Type to search

خبریں سیاست فيچرڈ

”جنید حفیظ کیخلاف کارروائی گروہی انتقام پر مبنی تھی“، سوشل میڈیا پر تبصرے

پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار لیکچرر جنید حفیظ کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ردعمل میں اس خبر کو ٹاپ ٹرینڈ بنا دیا۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کےسابق وزٹنگ لیکچرار پر 13 مارچ 2013 میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر مذہبی دل آزاری پر مبنی ریمارکس دیے تھے۔

وکالت کے شعبے سے وابستہ طاہر چوہدری نے لکھا کہ  پروفیسر جنید حفیظ کیس میں ایک گواہ سے پوچھا گیا بتاو جنید نے کہاں گستاخی کی۔ کس تحریر میں؟ گواہ کا جواب تھا کہ وہ تحریر انگریزی میں ہے۔ مجھے انگریزی پڑھنی نہیں آتی۔ اپنی فیس بک پوسٹ میں انکا کہنا تھا کہ جنید حفیظ کو ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ سے رہائی مل جائے گی۔ استغاثہ کا کیس کمزور ہے۔ توہین رسالت،توہین مذہب کے کیس عموما جھوٹ اور ذاتی یا گروہی انتقام پر مبنی ہوتے ہیں۔نچلی عدالتیں ایسے حساس کیسوں میں زیادہ دباو برداشت نہیں کرتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں جنید حفیظ کے کیس میں فیصلہ انے کو ان کے حق میں بہتر سمجھتا ہوں۔کہ 6 سال سے زیادہ کا وقت ہو گیا۔ ٹرائل ہی مکمل نہیں ہورہا تھا۔ استغاثہ جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کرتا رہا۔ اب ملزم کو ہائیکورٹ میں اپیل کا اختیار مل گیا ہے۔ یہاں سے فیصلہ جلد بھی ہوگا اور سیشن کورٹ سے زیادہ میرٹ پر ہوگا۔وکیل تگڑا ہونا چاہیے۔

عاطف توقیر نے لکھا کہ پاکستان میں توہین مذہب یا توہین رسالت سے متعلق مقدمات سراسر ناانصافی کا مظہر ہوتے ہیں۔ ایک مقدمہ جس میں الزام کے ساتھ ہی کسی شخص کو مجرم سمجھ لیا جاتا ہے۔ نہ کوئی وکیل دفاع کر سکتا ہے اور نہ جج غیرجانب داری سے مقدمہ سن سکتا ہے۔

 

یاد رہے کہ توہینِ مذہب کے الزام میں سزائے موت پانے والے سکالر جنید حفیظ گذشتہ چھ برس سے جیل میں تھے۔ انہیں ہفتے کی صبح ملتان کی مقامی عدالت نے سزائے موت سنا دی۔ جنید حفیظ پر یہ الزام اس وقت لگا جب وہ ملتان کی بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی میں تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے۔ ان پر یہ الزام ایک ایسے طلبہ گروہ کی جانب سے لگایا گیا جو مبینہ طور پر جنید حفیظ کی یونیورسٹی میں مستقل تقرری کے خلاف تھا۔

لیکن یہ الزام لگنے اور جیل میں ڈالے جانے سے پہلے جنید حفیظ پاکستانی academia کا ایک ابھرتا ہوا ستارہ تھے۔

جنید حفیظ جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں پیدا ہوئے اور پری میڈیکل میں انٹرمیڈیت میں گولڈ میڈلسٹ رہے۔

انٹر کے بعد وہ لاہور کے مشہور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ دو سال اس کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ ان کا دماغ تو میڈیکل میں ہے لیکن ان کا دل انگریزی ادب میں اٹکا ہوا ہے۔ یہ احساس انہیں خلیج ٹائمز اور دیگر میگزینز میں کئی نظمیں اور کہانیاں لکھنے کے بعد ہوا۔

انہوں نے میڈیکل سائنس چھوڑی اور ملتان کی بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھنے کے لئے داخلہ لے لیا۔

2009 میں انہیں فل برائٹ سکالرشپ ملی جس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ چلے گئے۔ وہاں انہوں نے جاکسن سٹیٹ یونیورسٹی سے امریکی ادب، فوٹوگرافی اور تھیٹر میں گریجویشن کیا۔ 2011 میں ان کا گریجویشن مکمل ہوا اور وہ ملتان واپس آ کر بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھانے لگے۔ اسی دوران انہوں نے یونیورسٹی میں مستقل ملازمت کے لئے درخواست بھی دے دی۔ اور یہیں سے مسئلہ شروع ہوا۔

بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی پر اسلامی جمعیت طلبہ کا مکمل تسلط قائم ہے۔ اور ان کی خواہش تھی کہ جس پوزیشن کے لئے جنید حفیظ ایک بہترین چوائس تھے، اس پر کوئی ایسا استاد بھرتی ہو جائے جو نظریاتی طور پر ان کا حامی ہو۔ یہی وجہ تھی کہ جنید حفیظ کو یہ ملازمت حاصل کرنے سے روکنے کے لئے انہوں نے ان پر سوشل میڈیا پر توہینِ مذہب کے مرتکب ہونے کا الزام لگایا۔

13 مارچ 2013 سے جنید حفیظ زیرِ حراست ہیں اور ان کی حفاظت کے لئے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کے پہلے وکیل راشد رحمان کو 2014 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کے وکیل جن کا تعلق لاہور سے ہے، کئی سال تک ملتان کی سیشن کورٹ میں اس مقدمے کی پیروی کرتے رہے۔

ان کے موجودہ وکیل کا کہنا ہے کہ استغاثہ مسلسل مقدمے میں تاخیری حربے استعمال کرتا رہا تھا اور اس کی جانب سے جنید حفیظ کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جج پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ استغاثہ کے حق میں فیصلہ دے۔

سکالرز ایٹ رسک سمیت بہت سی بین الاقوامی تنظیموں، academics اور انسانی حقوق کے کارکنان نے جنید حفیظ کے لئے آواز اٹھائی ہے لیکن انصاف کا نظام جنید کو انصاف دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *