکوک بنایا گیا لیکن یہ نہیں سوچا گیا کہ اِن مُنتخب وزرائے اعظم نے دہائیوں تک مُلک کی خدمت کی، ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بم بنا کر، بینظیر بھٹو نے شمالی کوریا سے اپنے لانگ کوٹ کی جیب میں مزائل ٹیکنالوجی لا کر اور نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا لیکن یہ پھر بھی غدار ٹھہرے۔

دوسری طرف ہمیں ایک ایسے فوجی آمر کی چالیس سالہ خدمات کو ماننا پڑ رہا ہے جِس کے ناکام کارگل آپریشن نے جدوجہدِ آذادی کشمیر پر دہشت گردی کی ایسی مُہر ثبت کروائی کہ آج ہم پوری دُنیا میں پُرامن کشمیری جدوجہد کے حق میں آواز کم اُٹھاتے ہیں اور صفائیاں زیادہ دیتے ہیں۔ چلیں ہمیں چھوڑیے سابق جنرل مُشرف کے ساتھ کام کر چکے اور ان کے رشتے دار جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کی کتاب یہ خاموشی کہاں تک ہی پڑھ لیجئے کہ کیسے جنرل مُشرف کور کمانڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر امریکہ کو فوجی اڈے دیتے رہے اور حساس مُقامات تک رسائی دیتے تھے۔ لیکن ہم جنرل مشرف کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ جنرل مُشرف کو پھانسی کی سزا پر اُن سے فاصلہ اختیار کرتے اور ایک نئی شروعات کرتے لیکن یہاں تو پاکستانی عدلیہ کو برا بھلا کہا جا رہا ہے۔

درحقیقت عدلیہ کی آزادی صرف مُنتخب سویلین حُکمرانوں کے احتساب کی حد تک قبول ہے۔ آپ نے جِس آئینِ پاکستان کا حوالہ دیا ہے، اس کی پاسداری آپ پر بھی لازمی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کر لیں کہ آئین میں طے کردہ ضابطوں اور اصولوں کے تحت چلنا ہے یا کسی ایک ادارے – عدلیہ یا فوج – کی سوچ پر؟

براہِ مہربانی اپنے رویے اور سوچ پر نظرِ ثانی کریں۔ فوج کا ادارہ ہمیں بہت عزیز ہے کیونکہ ہم (عوام) آپ سے سچے دل سے محبت کرتے ہیں اور اپنی آسانیاں قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ پاک افغان سرحد پر ٹھٹھرتی سردی میں کھڑے فوجی جوان کا خون بہے یا خون جما دینے والی سیاچن کی سردی میں ہمارا فوجی جوان پوری رات کھڑا ہو ہم اُس کا بہت احترام کرتے ہیں اور ہر شہید جوان کا دُکھ ہمیں بھی بالکل ویسے ہی ہوتا ہے جیسے اُس کی ماں کا دِل ڈوب جاتا ہے۔ انہی جوانوں کی قُربانیوں کے صدقے آپ آئینِ پاکستان کو سربلند رکھیں اور ملک میں ایسا نظام وضع کریں کہ آئندہ تصادم کا خطرہ ہی نہ پیش آئے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *