Type to search

انٹرٹینمنٹ خبریں سیاست فیچر قومی

’‎ہم دیکھیں گے‘: جب اقبال بانو مزاحمت کی آواز بن گئیں

ملکہ غزل اقبال بانو کی 81ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے، گوگل نے انہیں ڈوڈل کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا ہے۔

معروف نغموں کو اپنی آواز دینے والی شہرت یافتہ گلوکارہ 1935 کو دہلی میں پیدا ہوئیں۔ اقبال بانو نے دہلی میں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی اور آل انڈیا ریڈیو کے دہلی اسٹیشن کے ذریعے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

اقبال بانو نے یوں تو ہر طرح کے گیت گائے لیکن ان کی شہرت کا سبب غزلیں اور نظموں کی شاندار گائیکی بنی۔ ملکہ غزل نے فیض احمد فیض کے کلام کو گا کر امر کر دیا۔

فیض کی شاعری اور اقبال بانو سے جڑا ایک واقعہ آج بھی مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 1986 کا سال تھا اور ملک پر جنرل ضیا الحق کا مارشل لا نافذ تھا۔ پاکستان میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر فیض احمد فیض کی شاعری پیش کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی لگی ہوئی تھی۔ پابندی کی وجہ سے انتظامیہ نے بہت مشکل سے فیض احمد فیض کی سالگرہ منانے کی اجازت دی۔

جنرل ضیا کے پاکستان میں نہ صرف فیض پر پابندی تھی بلکہ عورتوں کو ساڑھی پہننے کو بھی حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ ایسے میں اقبال بانو فیض کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور کے الحمرا آڈيٹوريم میں پہنچیں۔ اقبال بانو اس دن ریشمی ساڑھی پہن کر آئیں اور انتظامیہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انھوں نے ’ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ گایا اور پورے لاہور نے ان کے سُر میں سُر ملایا۔

پاکستان کی نامور گلوکارہ ٹینا ثانی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ اس روز میں بھی وہاں موجود تھی۔ لوگ اتنے زیادہ تھے کہ ہال کے دروازے کھول دیے گئے تھے۔ لوگوں کے مطالبے پر ہال کے باہر لاؤڈ سپيكروں کا انتظام کیا گیا تھا۔ جیسے ہی اقبال بانو نے ’‎ہم دیکھیں گے‘ گانا شروع کیا، لوگ کھڑے ہو گئے اور ان کے ساتھ گانے لگے۔

لوگوں کے جوش کو کم کرنے کے لیے وہاں موجود پولیس والوں نے ہال کی بتیاں بجھا دیں لیکن اقبال بانو نے تب بھی گانا جاری رکھا اور ان کے ساتھ ہزاروں کی بھیڑ نے بھی۔

ٹینا ثانی بتاتی ہیں کہ اس دن میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو مکمل طور پر پاگل ہوتے دیکھا۔ مجھے یاد نہیں کہ انھوں نے اسے کتنی دیر تک گایا لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ یہ گانا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ جب بھی وہ اسے ختم کرنے کی کوشش کرتیں لوگ ان کے ساتھ گانے لگتے۔ بعد میں یہ گانا ان کا ٹریڈ مارک بن گیا تھا۔ جہاں بھی وہ جاتیں، اس نغمے کی فرمائش سب سے پہلے ہوتی۔

سینئر صحافی رضا رومی نے نیا دور سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بھی اس دن الحمرا ہال میں موجود تھے۔

رضا رومی نے اس دن کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ اپنی طالبعلمی کے زمانے میں مجھے الحمرا آرٹس کونسل میں اقبال بانو کو سننے کا اتفاق ہوا، ان کی عمدہ ادائیگی کا تو ایک زمانہ معترف ہے لیکن ہال میں بیٹھے لوگوں کے جوش و جذبے نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ یہ آمریت کا زمانہ تھا اور میرے وہ دوست جو سیاسی طور پر متحرک تھے ان کے لیے اقبال بانو کی آواز اور فیض صاحب کا کلام ایک جادو کی طرح تھا اور سچ جانیے کہ ہم سب کئی دن اس نشے میں مخمور رہے۔

مارشل لا حکومت کو اقبال بانو کی یہ جرات سخت ناگوار گزری، حکومت نے اس گیت کو گانے کی سزا میں اقبال بانو پر پاکستانی ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر پابندی لگا دی تھی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *