صحافت کو پیکا ایکٹ کی ضرورت نہیں ۔۔۔!

چار مارشل لا ء دیکھنے کے بعد اب صحافت میں اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ وہ ”ہائبرڈ نظام“کے پیداوار جمہوری حکمرانوں کے سامنے چٹان کی دیوار ثابت ہوسکے ! مشرف دور میں تو کم از کم صحافت کو اتنی سختیوں کا سامنا نہیں رہا جس قدر موجودہ دور میں 'بنگلہ دیش 'ماڈل پر کمر بستہ سرکار سے ہے

03:02 PM, 27 Jan, 2025

ارسلان سید

صحافت  کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ پاکستانی صحافت نے خود کرنا ہے کوئی طالع آزما آمر یا جمہوریت کے لبادے میں چھپی آمریت  ہرگز نہیں کرسکتی۔ لیکن پاکستان کی  بیچاری لولی لنگنڑی  صحافت نے تو کبھی یہاں اپنے پاوں پر کھڑا ہونا سیکھا ہی نہیں ہے ، چار مارشل لا ء دیکھنے کے بعد اب صحافت میں اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ وہ ”ہائبرڈ نظام“کے پیداوار جمہوری حکمرانوں کے سامنے چٹان کی دیوار ثابت ہوسکے ! مشرف دور میں تو کم از کم صحافت کو اتنی سختیوں کا سامنا نہیں رہا جس قدر موجودہ دور میں”بنگلہ دیش“ماڈل پر کمر بستہ سرکار سے ہے ۔ 

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز  کے اعداد و شمار کیمطابق پاکستان میں گذشتہ سال 2024میں سات صحافیوں کو قتل کردیا گیا ۔ کیا کبھی کسی نے صحافی کو بچانے کیلئے کوئی ایکٹ لانے کی کوشش کی ، کیا پاکستانی  عوام نے  کسی دن یہ سنا ہو کہ  عوام کے منتخب ایوان (پارلیمنٹ)سے کسی رکن نے کوئی ایسا   بل پیش کیا ہو جس میں صحافیوں  کو غیر جمہوری طاقتوں کی جانب سے درپیش خطرات کا ذکر کیا گیا ہو ۔ یہ صرف ان جمہوری ممالک میں ہوتا ہے جہاں احتسابی کا نظام رائج ہو مگر ہمارے ہاں تو بدقسمتی سے 'ہائبرڈ'نظام رائج ہے ۔

میں اپنی انہی تحریروں میں آواز اٹھاتا رہا ہوں  کہ صحافت کو خود احتسابی کانظام قائم کیے بغیر مضبوط نہیں ہوسکتی ۔ اب  حکومتیں صرف صحافت کو گلا نہیں گھونٹیں  گی بلکہ عملی طور پر قبر میں اتار کر آئیں گی ۔میڈیا کی سکرینیں سرخ کردی گئیں اور کہا گیا کہ   پیکا ایکٹ کی منظوری کیخلاف صحافیوں نے ایوان کی ”پریس گیلری“ سے علامتی بائیکاٹ کردیا ، جبکہ اسی روز پراپرٹی ڈیلروں ، بیکریوں کے مالکوں اورتاجروں پر مشتمل پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی جبکہ میڈیا کی تسلی کیلئے باقاعدہ ملاقات کی تصاویر بھی جاری کی گئیں ۔ وفد کے چہروں پر پھیلی ہوئی مسکراہٹوں سے ملاقات کا  احوال عیاں ہورہا تھا ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس ”رسمی ملاقات “ کے محض چند ہی گھنٹوں بعد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں پیکا ترمیمی ایکٹ 2025پیش کر دیا اور جس کی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری بھی دے دی۔وزیراعظم ہاوس کی جانب سے جاری پریس ریلز میں کہا گیا کہ  : ”ملک میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے اور حکومت میڈیا کےریاست کا چوتھا ستون ہونے پر یقین رکھتی ہے ۔“اس پریس ریلز میں حیرت انگیز طور پر پیکا ایکٹ کے حوالے سے ایک لفظ بھی شامل نہیں کیا گیا ، یہ  میڈیا مالکان اور حکومت کا گٹھ جوڑ نہیں تو اور کیا ہے ، کیا پاکستان براڈکاسٹرز ایسوی ایشن کی وہی روایتی مصلحت   اس بار بھی سامنے آئی جس کے تحت پریس ریلز میں پیکا ایکٹ کا ذکر لانا ہی گوارا نہ کیا گیا ایک ایسا ایکٹ جس کیخلاف انہی مالکان کا میڈیا چیخ و پکار کررہا ہے!

یہ کرتب اور اداکاریاں شہباز شرکار کا ہمیشہ سے خاصہ رہی ہیں ۔پیکا ایکٹ کا مسودہ توجن حلقوں کی جانب سے آیا ہے وہاں پاکستانی صحافت کے صرف  پُر ہی نہیں جلتے بلکہ وہاں کی ہوائیں جب چلتی ہیں تو پھر صحافت اپنی سمت تبدیل کرنے میں لمحے بھر کی دیر نہیں لگاتی ۔ پنجاب میں گذشتہ شہباز شریف حکومت نے اپنے دس سالہ دور میں کیسے میڈیا مینجمنٹ کی یہ الگ کہانی ہے پھر کسی دن ضرور سناوں گا ، شہر لاہور کی صحافت اور 8کلب روڈ پر نظر رکھنے والے تحقیقاتی صحافی خوب جانتے ہیں کہ دس سالوں کے دوران میڈیا مینجمنٹ کے ذریعے کیسے” کارروائیاں “ڈالی جاتی رہیں، ایسے ہی تو نہیں ٹی ٹی اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا  ، کوئی تو تھا جسےشہید  ارشد شریف کے پروگراموں میں دیکھائے جانیوالے حقائق سے پریشانی تھی ،ارشد شریف شہید نے جب ٹی ٹی اسکینڈل کے کرداروں کو آشکار کرنا شروع کیا تھا تو ایوان وزیراعلی کے اس وقت کے مکینوں کی راتوں کی نیندیں غائب ہوگئیں تھیں ۔ فائلیں بننے کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے فائلیں  تو آج بھی بن رہی ہیں لیکن شاید ٹی ٹی اسکینڈل کی فائلوں کا ریکارڈ کوئی نہ توڑ سکے ۔

فیک نیوز کے نام پر سینسر شپ کی نئی یلغار

اب پیکا ایکٹ  کی منظوری کے بعد ایسے واویلا مچایا جارہا ہے جیسے پاکستان میں پہلی بار صحافتی قوانین کو متعارف کرایا گیا ہو ،  پیکا ایکٹ 2025 کے تحت متعارف کرائی گئی نئی شق 1 اے کے تحت ایک نئی اتھارٹی بنائی جاری ہے جس کا نام  سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹیرکھا گیا ہے  جس کے دفاتر اسلام اور چاروں صوبوں میں قائم ہوں گے ۔ 9ارکان پر مشتمل اتھارٹی میں سیکرٹری داخلہ ، چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین پیمرا اتھارٹی کے ایکس آفیشو(سرکاری) اراکین ہوں گے، بیچلرز ڈگری ہولڈر اور فیلڈ میں کم از کم 15 سالہ تجربہ کار اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا جا سکے گا اور چیئرمین اور پانچ اراکین کی تعیناتی 5 سال کے لیےکی جائے گی۔ جبکہ صحافیوں کو بھی نمائندگی دی گئی ہے جس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے،پانچ اراکین میں 10 سالہ تجربہ رکھنے والا صحافی، سافٹ ویئر انجنئیر بھی شامل ہوں گے، اس کے علاوہ اتھارٹی میں ایک وکیل، سوشل میڈیا پروفیشنل نجی شعبے سے آئی ٹی ایکسپرٹ بھی شامل ہو گا۔ ترمیمی بل کے تحت اس اتھارٹی کے خدوخال سے ہی اندازہ ہوجانا چاہیے کہ حکومت کی نیت کیا ہے ، اگر کسی کو کوئی ابہام ہے تو آنیوالے دنوں میں جب اتھارٹی اپنے کام کا آغاز کرے گی تو وہ ابہام بھی دور ہوجائے گا لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر حکومت کو کیوں اچانک ایک ایسی سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی ؟ترمیمی بل کے تحت اتھارٹی  کے قیام کا مقصد سوشل میڈیا صارفین کے  حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے یہ سلسلہ صرف حقوق کے تحفظ تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ حکوت نے چار قدم آگے بڑھاتے ہوئے  اتھارٹی  کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کا  مجاز بھی بنادیا ہے اس کے علاوہ  اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کی منسوخی، معیار کے تعین کی مجاز ہوگی اور اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کرسکے گی ۔ ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد  کو ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی  بھی مجاز ہو گی اور سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں پر کوئی بھی  فرد 24 گھنٹے میں درخواست دینے کا پابند ہو گا۔ترمیمی بل کے مطابق فیک نیوز پر پیکا ایکٹ کے تحت 3 سال قید اور 20 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکیں گی، غیرقانونی مواد کی تعریف میں اسلام مخالف، ملکی سلامتی یا دفاع کے خلاف مواد اور جعلی یا جھوٹی رپورٹس شامل ہوں گی، غیرقانونی مواد میں آئینی اداروں بشمول عدلیہ یا مسلح افواج کے خلاف مواد شامل ہوگا۔ حکومت نے پھرتیاں دیکھاتے ہوئے  ایک ہی جھٹکے میں پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹیDRPA کے علاوہ  دو مزید نئے ادارےبھی قائم کرڈالے ، جن میں ایف آئی اےکے سائبرکرائم ونگ کی جگہ National cyber crime Investigation Agencyاور سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل  شامل ہیں ۔ ٹربیونلز سوشل میڈٖیا ٌپروٹیکشن اتھارٹی کی جانب سے فراہم کیے گئے کیسز پر 90 روز کے اندر فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ جبکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی  گیشن ایجنسی  NCCIAکے قیام کے بعد ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو ختم کردیا جائے گا ۔ 8ارکان پر مشتمل اس ایجنسیNCCIA میں حکومت کی جانب سے تعینات کیے گئے ارکان کی  تعداد پانچ ہوگی ۔ریاست کی لیبارٹری سے نکلے اس تازہ ترین شاہکار کو ابھی سینما گھروں کی زینت بننا ہے لیکن عوام کے منتخب نمائندوں کی جانب سے اتھارٹی کو  اتنے وسیع پیمانے پراختیارات دینا حکومتی بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے ،  فیک نیوز کے نام پر ڈالی گئی واردات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل صحافت کو آئی سی یو پر ڈالنے کی تیاری ہوچکی ہے ،کیا ڈیجیٹل میڈیا  پابندیوں کے ایک نئے سلسلے کا سامنے کرنے کیلئے تیار ہے اس کا جواب نفی میں ہے ! وزیراعظم سے ملاقات کے بعد وزیراعظم ہاوس کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلز میں پیکا ایکٹ کے حوالے سے ایک لفظ بھی شامل نہیں کیا گیا ، صرف وہی روایتی اظہار رائے کی مکمل آزادی  اور میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کرنے کے ریاست  کے”یقین “کو دہرایا گیا ۔

اس پریس ریلز میں پیکا ایکٹ کے حوالے سے ایک بھی لفظ کا شامل نہ کیا جانا واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے میڈیا مالکان کو میڈیا کی آزادی سے کوئی غرض نہیں وہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے  میڈیا کا کاروبار چلائے ہوئے ہیں اور عوام کو نہایت کامیابی کیساتھ بیوقوف بنانے کا سلسلہ جاری ہے ، لیکن سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا صحافت کو پیکا ایکٹ کی ضرورت ہے ، 77سالوں میں میڈیا کو لگام ڈالنے کیلئے کئی کالے قوانین آئے جنہوں نے اگرچہ صحافت کونقصان پہنچایا لیکن آزاد صحافت ان مشکل ادوار سے بالاخر باہر نکل ہی آئی ، لیکن اس کیلئے جدوجہد صحافت نے خود شروع کی اور آج کا المیہ بھی یہی ہے کہ اگر صحافت کو آزاد ہونا ہے تو اسکئے صحافت کو خود احتسابی کا نظام قائم کرنا ہوگا یہی ایک صورت ہے کہ صحافت حکومتوں کی آئے روز کی مداخلتوں سے چھٹکارا پاسکتی ہے ، یہ فیصلہ اب صحافت نے خود کرنا ہے کہ اسے سرمایہ داروں ، پرپارٹی ڈیلروں اورفیکٹری مالکان کی غلام بن کر رہنا ہے یا خود احتسابی کو اپناتے ہوئے اپنے لیے ایک آزاد اور مستحکم صحافت کے طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے ! اسلئے صحافت کیلئے مستقبل میں بھی ایسے لاتعداد "پیکا"ایکٹ آتے رہیں گے ، جن سے صحافت کو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے نظام میں اتنی قوت پید اکرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ان کالے قوانین کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے اسی سے صحافت آزاد ہوسکتی ہے!

مزیدخبریں