Type to search

خبریں سیاست

”جج کا دماغی ٹیسٹ ضرور کریں تاکہ پتا چلے ایک آمر کو سزائے موت سنانے والا جج کیسے پیدا ہو گیا“

  • 418
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    418
    Shares

سابق صدر مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اس طویل فیصلے کا ایک پیرا گراف خاص طور پر بحث کا موضوع بن گیا ہے اور سوشل میڈیا پر اس بارے میں تند و تیز بحث جاری ہے۔

66 نمبر کے اس پیرا گراف میں لکھا ہے:

’ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ مفرور/مجرم کو گرفتار کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور یقینی بنائیں کہ انہیں قانون کے مطابق سزا  دی جائے، اور اگر وہ مردہ پائے جائیں تو ان کی لاش کو  اسلام آباد کے ڈی چوک تک گھسیٹا جائے  اور تین دنوں تک لٹکایا جائے۔‘

قابلِ غور بات یہ ہے کہ صرف جسٹس وقار نے اس پیرا گراف سے اتفاق کیا ہے۔ جسٹس شاہد کریم بقیہ تمام فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس شق کی مخالفت کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: میں نے خصوصی عدالت کے صدر کے فیصلے کا مسودہ پڑھا ہے اور میں اس کے نتائج اور سزا سے اتفاق کرتا ہوں (سوائے پیرا 66 کے)۔

انصار عباسی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ” حکومتی وزراء کے ساتھ ساتھ اعتزاز احسن جیسے وکلاء کہتے ہیں کہ جسٹس وقار سیٹھ کے دماغ کا ٹسٹ کرانا چاہیے۔ واقعی ایسا ضرور کریں تاکہ پتا چلے ایک آمر کو موت کی سزا سنانے والا جج پاکستان میں کیسے پیدا ہو گیا۔’

کامران خان نے لکھا کہ پاکستان میں ٹی وی پر ریسلنگ دیکھنے پر پابندی لگائی ریسلنگ دیکھنے کی لت میں پڑے افراد میں وحشیانہ جنونی جذبات جنم لے رہے ہیں ایسے ہی ایک شخص نے publicly اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ایک لاش کو شاہراہ پر گھسیٹا جائے اور تین دن تک لاش لٹکی رہے world wrestling federation کے لمحہ فکریہ۔۔۔

 

مطیع اللہ جان نے لکھا  کہ ماورا آئین و عدالت اغوا و قتل کر کے لاشوں کو گھسیٹ کر کئی دن تک انہیں نالوں اور ویرانوں میں پھینکنا تو ٹھیک مگر آئین اور قانون کے تحت عدالتی کاروائی کے بعد آئین سے غداری کے مفرور مجرم کے ساتھ ایسے سلوک کے ناقابل عمل عدالتی حکم پر طوفان کیوں؟

عمر چیمہ نے لکھا اپنے صحافتی فرائض کی ادائیگی کے دوران اغوا، تشدد، ہراسگی کا سامنا کیا ایک دفعہ تو گاڑی اوپر سے گزاری گئی مگر اسی شعبے نے مجھے معاشرے میں ایک مقام بھی دیا سوال:باقی شعبوں میں کام کرنے والوں نے اگر قربانیاں دیں تو کیا اس ملک نے انکی قدر نہیں کی؟ پلیز اپنی قربانیاں ضائع نہ کریں۔

رضوان رضی نے لکھا کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ صاحب وہ فائق اور متوازن جج ہیں جن کے فیصلے ہم نے کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت میں بطور نظیرپیش کر رکھےہیں۔ جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف مہم چلانے والے دراصل کلبھوشن یادیو کی رہائی کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

طلعت حسین نے لکھا کہ اگر جج سیٹھ پیرا 66 نہ لکھتے تو بھی فیصلہ تاریخی ہی رہتا۔مگر ان الفاظ کے ساتھ اپنے ہی فیصلے کی اخلاقی اور قانونی گت بنوانے کا بہترین بندوبست کر دیا ہے۔ اور پھر عدلیہ کے خلاف ایک محاز بھی کھڑا ہو گیا ہے۔ اتنا زیرک جج، اتنا بڑا فیصلہ اور ایسا متنازعہ پیرا؟ کیا مقصد تھا؟

سبوخ سید نے لکھا “جو کچھ اس ملک میں اب تک دیکھا ، سوچا اور سمجھا گیا ہے ، اس کے مطابق شاہ دولے کے چوہوں جیسا ایک وسیع ذہن تیار ہوا ہے ۔ ان آلودہ دہنوں کے مطابق جو ٹھیک ہے ، وہی غلط ہے ۔ پس جسٹس وقار سیٹھ غلط ہیں ۔ وجہ ؟ کیونکہ وہ ٹھیک ہیں ۔

مرتضی سولنگی نے لکھا جج وقار سیٹھ کی پرویز مشرف سے ذاتی دشمنی تھی۔ بچپن میں دونوں کی گلی ڈنڈا کھیلتے ہوئے لڑائی ہوگئی تھی۔

خیال رہے کہ خصوصی عدالت نے 17 دسمبر کو پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کا جرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی تھی جس کا تفصیلی فیصلہ 19 دسمبر کو جاری کیا گیا۔

تین رکنی پینل کے تفصیلی فیصلے میں جج وقار احمد سیٹھ نے پیرا گراف نمبر 66 میں لکھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرم کو گرفتار کر کے سزائے موت دلوانے کے حکم پر عمل درآمد کروائیں، اگر پرویز مشرف انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو اسلام آباد لا کر تین روز تک ڈی چوک پر لٹکایا جائے۔

وقار احمد سیٹھ کے ان ریماکس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے بھی پرویز مشرف کیخلاف فیصلے کو غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فوری طور پر اپیل دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *