معرکۂ حق کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور اس وقت تاریخ کے بدترین حالات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر پائے جاتے ہیں۔ ہر طرح کے روابط ختم ہیں اور عالمی سطح پر کھینچا تانی جاری ہے۔ نریندر مودی بھارت میں تیسری بار وزیرِاعظم بنے ہیں، مگر ان کی ہندوتوا نظریاتی سوچ نے جہاں شروعات میں انہیں پذیرائی بخشی تھی، وہیں بھارت اس وقت اندرونی طور پر اس نظریے سے تنگ آ چکا ہے۔
مودی نے 2014 میں اپنے ابتدائی دور میں نواز شریف کے ساتھ بطور وزیرِاعظم تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تھی اور پاکستان نے بھی اس کا خیرمقدم کیا تھا، لیکن یہ وہی نظریہ تھا جس پر کانگریس اور دیگر جماعتیں بھی چلتی رہی ہیں، لہٰذا مودی کو وہ پذیرائی نہیں مل پائی تھی کہ وہ کچھ الگ کر کے خود کو بھارتیوں، خصوصاً ہندوؤں، میں نمایاں کرتے۔ اس کے بعد ان کے سخت موقف نے انہیں بھارت میں ایک نمایاں مقام دیا، مگر سخت موقف کو بروئے کار لاتے ہوئے جن بلنڈرز کا مودی نے ارتکاب کیا، اس نے بھارت میں مودی کی نظریاتی سوچ کو باقاعدہ فاشسٹ سوچ قرار دیے جانے کی راہ ہموار کی۔ معرکۂ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد مودی کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھوک دی گئی۔
بھارت اپنی اصل میں ایک سیکولر ملک ہے، لہٰذا وہاں کے عوام کی سوچ حقیقتاً سیکولر ہے۔ وہ وقتی طور پر بہک سکتے ہیں، مگر مستقل طور پر بہک جائیں، یہ ممکن نہیں، کیونکہ وہاں عمومی طور پر گاندھی کا نظریہ ہی ان کی ریاستی بنیاد ہے۔
معرکۂ حق کے بعد جہاں بھارت نے عالمی سطح پر خود کو سچا اور درست ثابت کرنے کی کوششیں کیں اور ناکامی کا سامنا کیا، وہیں وہاں کی اپوزیشن جماعتوں سمیت کاروباری حضرات، دانشور طبقہ اور اب طلبہ بھی براہِ راست مزاحمت اور پالیسی میں تبدیلی کے لیے سامنے آ گئے ہیں۔
ایک ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت میں مڈل مین سمجھے جانے والے ایک گروپ، جس میں بھارتی دانشور، کاروباری حضرات اور چند سفارتی ماہرین شامل ہیں، نے بی جے پی کو قائل کیا ہے کہ سخت موقف میں نرمی لائی جائے۔ حکومتی سطح پر نہیں، مگر آرٹ، کلچر اور عوامی سطح کے روابط کو پاکستان کے ساتھ استوار کرنے کی اجازت دی جائے، جس سے یہ بھی نہ لگے کہ بھارتی حکومت نے پہل کی ہے اور تعلقات بھی بہتر ہو جائیں۔
سب سے اہم بات جو سامنے آئی ہے، وہ یہ ہے کہ بھارت اپنے محدود سفارتی عملے، جو پاکستان میں کام کر رہا ہے، میں تبدیلی کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے، تاکہ محدود سفارتی عملے میں بھی ان خاص اشخاص کو شامل کیا جائے جو پسِ پردہ پاکستانی حکومت سے سفارتی تعلقات میں نرمی کے لیے کام کریں۔ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی سفارت خانوں میں موجود سفارتی عملے سے بھی بھارتی حکومتی افراد اور مڈل مین گروپ کے لوگوں نے ملاقاتیں بڑھائی ہیں، جو کہ غیر رسمی ہیں، مگر تعلقات کی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
نریندر مودی کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگلا الیکشن آپ پاکستان دشمنی کے ایجنڈے پر نہیں لڑ سکتے اور نہ ہی اب عوام اس چورن کو خریدنے پر آمادہ ہیں۔ لہٰذا کھلے عام نہیں، مگر پسِ پردہ نرمی رکھتے ہوئے اب امن کی بات کر کے ووٹ کی مہم چلائی جائے، تاکہ عوام کے ذہنوں سے پرانی باتیں، معرکۂ حق کی شکست، بھارتی فوجیوں اور ایئر فورس کی سبکی اور سفارتی ناکامی کو بھلایا جا سکے۔
اطلاعات اس بات کی بھی موجود ہیں کہ حکومتی ارکان نے بھارتی ریاستی، خصوصاً بی جے پی کے موقف کو پیش کرنے اور پروپیگنڈا کرنے والے نیوز چینلز اور صحافیوں کو بھی ہاتھ ہولا رکھنے کی ہدایت کی ہے کہ کسی قسم کا اضافی پروپیگنڈا نہ کیا جائے۔ میڈیا کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگلے انتخابات کی تیاری کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار مہم پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ کانگریس کے خلاف چلائی جائے اور اندرونی معاملات پر زیادہ زور دیا جائے۔