Type to search

بین الاقوامی خبریں سیاست

”ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد جنرل قاسم سلیمانی کو سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا تھا“

  • 32
    Shares

آج صبح بغداد ایئرپورٹ کی قریبی سڑک پر امریکہ نے ڈرون حملہ کر کے ایران کے طاقتور جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے 7 ساتھیوں کو ہلاک کر دیا۔

حملے سے ہلاک ہونے والے افراد میں الحشد الشعبی ملیشیا کا رہنما اور عراقی فوج کے دو اہلکار بھی شامل تھے۔

امریکی محکمہ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈورن حملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کیا گیا۔ پنٹاگان نے کہا کہ جنرل سلیمانی اعراق میں امریکی سفارتکاروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی اور ان کی فوجیں سینکڑوں امریکیوں کی ہلاکت اور ہزاروں کو زخمی کرنے میں ملوث تھے۔

ایران کی اسلامی ریوولوشنری گارڈ کورپس(IRGC) کے سربراہ قاسم سلیمانی نا صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔

امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے قاسم سلیمانی کون تھے ؟

ایران کی اسلامی ریوولوشنری گارڈ کورپس(IRGC) کے سربراہ قاسم سلیمانی نا صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔

گزشتہ 20 سالوں میں لا تعداد حملوں سے اپنا بچاؤ کرنے والے قاسم سلیمانی آج صبح عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ کے قریب فضائی حملے میں جاں بحق ہوگئے۔

قاسم سلیمانی کون تھے؟

ایران کے جنوب میں واقع صوبہ کرمان سے تعلق رکھنے والے قاسم سلیمانی 11مارچ 1957 ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نےکم عمری میں اسکول اور گاؤں چھوڑنے کے بعد کرمان واٹر آرگنائزیشن نامی ایک تنظیم کے ساتھ ٹھیکیدار کی حیثیت سے 1975 میں کام شروع کیا تھا۔  ایران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے۔

1979 کے ایرانی انقلاب میں پہلی مرتبہ قاسم سلیمانی کو ملٹری ٹریننگ کا حصہ بنایا گیا اور محض 6 ماہ کی ٹریننگ کے بعد سرحد پار بھیج دیا گیا۔

ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سالہ جنگ کے دوران، وہ کرمان کی ڈویژنل آرمی کے کمانڈر تھے۔ 1988 میں جنگ ختم ہونے کے بعد وہ کرمان واپس آئے اور قدس فورس کے کمانڈر کے عہدے پر تقرری ہونے تک ایران – افغان سرحد کے قریب منشیات فروش گروہوں کے خلاف لڑے۔

قاسم سلیمانی 1998 میں IRGC کے سربراہ بنے اور شروع کے کچھ سال صرف اور صرف ایران کے تعلقات بنانے پر صرف کر دیئے۔

اس دور میں ایران کے حزب اللّہ، لبنان، سیریا اور عراق  میں موجود مختلف گروپوں سے رابطے قائم کئے گئے۔

2003 میں عراق پر امریکی جارحیت کے بعد انہوں نے وہاں سرگرم گروپوں کی امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں رہنمائی بھی کی۔ قاسم سلیمانی کو اس بات کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے کہ انہوں نے شام کے صدر بشارالاسد کو ان کے خلاف 2011 میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی بھی بنا کر دی۔

ایران کی اس مدد اور روسی فضائی مدد نے ہی بشارالاسد کو باغی فوج کے خلاف جنگ میں پانسہ پلٹنے میں مدد دی۔ گزشتہ کئی سالوں میں قاسم سلیمانی منظر عام پر آئے اور انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ اور دیگر سربراہان کے ہمراہ دیکھا گیا۔

کابوس دشمن

جنگوں میں ’بے معنی قتل و غارت‘ کے مخالف جنرل قاسم بعض اوقات اپنے جنگجوؤں کے گلے لگ کر رویا کرتے تھے۔ جنرل سلیمانی کی شخصیت کے بارے میں اس وقت زیادہ تذکرہ ہونا شروع ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران سے باہر پراکسی وارز یا درپردہ جنگی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔

بطور ایرانی اسلامی ریوولوشنری گارڈ کورپس(IRGC) کے سربراہ اور عراق میں ہونے والی جنگ میں قاسم سلیمانی کا کردار ساری دنیا کے سامنے ہے۔

قاسم سلیمانی اکثر عراق، لبنان اور شام کا سفر کرتے رہتے تھے۔ وہ امریکی اور اسرائیلیوں کے خلاف ایرانیوں کے لیے مزاحمت کی علامت تھے۔  جنرل سلیمانی کو جہاں پسند کرنے والے بہت تھے وہاں ناپسند کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی اور ان کی شخصیت کے بارے میں کئی کہانیاں گردش کرتی تھیں۔

2013 میں سی آئی اے کے سابق اہلکار جان میگوائر نے امریکی جریدے دی نیویارکر کو بتایا تھا کہ ’سلیمانی مشرقِ وسطیٰ میں سب سے طاقتور کارندے تھے۔‘

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *