(تحریر:جے پال سنگھ)
23 مارچ جس کو قرارداد پاکستان کہتے ہیں ، جو جوش و خروش کے ساتھ ہر سال 23 مارچ کو منایا جاتا ہے اس پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، اس دن بہت سے لوگوں کو ستارہ امتیاز دیا جاتا ہ۔ اس دن وزیراعظم اور صدر کو پروٹوکول کے ساتھ پریڈ گراؤنڈ میں لایا جاتا ہے ،اس دن وزیراعظم اور صدر اپنے بیان میں اس ملک کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں پتہ اصل میں 23 مارچ قرارداد پاکستان ہے یا پھر 24مارچ کیوں 1953 سے پہلے اس کو یوم جمہوریہ پاکستان کہا جاتا تھا۔ لیکن پھر کسی نے کہا یہ جمہوریا پاکستان نہیں قراداد پاکستان ہے جس کا ٹھیک سے وجود ہی نہیں ہے وہ دن یاد ہے، لیکن اس ملک میں رہنے والا ایک عظیم انسان جس کو انگریزوں نے23 مارچ کے دن پھانسی پہ چڑھا دیا تھا،اس انسان کو یہ حکومت بھول گئی، لیکن یہاں کے حکمرانوں کو یہ نہیں پتہ وہ کتنا عظیم انسان تھا۔
اس عظیم انسان کا نام بھگت سنگھ ہے اس کا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب سے ہے یہ اس دن پیدا ہوا تھا، جب اس کے باپ کرشن سنگھ کو انگریزوں کی جیل سے آزادی ملی تھی۔ اس خاندان میں ایک خاص بات یہ تھی پورا خاندان انگریزوں کے خلاف احتجاج کرتا تھا۔بھگت سنگھ نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی اس بعد 1923 میں نیشنل کالج میں داخلہ لے کر اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا وہ مذمتی شاعری کا شوق رکھتے تھے۔ جس میں فیض اور میر کو بہت پسند کرتے تھے اور انگیزوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔
اس نفرت نے 23مارچ 1923کو اسکے اپنے 2 دوست سکھدیو اور راج گرو کے ساتھ لاہور سینٹر جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا۔ پھانسی پر لٹکتے وقت انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائے گئے، اس سے ان کی آنکھیں میں خوف نہیں بلکے جوش اور جنوں تھا۔ آج دنیا اس کو انقلابی کے نام سے بھی جانتی ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج اس انسان کو نہ پاکستان کی کتابوں میں پڑھایا جاتا نہ انڈیا کی کتابوں میں ویسے اس پر حق پاکستان کا بنتا ہے کیوں کہ اس عظیم انسان کی پیدائش پاکستان کے خطہ میں ہوئی تھی ۔
لیکن سوال یہ ہے پاکستان کی حکومت کیوں نہیں اون کر رہی ہے؟آج مذہب کے وجہ سے اس عظیم انسان کو بھولایا جا رہا ہے پھر کوئی کیسے کہہ سکتا ہے یہاں برابر کے حقوق ملتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت کو اس کے بارے میں ایک بار ضرور سوچنا چاہیے، کیوں کہ اس عظیم انسانوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے اور اس نا انصافی کی وجہ سے بہت سے نوجوانوں کو پتہ ہی نہیں ہے بھگت سنگھ کون تھا۔ لیکن جو جھوٹ پر بنائی گئی تاریخ سب کو یاد ہے۔ اب تو نوجوانوں کو بھی سمجھ میں آ رہا ہے جو مطالعہ پاکستان پڑھایا جا رہا ہے۔ وہ جھوٹ ہے اب اس پر کوئی یقین نہیں کرنے والا ہے۔
اس پر وقت برباد کیا جا رہا ہے، اگر پڑھنا ہے تو سچ پڑھوں عظیم لوگوں کے بارے میں پڑھوں جنہوں نے تاریخ میں اپنا نام درج کروایا ہے ،جن کو دنیا یاد کرتی ہے۔خدا کے لئے نوجوانوں کے ساتھ ظلم نہ کریں، انہیں سچ پڑھنے دیں جھوٹ نہیں، جھوٹ پڑھنے سے کچھ نہیں ہو گا۔75 سال سے جھوٹ پڑھتے آ رہے ہو اور اس ملک کی تباہی کر دی ہے، اب اور تباہی نہ کروائیں نوجوانوں کے ساتھ انصاف کریں۔