16جنوری 2025 کومحلہ چوہدریاں ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں واقع قیام پاکستان سے قبل کی تعمیر کردہ جماعت احمدیہ کی قدیمی عبادت گاہ کو ناجائز تجاوزات کی آڑ میں مسمار کر دیا گیا۔ مزکورہ عبادت گاہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چوہدری سر محمد ظفراللہ خان نے تعمیر کروائی تھی ۔گذشتہ چند روزپہلے مؤرخہ 16 جنوری 2025ء کو ڈسکہ کلاں ضلع سیالکوٹ کی احمدیہ بیت الذکر کو انتظامیہ نے مسمار کردیا ہے۔
بعد ازاں کل مؤرخہ 16 جنوری کو اچانک شام کے بعد ACڈسکہ ماہم مشتاق دیگرانتظامیہ اور پولیس کے ہمراہ آئیں۔ انہوں نے علاقہ کی بجلی منقطع کی اور بیت الذکر کی دونوں اطراف کو بند کرکےآپریشن کا آغاز کیااور رات7 بجے سے لیکر 11 بجے تک کارروائی کی گئی۔ جب انتظامیہ نے نوٹس کے مطابق زائد حصہ کو گرادیا تو عبادتگاہ میں موجود احباب جماعت نے انتظامیہ کو کہا کہ آپ کی متعلقہ حدود مکمل ہو گئی ہیں ۔ جس پر کرین چلانے والے نے ان افراد کو کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ ورنہ آپ پر بھی کرین چڑھا دونگا۔ چنانچہ ACاور دیگر انتظامیہ سے ملنے کے لئے رابطہ کیا گیا جو قریب ہی کسی جگہ پر تھیں ،تاہم ان سے ملنے نہیں دیا گیا اور نہ ہی وہ خود سامنے آئیں۔کارروائی جاری رکھتے ہوئےانتظامیہ نے عبادتگاہ کو مکمل مسمار کردیا۔
یہ بیت الذکر قیام پاکستان سے قبل کی تعمیر شدہ ہے اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی آبائی عبادتگاہ ہے۔یہاں 32 احمدی گھرانے آباد ہیں.
ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان عامر محمودنے کہا ہے کہ سرکاری انتظامیہ کا اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے احمدیوں کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔